جمعہ، 7 اگست، 2015

اسعد بدایونی کی غزلیں

اسعد بدایونی 1952 میں پیدا ہوئے، اور 2003 میں ان کا انتقال ہوا۔ایک خاص دور میں اردو کے لیے بہ طور خاص علمی وادبی مرکز سمجھے جانے والے علی گڑھ سے ان کا گہرا تعلق رہا۔اسعد بدایونی کی غزلیں پیش خدمت ہیں۔ان غزلوں میں سے کچھ مجھے بمجبوری جگہ کی تنگی کی وجہ سے ہٹانی پڑی ہیں، اس لیے میں نے طے کیا ہے کہ اسعد بدایونی کے اس انتخاب کو حصہ اول سے تعبیر کیا جائے، ان کا ایک اور انتخاب جلد ہی ادبی دنیا پر اپلوڈ کیا جائے گا، جس میں ان کی وہ غزلیں شامل کی جائیں گی جو اس انتخاب میں شامل نہیں کی جاسکی ہیں۔اسعد بدایونی ان شاعروں میں سے ہیں، جن کے کلام کی خوبی کے باوجود وہ بہت حد تک اس طرح اردو تنقید کا موضوع نہیں رہے، جس طرح انہیں ہونا چاہیے تھا، یہ اسی طرح کا سلوک ہے، جیسا کہ دیگر اچھے ہندوستانی شعرابانی، زیب غوری اور آشفتہ چنگیزی وغیرہ کے ساتھ روا رکھا گیا۔اب اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں، فی الحال ہمیں ان چیزوں کو یکجا کرکے دوبارہ ان پر غور کرنا چاہیے، جن پر بات کم ہوئی یا سرے سے نہیں ہوئی ہے۔اسعد بدایونی کی غزلوں پر بھی دوبارہ توجہ دنیا ضروری ہے، اور وہ اب آن لائن کاپی ایبل ٹیکسٹ کی صورت میں آپ کے سامنے موجود ہیں۔یہ قریب ساٹھ ستر غزلیں یا ان سے کچھ کم یا زائد ہونگی،امید ہے کہ آپ کو یہ پیشکش پسند آئے گی۔شکریہ!

تلاشِ رزق میں دیوان کرتارہتا ہوں
ابھی سفر نہیں سامان کرتا رہتا ہوں

خود اپنی راہ میں اکثر پہاڑ اگاتاہوں
خود اپنی مشکلیں آسان کرتا رہتا ہوں

سجاتا رہتاہوں کاغذ کے پھول شاخوں پر
میں تتلیوں کو پریشان کرتارہتا ہوں

میں تخمِ اشک سے طوفاں اگانے کی ضد میں
تمام شہر کو حیران کرتا رہتا ہوں

مرے مکاں میں دھواں بھی گھٹن بھی ہے لیکن
میں خوشبوؤں کوبھی مہمان کرتارہتا ہوں
***

مآلِ برگ، ہوا کو پتہ ہے یامجھ کو
ہر ایک جبر خدا کو پتہ ہے یا مجھ کو

مرے بدن کے فلک پر کئی ستارے ہیں
مگر یہ دل کے خلا کو پتہ ہے یامجھ کو

بس ایک نام سماعت میں زندہ ہے اب تک
وہ راز صرف ہوا کو پتہ ہے یا مجھ کو

جو ایک خواب کی تصویر میں نظر آیا
وہ رنگ برگِ حنا کوپتہ ہے یا مجھ کو

نہیں وہ جسم نہیں پھول ہیں لباس میں قید
یہ بات بندِ قبا کوپتہ ہے یا مجھ کو

اکیلے میں بھی کبھی بھول کر نہ رویامیں
مری شکست خدا کو پتہ ہے یا مجھ کو
***

ضرورت کے بھنور حالات کے پانی میں آتے ہیں
سو اونچے داموں والے لوگ ارزانی میں آتے ہیں

ستارے آسماں سے ٹوٹتے ہیں کس لیے اکثر
بلندی سے یہ کیوں پستی کی مہمانی میںآتے ہیں

تم ان آنکھوں میں آنسو ڈھونڈتے ہوخشک موسم میں
پرندے جھیل پر شامِ زمستانی میں آتے ہیں

فصیلوں پر کھڑی فوجوں کی آنکھیں پھوڑ کر اکثر
کئی دشوار رستے شہر آسانی میں آتے ہیں

گریباں پھاڑنا پستی میں کچھ اچھا نہیں لگتا
مزے وحشت کے صحراؤں کی ویرانی میں آتے ہیں
***

دکھ ازل سے یہاں رائیگانی کے ہیں
سب گرفتار دنیائے فانی کے ہیں

دیکھتاہوں کئی کشتیاں خواب میں
یہ تو آثار نقلِ مکانی کے ہیں

چاند الجھا ہوا ہے درختوں سے کیوں
کیا یہ پرچم کسی شادمانی کے ہیں

یا ہواؤں کے اعصاب کمزور ہیں
یاچراغوں پہ دن مہربانی کے ہیں

اک مکاں یادعاؤں کا اک سائباں
پیڑ جس میں کئی رات رانی کے ہیں
***

نفیِ ذات کے منظر اتارنے والا
وہ کشتیوں میں سمندر اتارنے والا

ہواکی لہر کو نفرت کازہر بھی دے گا
کئی چراغ مرے گھر اتارنے والا

شکستہ تیغ سے پوچھا زمینِ مقتل نے
کہاں گیا وہ ہنر سراتارنے والا

ابھی ابھی کوئی جھونکا اِدھر سے گزرے گا
شجر کے جسم سے زیور اتارنے والا

میں بجھ گیاتو مری راکھ سے طلوع ہوا
فصیلِ خواب کے پتھر اتارنے والا
***

مرے آئنے میں نہ دیکھیے کسی ایسے ویسے ملال کو
میں غبار کرکے اڑاچکاکئی قیمتی مہ وسال کو

مری رات میں ہے جوروشنی اسی اسم کا یہ طلسم ہے
اسی واسطے تو بجھادیا ہے ہر اک چراغ وصال کو

مجھے نجدِ خواب میں چھوڑ کر کوئی شخص کب کابچھڑگیا
مری وحشتوں کی خبر اگر ہے تو صرف اس کے غزال کو

میں دکھوں کی شمعیں جلاؤں گا مگر اس طرح کہ دھواں نہ ہو
میں سوال میں نہ اٹھاؤں گا کبھی اپنے دستِ کمال کو

جنھیں منظروں میں کسی کمی کاگلہ ہے رب کریم سے
سو انھوں نے دیکھا نہیں ابھی ترے روپ کو تری چال کو
***

دعا کا حرف یہاں محترم نہیں ہوگا
یہ ریگ زار ہے اشکوں سے نم نہیں ہوگا

کھلا کہ موج انہیں پانیوں کاحصہ ہے
سو اب مقابلہ بیش وکم نہیں ہوگا

یقیں دلاکے مجھے لے چلے ہیں مقتل کو
ستم گراں کہ نہیں اب ستم نہیں ہوگا

معاملات توبنتے بگڑتے رہتے ہیں
میں وہ کروں گاکبھی جس کاغم نہیں ہوگا

دمِ وصال جو آئے گا اس کے چہرے پر
دھنک کے رنگ سے وہ رنگ کم نہیں ہوگا

مراخیال ہے آباد اس کے ہونے سے
یہ اوربات کہ اب وہ بہم نہیں ہوگا
***

ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں
وہ سوچتا ہے کہ اس کے خیال میں گم ہیں

ہرایک لمحۂ لذت حساب مانگتا ہے
سو ہم بھی سب کی طرح اک سوال میں گم ہیں

شفق کی آنکھ کسے رورہی ہے مدت سے
دیار و دشت سبھی کس ملال میں گم ہیں

رتوں کے دائرے کیوں آج تک سلامت ہیں
تمام سلسلے کیوں ماہ وسال میں گم ہیں

یہ چاند جھیل کے پانی سے ہم کلام ہے کیوں
کنارے کس لیے رنج وملال میں گم ہیں
***

میں دھول میں پھول کھلاتاہوں اس موجِ رواں کے اشارے پر
کبھی ایک یقیں کی سرحد پر کبھی ایک گماں کے کنارے پر

سب منظر ٹھہرا ٹھہرا تھا سناٹا گہرا گہرا تھا
اک نام نے دل پر دستک دی اک بوند گری انگارے پر

کب آب خنک کی نہر ملی کب کوئی نگاہ مہر ملی
کس دھرتی نے کس مٹی نے احسان کیابنجارے پر

آنکھوں کوتوہر اک منظر سے سمجھوتے کی عادت تھی سورہی
دل دنیا سے بیگانہ تھاافتاد پڑی بیچارے پر

میں عالم سارا چھان گیا ہر چہرے کوپہچان گیا
مرے خوابوں کی آبادی ہے شاید کسی اورستارے پر
***

ترا غرور مری عاجزی ہے کتنی دیر
بذات خود یہ حسیں زندگی ہے کتنی دیر

چراغِ راہگزر سے ہوا نے ہر لمحہ
یہی کہا ہے تری روشنی ہے کتنی دیر

بس ایک لمس ہی کافی ہر اک تباہی کو
مزاجِ غنچہ ہوا پوچھتی ہے کتنی دیر

یہ رت جگے بھی وراثت ہیں اگلی نسلوں کو
ہر ایک آنکھ یہاں جاگتی ہے کتنی دیر

ہر اختتام سفر جسم وجاں کوتوڑتاہے
تھکن دلوں کوسکوں بانٹتی ہے کتنی دیر

بس ایک وہم کا منظر ہے ساری آنکھوں میں
نظر کسی کویہاں دیکھتی ہے کتنی دیر
***

دکھ بہت ہوتے ہیں یادوں کی پذیرائی میں
اب اسے سوچنامت موسمِ تنہائی میں

صرف اک بار مناظر پہ نظر ڈالی تھی
سو اسی دن سے کمی آگئی بینائی میں

بے ضمیری کی بدولت تروتازہ ہیں سبھی
ورنہ اک قہر ہے ہر روح کی گہرائی میں

کوئی زنجیر سے خائف کوئی رسوائی کادوست
بس یہی فرق ہے نادانی ودانائی میں
***

دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرناہے
کہ اب اس سے ملاقاتوں میں کچھ تاخیر کرناہے

مرے پچھلے بہانے اس پہ روشن ہوتے جاتے ہیں
سو اب مجھ کو نیا حیلہ نئی تدبیر کرناہے

کماں داروں کواس سے کیا غرض پہنچے کہ رہ جائے
انہیں تو بس اشارے پر روانہ تیر کرنا ہے

ابھی امکان کے صفحے بہت خالی ہیں دنیا میں
مجھے بھی ایک نوحہ جابجا تحریر کرناہے
***

بدن کے طاقچے میں گرد ہے گزرے زمانوں کی
بشارت دے کوئی شمع ہوس آئینہ خانوں کی

اگرچہ قافلہ رخصت ہوئے مدت ہوئی لیکن
صدائیں دشت میں زندہ ہیں اب بھی سار بانوں کی

ابھی تو میں کسی دیوار پر تکیہ نہیں کرتا
ضرورت دھوپ کے موسم میں ہوگی سائبانوں کی

اصولوں سے زیادہ جان پیاری سب کوہوتی ہے
سو میں نے بھی قصیدے شان میں لکھے کمانوں کی
***

مجھے نظر سے تجھے شاخ سے گرا بھی گئے
ہوا کے ہاتھ چراغوں کے دل بڑھا بھی گئے

سفارتوں پہ رہے عشق کم عیار کی ہم
سو نازِ حسن دو روزہ بہت اٹھا بھی گئے

ہمارا کیاہے مریدانِ عصر ہیں ہم لوگ
ہوا چلی ہے تو پیرانِ پار سا بھی گئے

تمام حیلہ وتدبیر بے اثر ہیں کہ اب
چراغِ انجمن خواب جھلملا بھی گئے
***

مرے ریگ زار میں اس برس یہ کمال موجِ بلا کاتھا
نہ وہ کشتیاں تھیں غبار کی نہ وہ بادبان ہواکاتھا

کبھی چشم شوق کے سامنے کوئی شے دھنک کی طرح کھنچی
کبھی دل کے دشت میں پھول سا کوئی کھل گیاجو بلا کاتھا

کبھی ایک یاد کی لہر نے مرے ساحلوں کوسبک کیا
کبھی اک ستارہ چمک اٹھا جو اسی ستارہ نما کاتھا

کئی رنگ جس میں سما گئے وہ طویل دھوپ کی جھیل تھی
جو کئی چراغ بجھا گیاہے وہ ہاتھ بادِ فنا کاتھا
***

مرے لوگ خیمہ صبر میں، مرے شہر گردِ ملال میں
ابھی کتنا وقت ہے اے خدا ان اداسیوں کے زوال میں

کبھی موجِ خواب میں کھوگیا کبھی تھک کے ریت پہ سوگیا
یونہی عمر ساری گزاردی فقط آرزوئے وصال میں

کہیں گردشوں کے بھنور میں ہوں کسی چاک پر میں چڑھا ہوا
کہیں میری خاک جمی ہوئی کسی دشتِ برف مثال میں

یہ ہوائے غم یہ فضائے نم مجھے خوف ہے کہ نہ ڈال دے
کوئی پردہ میری نگاہ پر کوئی رخنہ تیرے جمال میں
***

کس نے کوئی سچ لکھاہے، یہ فقط الزام ہے
شاعری محرومیوں کاخوبصورت نام ہے

بے غرض ملنے کی ساری منطقیں جھوٹی ہیں یار
توجوآیا ہے تو اب بتلا بھی دے کیاکام ہے

اب کے میخانے کی مٹی پر کوئی دھبہ نہیں
رند ہیں ٹوٹے ہوئے ہاتھوں میں ثابت جام ہے

نے شکوہِ سروری ہے، نے جمالِ دلبری
دل کسی فرعونِ بے سامان کااہرام ہے
***

ابھی دریچہ دل سے ہوا ہے کتنی دور
وہ لمسِ خواب وہ آوازِ پا ہے کتنی دور

میں کس مقام پہ ہوں اے محیطِ تنہائی
یہاں سے منزلِ صبرورضا ہے کتنی دور

تمام دشت میں ظلمت کے شامیانے ہیں
نزولِ صبح ترا قافلہ ہے کتنی دور

جہاں ہواکا گزر ہے نہ تتلیوں کاہجوم
عجیب پھول ہے جاکر کھلا ہے کتنی دور

جوسوچئے توہیں ان دوریوں میں ربط کے رنگ
جو دیکھئے توزمیں سے گھٹا ہے کتنی دور
***

وہ آدمی جو تری آرزو میں مرتاہے
وہ تجھ سے پیار نہیں خود سے عشق کرتاہے

فضا میں خوف کے پرچم بلند ہوتے ہیں
سوادِ شام سے لشکر کوئی گزرتاہے

مری زمیں کے بلاوے غضب کے ہیں لیکن
کوئی جنوں مرے پر رات دن کترتاہے

میں اپنے آپ کو اب کس کے چاک پر رکھوں
شکستہ ظرف دوبارہ کہیں سنورتاہے

لگے ہوئے ہیں جہاں پر وصال کے خیمے
ادھر سے ہجر کا رہوار بھی گزرتاہے
***

نہ کوئی صبح فراق اور نہ کوئی شامِ وصال
چمک کے بجھ گئے آخر سبھی طرح کے خیال

مرے شجر پہ نہ اترا کوئی حسیں طائر
بدل گئے کئی موسم گزرگئے کئی سال

بس ایک جنبش لب داستان سے آگے
بس اک نگاہ نے پیدا کیے بہت سے سوال

ترے سفر پہ روانہ کبھی ہواتھا میں
یہ دیکھ سر میں ابھی تک جمی ہے گردِ ملال

ترے وصال کی خوشبو تلک تھیں سب باتیں
سو دل میں اب نہیں آتا بغاوتوں کاخیال
***

وہ جب ملا تو کسی رنج رائیگاں میں ملا
میں جب کھلا تو کسی شاخ بے اماں پہ کھلا

مرے جہاں سے مرا رابطہ یونہی سا ہے
مجھے بھی اس سے شکایت اسے بھی مجھ سے گلہ

میں ایک بار جوٹوٹا تو پھر جڑا نہ کبھی
وہ ایک بار جو بچھڑا توپھر کہیں نہ ملا

مکانِ خواب کسی برہمی کی زد میں ہے
نہ طاقچوں میں دئیے ہیں نہ آئینوں میں جلا

رفو گراں تو ہنر مند وخوبصورت تھے
مگر کسی سے مرا چاک آرزو نہ سلا
***

مرے چراغ کویہ وہم کھائے جاتاہے
کہ اس کو ہاتھ ہوا کا بلائے جاتاہے

میں اپنے جسم کی سرحد میں گھٹتا جاتاہوں
وہ مملکت کو انا کی بڑھائے جاتاہے

چمک رہا ہے فلک پر بس اک ستارہ ہجر
شبِ سیاہ مری جگمگائے جاتاہے

میں ایسے ہاتھ کی تعظیم کر نہیں سکتا
جو آسماں سے پرندے گرائے جاتاہے

میں سب سے ناتواں انسان ہوں قبیلے کا
پر اک جنوں مجھے میداں میں لائے جاتاہے
***

حریف کوئی نہیں دوسرا بڑا میرا
سدا مجھی سے رہا ہے مقابلہ میرا

مرے بدن پہ زمانوں کی زنگ ہے لیکن
میں کیسے دیکھوں شکستہ ہے آئنہ میرا

مرے خلاف زمانہ بھی ہے زمین بھی ہے
منافقت کے محاذوں پہ مورچہ میرا

میں کشتیوں کوجلانے سے خوف کھاتا نہیں
زمانہ دیکھ چکا ہے یہ حوصلہ میرا

مرے سوال سے ہر شخص کوملال ہوا
پہ حل کیا نہ کسی نے بھی مسئلہ میرا
***

ترا چراغ ، مرا دل بجھانا چاہتے ہیں
ہوا کے ہاتھ کرشمے دکھانا چاہتے ہیں

جبھی تو ڈھیر لگائے ہیں سنگ ریزوں کے
ہمیں یہ اہلِ خرد آزمانا چاہتے ہیں

وہی زمین سمندر کی ہوتی جاتی ہے
کہ ہم جہاں بھی کوئی گھر بنانا چاہتے ہیں

سمیٹ لو تو یہ منظر ہیں ایک لمحے کے
جو طول دو تو یقیناًزمانہ چاہتے ہیں

ہمارا دل کہ تمہارا غرورِ تشنہ لبی!
تمام تیر ستم اک نشانہ چاہتے ہیں

ہمیں پتہ ہے کہ ترسیں گے عکس کو اپنے
وہ سارے لوگ جو آئینہ خانہ چاہتے ہیں

ہمیں سے رکھتے ہیں پرخاش بھی عداوت بھی
ہمیں سے اہل جہاں دوستانہ چاہتے ہیں
***

سچ بول کے بچنے کی روایت نہیں کوئی
اور مجھ کو شہادت کی ضرورت نہیں کوئی

میں رزق کی آواز پہ لبیک کہوں گا
ہاں مجھ کو زمینوں سے محبت نہیں کوئی

میرے بھی کئی خواب تھے میرے بھی کئی عزم
حالات سے انکار کی صورت نہیں کوئی

ہر شام ہی آتاہے کسی چاند کاپیغام
لیکن شبِ مہتاب کی حاجت نہیں کوئی

میں جس کے لیے سارے زمانے سے خفاتھا
اب یوں ہے کہ اس نام سے نسبت نہیں کوئی

لہجہ ہے مراتلخ مرے وار ہیں بھر پور
لیکن مرے سینے میں کدورت نہیں کوئی
***

کچھ جذبے اورجنون لیے مایوس وملول سے رہتے ہیں
ہم انسانوں کے جنگل میں اک شاخ ببول سے رہتے ہیں

یوں تو بنجر ہے پہلے سے لیکن اس دل کی دھرتی پر
کچھ خوشبو عہد گزشتہ کی کچھ چہرے پھول سے رہتے ہیں

ہم درویشانِ عہد کہن ہم سرمستانِ بادہ فن!
کبھی رکھتے ہیں ربط بہاراں سے کبھی رشتے دھول سے رہتے ہیں

صورت بھی نہیں اچھی اپنی سیرت بھی نہیں اچھی اپنی
سرِ کوئے نگاراں ہم لیکن پھر بھی مقبول سے رہتے ہیں

ہر ماہ کٹوتی خرچے میں ہر سال اضافہ اجرت میں
ہر روز بخیلی محنت میں کچھ لوگ اصول سے رہتے ہیں

سرسید کو محدود کیے اک چھوٹی سی کالونی ہے
جہاں کابک نمامکانوں میں چہرے مجہول سے رہتے ہیں
***

دریچے طاقچے، سننے کالطف اٹھاتے ہوئے
دئیے کے ہونٹ کوئی داستاں سناتے ہوئے

بدن میں شامِ زمستاں طلوع ہوتی ہوئی
گداز گرم پرندے گھروں کوجاتے ہوئے

ہر اک مقام پر نادیدہ دشمنوں کاخوف
تمام عمر کٹی دست و پا بچاتے ہوئے

ہمارے دل میں عجب ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہوئی
ہم اپنے گھر کو مگر رات دن سجاتے ہوئے

ہم اک طلسم کا در کھولنے گئے تھے مگر
پلٹ کے آئے فقط حیرتیں بڑھاتے ہوئے

زمین اپنے تقاضوں کو تیز کرتی ہوئی
فضائے یاد میں کچھ نام جھلملاتے ہوئے

سکوت، ساحل دریا پہ آنکھ ملتا ہوا
بھنور کے ہاتھ کئی کشتیاں تراتے ہوئے
***

سیلِ گریہ کا سینے سے رشتہ بہت
یعنی ہیں اس خرابے میں دریا بہت

میں نے اس نام سے شام رنگین کی
میں نے اس کے حوالے سے سوچابہت

دیکھنے کے لیے سارا عالم بھی کم
چاہنے کے لیے ایک چہرہ بہت

اس سے آگے توبس خواب ہی خواب تھے
میں نے اس کو مجھے اس نے دیکھا بہت

میں بھی الجھا ہوں منظر کے نیرنگ سے
میرے پیروں سے لپٹی ہے دنیا بہت

رفتگاں کے قدم جیسے آہو کارم
جانے والوں کورستوں نے روکابہت

جنگجو معرکوں میں ہوئے سرخرو
بستیاں بین کرتی ہیں تنہا بہت
***

اب احمق داناؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
سو ہم صرف خلاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

جانے کیاافتاد پڑے گی اب کے بستی پر
دھوپ کے لشکر چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

جن کے ترکش تیرِ ستم سے خالی ہوتے ہیں
وہ بھی کرم فرماؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

ہم نے اپنادستِ سوال قلم کر ڈالا ہے
ہم سے شاہ گداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

ہر دل میں دریاؤں کی طغیانی خوابیدہ
لب لیکن صحراؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

کبھی کبھی جب شام کوسورج سونے جاتاہے
جنگل خواب سراؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
***

اس شہر عزت داراں میں ہم مال ومنال نہیں رکھتے
کبھی اپنا خیال نہیں رکھتے کبھی اس کاخیال نہیں رکھتے

کبھی چاہاتھا کسی صورت کو کبھی پوجا تھا کسی مورت کو
اب ہجر کی حد سے باہر ہیں اب شوقِ وصال نہیں رکھتے

وہ گل ہیں کون سی کیاری میں، جنھیں مرجھانے کی فکر نہیں
وہ آئینے کس دُکان میں ہیں جوگردِ ملال نہیں رکھتے

یہ اور طرح کے شکاری ہیں، بس تیرِ ستم کے پجاری ہیں
کچھ دانہ ان کے پاس نہیں، یہ کوئی جال نہیں رکھتے

بے بال وپری میں زندہ ہیں پرخود سے کہاں شرمندہ ہیں
ہمیں فکرِ عروج سے کیا لینا جب فکرِ زوال نہیں رکھتے

اسباب وعلل سے دوری ہی ہم لوگوں کی مجبوری ہے
ہم بندے اپنے رب کے ہیں، سوکچھ جنجال نہیں رکھتے

ا س شہر گماں میں مستقبل اورحال کی صورت ایک سی ہے
اس خوف سے اپنے بچے کاہم نام اقبال نہیں رکھتے
***

وصالِ جسم وصالِ نظر سے کم ہے بہت
مگر کسی کے نہ ملنے کادل کوغم ہے بہت

اسی جبیں پہ ہیں روشن اناکے تارے بھی
یہی جبین ترے آستاں پہ خم ہے بہت

خیال یہ تھا کہ دریا اتر ہی جاتے ہیں
ملال یہ ہے کہ وہ آنکھ اب بھی نم ہے بہت

دیارِ جاں کے شجر تھے ہرے بھرے کافی
ہوائے تیز کا اب تو مگر کرم ہے بہت

پلٹ پڑو کہ یہ موسم بدل بھی سکتا ہے
ابھی توشہرِ گماں کی زمین نم ہے بہت

قصیدہ گوئی کے آداب سے بھی واقف ہیں
عزیز ہم کو مگر حرمتِ قلم ہے بہت
***

دل و نظر کو لہو میں ڈبونا آتاہے
نہ اب ہنسی ہمیں آئے نہ روناآتاہے

ہوا کے ہاتھ چراغوں سے کھیلتے ہیں یونہی
کہ ہاتھ بچوں کے جیسے کھلونا آتاہے

ہم اہلِ زر کے دروں پر قدم نہیں رکھتے
گدائے خاک ہیں مٹی پہ سوناآتاہے

خمارِ در بدری چین سے نہ رہنے دے
جو خواب آتاہے اکثر سلونا آتاہے

غزل کے شعر ہیں مفرد مگر وہ شاعر ہے
جسے سب ایک لڑی میں پرونا آتاہے
***

مجھ کو یقیں بہت نہ تھا اس کو گماں بہت ہوا
جل گئی چوبِ سبز بھی گرچہ دھواں بہت ہوا

وہ مرایار تھا مگر اس کے اصول تھے جدا
ضبطِ سخن کے باب میں میرا زیاں بہت ہوا

ہم تو غلام لوگ ہیں ہم سے نہ پوچھئے حضور
ابر کرم کہاں گیا،ظلم کہاں بہت ہوا

اے کسی یاد کے سمنداب نہ ادھر نگاہ کر
تیرے خرام سے خجل آبِ رواں بہت ہوا

لوحِ خیال یار نے آگ کو پھول کردیا
سحر طلسم ذات کا شعلہ فشاں بہت ہوا
***

خواب بچوں کی محبت سے زیادہ تو نہیں
دیکھ سکتا ہوں مگر عزم و ارادہ تو نہیں

میں تجھے کیسے ملوں کیسے پکڑپائے تو
تیری باہیں مرے دل جیسی کشادہ تو نہیں

میں توجیسا ہوں نظر آتاہوں سب کو ویسا
تو جو ہے شاہ نما، شاہ کازادہ تو نہیں

سب اس امید میں زندہ ہیں کہ پائندہ ہوں
صرف مجبوری ہے مرنے کا ارادہ تو نہیں

مجھ پہ احسان وستم دونوں برابر اس کے
میں نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ زیادہ تو نہیں

شعر سب لکھتے ہیں در حاشیۂ گم شدگاں
پر شگفتِ گلِ بادام اعادہ تو نہیں
***

وقت اک دریا ہے، دریا سب بہالے جائے گا
ہم مگر تنکے ہیں، ہم تنکوں سے کیالے جائے گا

اک عجب آشوب ہے کیوں بستیوں میں جلوہ گر
کیا یہ ہر انسان سے خوفِ خدالے جائے گا

ہے تو خورشید حقیقت پر بڑا بے مہر ہے
دل سے جذبے آنکھ سے آنسو چرا لے جائے گا

بوریے پر بیٹھنے کالطف ہی کچھ اور ہے
شہر یارِ عصر اس تکیے سے کیا لے جائے گا

ہر گزر گاہِ تمنا پر بہت سی گرد ہے
لیکن اس کوایک ہی جھونکااڑالے جائے گا

عافیت کے دائروں میں یار سارے بند ہیں
کوئی موسم، کوئی طوفاں اس سے کیا لے جائے گا
***

ہم اہل دل ہیں نہ جانے کدھر چلے جائیں
ہمارا کیاہے کہ کس راہ پر چلے جائیں

اب ان پرندوں کے بارے میں کیا کہیں جن کے
اڑان بھرنے کی کوشش میں پر چلے جائیں

کچھ آنے والوں کی عبرت کوچھوڑ دیں منظر
ہم اب اداس نہ ہوں اور گھر چلے جائیں

تمام ہوگئی مجلس چراغِ چشم کے ساتھ
سو اب گھروں کو سبھی نوحہ گر چلے جائیں

ستارہ تاب بھی ہیں، خانماں خراب بھی ہیں
عذاب در بدری ہم کدھر چلے جائیں

جہاں سے سب کاگزر سرسری توہولیکن
برا بھی کیا ہے اگر دیکھ کر چلے جائیں

وہ رت نہ آئے کہ جس کی ہوا کے جھونکوں سے
ہر ایک شخص کے عیب وہنر چلے جائیں
***

سجے سجائے ہوئے سبز منظروں سے نہ جائیں
خدا کرے کہ یہ دریا کبھی گھروں سے نہ جائیں

بنامِ عشق وہوس کچھ نہ کچھ رہے روشن
کچھ ایسا ہو کہ یہ سودے کبھی سروں سے نہ جائیں

فضائے دشتِ طرب ناک کو دوام ملے
گلاب خوشبو سے اورتتلیاں پروں سے نہ جائیں

ضرورتوں کو زیادہ نہ کر خدائے کریم
نکل کے پاؤں بہت دور چادروں سے نہ جائیں

حروف و نطق کی ہر انجمن میں رونق ہو
خیال روٹھ کے ہر گز سخنوروں سے نہ جائیں

اسی طرح صفِ سیارگاں رہے قائم
نجوم وماہ الگ اپنے محوروں سے نہ جائیں

امیرِ عصر سے فریاد کرناچاہتے ہیں
سروں کوپھوڑنے یہ لوگ پتھروں سے نہ جائیں
***

میری نفرت بھی ہے شعروں میں مرے پیار کے ساتھ
میں نے لکھی ہے غزل جرات اظہار کے ساتھ

اقتدار ایک طرف ایک طرف درویشی
دونوں چیزیں نہیں رہ سکتی ہیں فنکار کے ساتھ

اک خلادل میں بہت دن سے مکیں ہے اب تو
یاد گزرا ہوا موسم بھی نہیں یار کے ساتھ

بادبانوں سے الجھتی ہے ہوا روز مگر
کشتیاں سوئی ہیں کس شان سے پتوار کے ساتھ

شہر میں جہل کی ارزانی ہے لیکن اب تک
میں ہی سمجھوتہ نہیں کرتا ہوں معیار کے ساتھ

میرے اشعار ہیں ناقد کے لیے کچھ بھی نہیں
درد کومیں نہیں لکھتا کبھی دشوار کے ساتھ
***

احباب گلاب سے بنے ہیں
ہم خاکِ خراب سے بنے ہیں

کچھ اہل کتاب بن کے آئے
کچھ لوگ کتاب سے بنے ہیں

قصبوں میں مکاں تھے جن کے بے ڈھب
شہروں میں حساب سے بنے ہیں

کچھ نقش و نگار لوحِ دل پر
اک شخص کے خواب سے بنے ہیں

اس شوخ کی بے شکن جبیں پر
کیا نقش جواب سے بنے ہیں

یہ پھول بدن یہ چاند چہرے
کیاموجِ شراب سے بنے ہیں

آنکھوں کی جگہ ہیں دوستارے
ہونٹوں پہ گلاب سے بنے ہیں
***

جس کو ہونا ہے وہ ان آنکھوں سے اوجھل ہوجائے
اس سے پہلے کہ مرا کام مکمل ہوجائے

میں تو بس دیکھتا رہتاہوں زمینوں کے کٹاؤ
آدمی سوچنے والا ہو توپاگل ہوجائے

کہیں ایسا نہ ہوویرانے ہوں پھر سے آباد
کہیں ایسا نہ ہو ہر شہر ہی جنگل ہوجائے

یہ زمیں جس پہ ہے گلزاروں کی تعداد بہت
یہ بھی ہوسکتا ہے کل کو وہی مقتل ہوجائے

ریگ زاروں سے بخارات ہی اٹھتے ہیں مگر
کون جانے کہ یہ گرمی کوئی بادل ہوجائے

میرا پندار ہی دیوار ہے ناکامی کی
یہ جو گرجائے تو ہر خواب مکمل ہوجائے
***

کسی ستارے کی آرزو میں کبھی ستارہ نہیں ملے گا
ہم ایک دریا کے دو کنارے کوئی کنارانہیں ملے گا

اداس موسم کے محرموں نے خزاں کے کانوں میں کہہ دیا ہے
کہ سبزہ وگل کوخاک کردے یہ دن دوبارہ نہیں ملے گا

سبھی کے مہتاب اپنے اپنے علاقہ ہجر میں ہیں روشن
کہیں تمہارا نہیں ملے گا کہیں ہمارا نہیں ملے گا

یہ خاکِ صحرا ہی گرد بن کر بلند ہوگی سروں کے اوپر
گھنے بنوں سے گزر توآئے ہو ابر پارہ نہیں ملے گا

شکستہ پایانِ مصلحت ہی بلندیوں تک پہنچ سکیں گے
جو اپنے پیروں پہ چل رہے ہیں انہیں سہارا نہیں ملے گا

عذاب دانش کی گٹھریوں نے سروں کومجروح کردیاہے
خدائے برتر، بتاکوئی، لمحۂ گوارہ نہیں ملے گا
***

مضموں یہ کنائے نہ اشارے کے لیے ہے
وہ شخص کسی اورستارے کے لیے ہے

کھلتاہوا گل آگ اگلتا ہوا موسم
عبرت کے لیے ہے کہ نظارے کے لیے ہے

خاشاک ہوس، عشق کے پھیلے ہوئے جنگل
ہر چیز مگر وقت کے دھارے کے لیے ہے

سوداگر اسبابِ جنوں گھر سے نکل کر
بازار میں آیا ہی خسارے کے لیے ہے

جب ہجر کی حدت سے جھلس جائیں دل وجاں
یہ درد کی دیوار سہارے کے لیے ہے

مواج سمندر میں ٹھہرتا نہیں کوئی
بے چین ہر اک شخص کنارے کے لیے ہے
***

کسی پردۂ غیب سے ظاہر ہو کوئی صورت ہجر کے جانے کی
کوئی ساعت سعد نوید تو دے پھر تیرے پلٹ کرآنے کی

مری باتیں سن کر کہتے ہیں احباب مرے اغیار مرے
یہ شخص ہے کون سی دنیا کایہ بات ہے کس کے زمانے کی

جو کچھ کہنا ہے کہہ پیارے مت خواب وخیال میں رہ پیارے
یہ لمحے کم کم آتے ہیں یہ رت بھی نہیں شرمانے کی

ہر سمت ہیں شعلوں کے ہالے کہتے ہیں مگر کچھ متوالے
کوئی رستہ اس تک جانے کا کوئی صورت آگ بجھانے کی

دو جملوں میں دروازۂ جاں سب بند کیے دیتے ہیں یہاں
باتیں تو سبھی کرتے ہیں میاں دیوارِ انا کو ڈھانے کی

میں وہ ضدی تھا جس کے لیے ہر کارِ زیاں تھا راحتِ جاں
ویسے تو مرے ہمدردوں نے کوشش کی بہت سمجھانے کی

کیا خرچ کروں کب خرچ کروں اس سوچ میں ڈوبا رہتاہوں
اللہ کادیا سب کچھ ہے میاں مجھے فکر نہیں ہے کمانے کی
***

شورش گریہ و فریاد سے خم ہوگئے کیوں
سارے محراب ومکیں نذر عدم ہوگئے کیوں

سبب غم سے تھے آگاہ نہ اہل غم سے
بھیڑ کو دیکھ کے ہم شامل غم ہوگئے کیوں

یہ سب آنسو تو زمینوں کے لیے تھے لیکن
لمس شبنم سے کئی پھول بھی نم ہوگئے کیوں

اہل دنیا بھی وہی اور یہ دنیا بھی وہی
صرف اس بزم سے کچھ سر پھرے کم ہوگئے کیوں

چاہتے ہم تھے کہ دیں ورثے میں اگلوں کو جنوں
سارے امکان مگر ہم میں ہی ضم ہوگئے کیوں

اب تو زنجیر تعلق کا خدا حافظ ہے
وحشتوں کے بہت اسباب بہم ہوگئے کیوں
***

نہ زمین میری حریف ہے نہ زمان میرے خلاف ہے
میں اک ایسا سچ ہوں جو تلخ ہے سو جہان میرے خلاف ہے

یہ عدالتوں کاہے معجزہ کہ گداگری کاشعورِ نو
سو مرے گواہِ عزیز ہی کابیان میرے خلاف ہے

اک اداس عہد کی حسرتیں اک عجیب دور کی حیرتیں
مرے دل میں کیسے سما گئیں مرادھیان میرے خلاف ہے

میں گداگروں کے دیار میں ہوں جو زندہ دفن مزار میں
مرا شوق میرا زوال ہے مرا گیان میرے خلاف ہے

میں زیاں کی رت کاچراغ تھا مگر عہد سود میں جل اٹھا
یہ سیاہ رات کا ہمنوا یہ جہان میرے خلاف ہے
***

تھا مکان دل کسی اور کا پہ رہا بسا کوئی دوسرا
میں کسی کے ہجر میں مضطرب مجھے چاہتا کوئی دوسرا

ترا رنگ سب سے جدا سہی تری شکل سب سے حسیں مگر
مرا مبتدا کوئی اور ہے مرا منتہا کوئی دوسرا

مرے لوگ گردوغبار میں ترے یار تیرے دیار میں
تو اسیرِ منزل شش جہت مرا راستہ کوئی دوسرا

میں ذرا سی بات پہ روٹھ کر تو نہیں گیا تری بزم سے
مرے مہرباں کبھی سوچتا تھا معاملہ کوئی دوسرا

یہی آسماں مرا آسرا یہی خاک خلعتِ بے بہا
مری جائیداد جنوں جسے نہیں بانٹتا کوئی دوسرا
***

فصیل قصر انا عشق نے گرادی کیا
شکست کھاگئی پھر قوتِ ارادی کیا

تمہارے شہر کی شب دن کو مات دیتی ہے
یہاں سبھی نے چراغوں کی لو بڑھادی کیا

نہ کوئی نعرۂ ہُو ہے کہیں نہ جام وسبو
اجاڑ دی گئی اب کے جنوں کی وادی کیا

جو معرکے میں نہ جائے وہ بادشاہ نہیں
جو عشق ہی نہ کرے پھر وہ شاہ زادی کیا

دیارِ درد میں تھا جس سے روشنی کا وجود
وہ آگ بارشِ حالات نے بجھادی کیا

نہ کوئی پھول، نہ چہرہ، نہ چاندنی، نہ چراغ
یہاں ہر ایک ہے بدصورتی کا عادی کیا

مسائلِ دل ودنیا پہ غور کرتے لوگ
ضرورتوں نے یہ زنجیر سی بنادی کیا
***

کوئی سفر نہ کریں بس گھروں میں رہ جائیں
اگر یہ عشق وہوس،بستروں میں رہ جائیں

ہٹے نہ کوئی ستارہ مدار سے اپنے
دعا یہی ہے کہ سب محوروں میں رہ جائیں

ہم آگ شہر کی ہر چیز کو لگادیں گے
اگر چراغ ہمارے گھروں میں رہ جائیں

جو لوگ آج نمایاں ہیں کل کہاں ہوں گے
ہمارا کیا ہے جو پس منظروں میں رہ جائیں

بدن سے روح کارشتہ توسخت مشکل ہے
بہت ہے دفن اگر مقبروں میں رہ جائیں

ورائے شعر بھی اک بات شعر میں آجائے
نہ استعاروں میں نے پیکروں میں رہ جائیں
***

ملال کس لیے یہ جشنِ شاد کامی کیا
بذاتِ خود ہے کوئی چیز بھی دوامی کیا

پرانے طاق میں رکھی کتاب سے پوچھو
بزرگ کیا تھے بزرگوں کی نیک نامی کیا

یہ آب وگل کابدن ریزہ ریزہ ہوناہے
سو خاکدانِ جہاں میں بلند بامی کیا

بس ایک ضرب فنا، اس کے بعد سناٹا
صباخرامیاں کیا اور تیز گامی کیا

یہ خود فریب صدی جن میں زندہ ہوں میں بھی
یہاں چراغ کی ضو کیا سیاہ فامی کیا

عدو کے سامنے سارا قبیلہ چپ کیوں ہے
سبھی نے ڈال لیا حلقہ غلامی کیا

تمام شہر پہنتا ہے مصلحت کی زرہ
یہاں کرے مرا اندازِ بے نیامی کیا
***

خوبیوں پر دوستوں کی خاک ڈال آتا ہے کیوں
اے دلِ وحشی تجھے بس یہ کمال آتا ہے کیوں

کون لے جاتاہے آنکھوں سے نظاروں کاجمال
بیٹھے بیٹھے ترکِ دنیا کاخیال آتا ہے کیوں

کس لیے خورشید صورت لوگ ہوجاتے ہیں خاک
دفعتاً ہر خواب کے شیشے میں بال آتاہے کیوں

کیا یہاں زنجیر کے حلقوں کی صورت ہیں سبھی
ہجر لوگوں پر برنگِ ماہ وسال آتا ہے کیوں

کیادیارِ درد کی گلیوں میں اب رونق نہیں
جو بھی آتاہے وہاں سے وہ نڈھال آتا ہے کیوں
***

جس کے ہم اہل نہ تھے اب کے تو وہ بات ہوئی
لیلۃ القدر میں لیلیٰ سے ملاقات ہوئی

اختتامِ سفر شوق پہ کیوں سوچاجائے
شام کس دشت میں آئی تھی کہاں رات ہوئی

زندہ رہنے کے بہانے تھے بہت دنیا میں
آب ودانے کے بنا بھی گزر اوقات ہوئی

دل سمندر میں بھنور آج زیادہ کیوں ہیں
کس جزیرے کو رواں کشتی جذبات ہوئی

زندگی بھر رہے اس شخص سے باتیں کرتے
جس سے دوچار ہی لمحوں کو ملاقات ہوئی

ملتفت ہم پہ ہوا تو جو خوشامد کے بعد
یہ تو اے دوست، عنایت نہیں خیرات ہوئی
***

دلوں پر خوف بھی طاری بہت ہے
مگر جنگوں کی تیاری بہت ہے

خرد کی بستیوں کے پھونکنے کو
جنوں کی ایک چنگاری بہت ہے

سبھی زد میں ہیں دشت و کوہ وانساں
یہ ضربِ وقت ہے کاری بہت ہے

پرانا خشک پتہ کہہ رہا تھا
ہوا میں تیز رفتاری بہت ہے

ہم اپنے دل کی دنیا دیکھتے ہیں
ہمیں یہ شغل بیکاری بہت ہے

چلے ہو اس سے ملنے پر یہ سن لو
اسے شوقِ دل آزاری بہت ہے

نہیں ہے ساتھ رہنا گرچہ آساں
بچھڑنے میں بھی دشواری بہت ہے
***


دشتِ ہوس میں پیکِ فنا آنے والا ہے
ان بستیوں پہ قہر خدا آنے والا ہے

شہزاد گانِ عشق و ہوس کو خبر کرو
شہر طلسم ہوشربا آنے والا ہے

گمگشتگی کے دشت میں رہنا ہے عمر بھر
یا کوئی خضرِ سبز قبا آنے والا ہے

رنگت عجیب دشت کے سارے گلوں کی ہے
کیا کوئی انقلاب نیا آنے والا ہے

ہم تم تو رفتگاں کے مقابر کے پیرہن
آیندگاں پہ وقت برا آنے والا ہے

یہ خوش دلی یہ عشق وصداقت ہے چند روز
عہد طویل حرص وہوا آنے والا ہے

دجال عصر آئے گا یا مہدی زماں
کیا جانیے کہ غیب سے کیاآنے والا ہے
***

تھی کبھی اپنی جگہ مسندِ شاہی کے قریب
دوسرے لوگ ہیں اب ظل الہی کے قریب

اب زمانے سے تعلق مرا یوں ہے جیسے
تیغ ٹوٹی ہوئی مجروح سپاہی کے قریب

میں تو سچ کہنے عدالت میں چلا آیا تھا
لرزہ مرگ سا طاری ہے گواہی کے قریب

یہ تو ہر دور میں ہوتاہے سو اب بھی ہوگا
لوگ حاکم سے خفا شہر تباہی کے قریب

یہ فقط رسم ہے یا اور کوئی قصہ ہے
خار کیوں رکھتے ہیں سب آبلہ پا ہی کے قریب
***

دیارِ دل کا سفر نا تمام رہ گیا ہے
ستارہ بجھ کے سرِ بام شام رہ گیاہے

بیاض عشق کو کِرمِ فنا نے چاٹ لیا
ورق ورق پہ مگر ایک نام رہ گیاہے

بجز فراغ ہے کیاآدمی کی آسانی
مگر ہمیں توابھی کتناکام رہ گیا ہے

سفالِ وقت میں آمیزشِ کدورت ہے
ہمارے پاس فقط دل کاجام رہ گیاہے

نمازِ شوق میںآتاہے یاد یہ کس کو
کہاں رکوع و سجود و قیام رہ گیاہے

غزل تو سب نے لکھی ہے مگر وہ شاعر ہے
کہ جس کے بعد بھی اس کاکلام رہ گیاہے
***

شب کو شراب پیجئے دن میں کتاب دیکھئے
غالب خستہ کی طرح جاگ کے خواب دیکھئے

سوچئے زندگی ہے کیا اور یہ سوچتے ہوئے
لوح تصورات پر لاکھوں جواب دیکھئے

باغ میں پھول ہیں مگر ان کی نمو ہے عارضی
خوف خزاں سے ماورا دل کا گلاب دیکھئے

کتنے جہان دار تھے کتنے کمان دار تھے
یعنی کتاب وقت میں عشق کا باب دیکھئے

اب تو ہر ایک ملک میں ان کے ہیں گھر بسے ہوئے
لائے ہیں انقلاب کیا خانہ خراب دیکھئے

عشق وہوس کا فیصلہ اور کسی پہ چھوڑ ئے
چہرۂ زرد دیکھئے چشم پُرآب دیکھئے
***

شفق کے خون سے دریا سہانے ہوتے جاتے ہیں
مری مجبوریاں ان کے بہانے ہوتے جاتے ہیں

مری سانسوں کے سارے چاند تارے بجھ گئے جاناں
ترے ہونٹوں کے سب بوسے پرانے ہوتے جاتے ہیں

اداسی داستانوں کی طلسمی شاہزادی ہے
جدھر جاتی ہے سب اس کے دیوانے ہوتے جاتے ہیں

ہوائیں طائروں کی ہجرتوں پہ بین کرتی ہیں
جدا پیڑوں سے پھر بھی آشیانے ہوتے جاتے ہیں
***

اگر خاکے تمنا کے مکمل ہوگئے ہوتے
ذرا سی دیر میں سب مسئلے حل ہوگئے ہوتے

کبھی دل چاہتا ہے جنگلوں میں بستیاں ہوتیں
کبھی دل چاہتا ہے شہر جنگل ہوگئے ہوتے

بہت خوش ہیں دِوانے بادلوں کی ہوشیاری پر
برس جاتے تو ویرانے بھی جل تھل ہوگئے ہوتے

اجالے بس ترے چہرے کی شادابی تلے رہتے
اندھیرے بس تری آنکھوں کا کاجل ہوگئے ہوتے

فضائے دشت میں کتنا سکوں ہے ایک مدت سے
ہمارے بعد بھی کچھ لوگ پاگل ہوگئے ہوتے
***

ہاتھ باندھے ہوئے الفاظ کھڑے رہتے ہیں
اورمضمون تو چوکھٹ پہ پڑے رہتے ہیں

کھڑکیاں ہیں نہ دریچے نہ ہواؤں کاگزر
ان مکانوں میں مگر لوگ بڑے رہتے ہیں

اک تعلق ہے کسی درد کا دل کے ہمراہ
جیسے زیور میں نگینے بھی جڑے رہتے ہیں

کیاجری لوگ ہیں احباب میں شامل اپنے
جو نہ کرپائیں وہ کرنے پہ اڑے رہتے ہیں

اک سفر ہے کہ کبھی ختم نہ ہوگا شاید
اپنی آنکھوں میں سدا کوس کڑے رہتے ہیں

اپنا کیا ہے کہ فقط رقص انا دیکھنے کو
ہم ہر اک صاحب منصب سے لڑے رہتے ہیں

اپنے حجرے سے فقیری کی سند لینے کو
آج بھی صاحب اعزاز کھڑے رہتے ہیں
***

صبح کے نیزے پر سورج کاسرروشن
ایک دئیے کی چیخ سے سارا گھر روشن

ایک تھکی دوپہر بدن کا سرمایہ
ایک فسردہ شام سے یاد نگر روشن

صحرا میں کچھ دھول کی لہریں رقص کناں
بستی میں کچھ ننھے منے گھر روشن

وادی میں اک گہری لمبی تاریکی
کہساروں پر کچھ دشمن لشکر روشن

ایک دھنک ہر منظر نامے کاحصہ
ایک چمک سے سارے بحر وبر روشن

دیوانوں کا قحط نہیں ہے شکر کرو
صحرا اب بھی ہوتے ہیں اکثر روشن
***

تھے رابطے جہاں سے جنوں میں کمی بھی تھی
ان سب کے درمیان کہیں زندگی بھی تھی

ہم نے شب گناہ جلایا نہیں چراغ
اس کے بدن میں رنگ بھی تھاروشنی بھی تھی

اب جس پہ چند سوکھے ہوئے برگ ہیں جناب
پہلے یہ شاخ ربط وتعلق ہری بھی تھی

ہر آنکھ میں چمکتے ہوئے آرزو کے چاند
لیکن وہ رات درد میں ڈوبی ہوئی بھی تھی

دنیا سے ہم نہ تیری طرح عشق کرسکے
اس کا سبب مزاج بھی تھا شاعری بھی تھی
***

اک عدد ہم نے عشق فرمایا
اور پھر زیست کا مزا پایا

اپنا جھگڑا جہاں میں سب سے ہے
کیوں شماتت کرے نہ ہم سایا

نقد اشعار بے ضرر کے سوا
ہم نے رکھا نہ کوئی سرمایا

ہم غبی ہیں ہماری قدر کرو
ہوش مندو عجیب دور آیا

قوسیں اشعار میں بنائیں مگر
تیرے کولہے کوئی بنا پایا

اس نے ہم سے کہا کہ شعر کہو
یہ نہ سوچو کسے نہیں بھایا

کل کوئی احمق الذی شاید
مستند کردے سارا فرمایا
***

طناب خیمہ جاں ٹوٹنے ہی والی ہے
سو دشت شوق بھی خوش منظری سے خالی ہے

بچھڑنے والوں سے آباد ہے خرابۂ دل
اگرچہ بستی انھوں نے الگ بسالی ہے

رہوگے ٹھیک تو گل چہرے مل سکیں گے بہت
کسی کے ہجر میں یہ شکل کیا بنالی ہے

ہمیں کسی سے کبھی کوئی واسطہ کب تھا
ہمارے ذہن میں تصویر اک خیالی ہے

ذرا سی دیر میں سچ جھوٹ، جھوٹ سچ ہوجائے
یہی بجا ہے کہ دنیا بہت نرالی

تمام کوفہ و بغداد استعارے ہیں
منافقت میں تو یہ شہر بھی مثالی ہے
***

رونے نہیں دیتا ہے سسکنے نہیں دیتا
دریا کو کناروں سے چھلکنے نہیں دیتا

یہ کون مہذب مرے دل میں اتر آیا
گھبراؤں تو وہ گالیاں بکنے نہیں دیتا

وہ مجھ کو پلاتاہے مرے ظرف سے بڑھ کر
مستی میں جو آؤں تو بہکنے نہیں دیتا

یہ شب یہ ہوس مل کے اٹھائیں گے قیامت
کیوں اپنا بدن یار دمکنے نہیں دیتا

ہر شام کوئی مجھ سے چلاآتاہے ملنے
تنہائی کے پھولوں کومہکنے نہیں دیتا

وہ شعر کامیداں ہو کہ ہو عشق وسیاست
دشمن کو کسی جگہ چمکنے نہیں دیتا
***

آنکھ میں خواب بھی نہیں روح پہ قہر ہے کوئی
اب کے ہو ائے شہر میں اور ہی زہر ہے کوئی

وسعت ریگزار میں یوں ہی نہیں ہیں قافلے
سر میں کوئی جنون ہے آنکھ میں شہر ہے کوئی

عشق کی آبنائے کودیکھ کے فیصلہ کریں
کوئی وصال کا بھنور ہجر کی لہر ہے کوئی

میرے قدم کامنتظر میری طلب میں سرگراں
اور ہی آسمان ہے اور ہی دہر ہے کوئی

دشت ودیار خوب ہیں اہل وعیال خوب ہیں
یہ بھی مگر بتائیے قریۂ مہر ہے کوئی
***
 

جمعرات، 6 اگست، 2015

اجمل کمال کی تحریر

سوے قطار می کشم ناقۂ بےزمام را

(1) ’’۔۔۔ ترجمہ بھی تعبیر کا ایک طریقہ اور تعبیری کارگذاری ہے اور یہ صرف غیر زبان سے اپنی زبان یا کسی زبان سے کسی اور زبان میں ترجمہ کرنے پر محدود نہیں۔ ہم خود اپنی زبان سے ہر وقت ترجمہ کرتے رہتے ہیں تاکہ متن کو سمجھ سکیں۔‘‘1
(2) ’’واقعہ یہ ہے کہ قرآن کے ترجمے و تبیر میں مسلمانوں نے جس قدر علم، ذہن، تفکر، تفحّص، احتیاط، خشیت اللہ اور راسخ الایمان عقائد سے کام لیا ہے اس کی مثا ل دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ لیکن قرآن کی تفسیریں کثرت سے موجود ہیں اور کثرت سے لکھی گئیں۔ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی دو مفسّر ایسے نہیں جن کی صوابدید ہر جگہ بالکل متحد ہو۔ ہر مفسّر نے اپنی تفسیر اسی لیے لکھی کہ وہ متداول تفسیروں سے پوری طرح متفق نہ تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مفسروں میں سے بعض ایسے تھے جن کا ایمان راسخ نہ تھا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ چوں کہ تعبیر میں ذاتی صوابدید آخری فیصلہ کرتی ہے اور قرآنی متن اپنی گہرائی، کثیرالمعنویت، نزاکت اور ادبی حسن میں بےمثل و بےمثال ہے، اس لیے وہ کثرت سے تعبیر کا تقاضا کرتا ہے۔‘‘
(3) ’’تعبیر میں ذاتی فیصلے کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے،حتیٰ کہ قرآن کے بھی قابل قبول تعبیرات و تراجم میں ذاتی فیصلہ اہم مقام رکھتا ہے۔ (واضح رہے کہ میں تفسیر بالرائے کی بات نہیں کر رہا ہوں) اور جب قرآن کی تفسیر و تعبیر بھیMy interpretation کا درجہ رکھتی ہے تو(ادبی) متون کی بات ہی کیا ہے؟ اور جس طرح متن کی فطرت یہ ہے کہ اس سے ہر وہ معنی نکل سکتے ہیں جن کا وجود اس متن میں ممکن ہو، اسی طرح تعبیر کی فطرت یہ ہے کہ اس پر مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکتا۔ ہر تعبیر میں کہیں نہ کہیں بحث یا شک یا ضمنی اختلاف، یا توسیع یا تخفیف کی گنجائش رہتی ہے۔‘‘
(4) ’’خود مولانا تھانوی نے لکھا ہے کہ جب وہ اپنا ترجمۂ قرآن تیار کر رہے تھے تو ہر لفظ کے ممکن تراجم پرغور کرتے تھے، اور جب کسی ایک ترجمے پر شرح صدر ہو جاتا تو اسے درج کرتے۔ ظاہر ہے کہ ذاتی کارروائی کی حیثیت سے تو حضرت تھانوی کا عمل نہایت احسن تھا، لیکن یہ بھی ظاہر ہے کہ ان کا شرح صدر کسی اور کے لیے حَکم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔‘‘
(5) ’’مضامین قرآن مجید کی تبلیغ عام ماموریہ ہے اور ظاہر ہے کہ عجم کو تبلیغ بدون ترجمے کے نہیں ہو سکتی۔ اگر ترجمہ قائم مقام اصل کلمہ کے نہ ہو تو لازم آتا ہے کہ مسلکِ سلف پر ان اجزا کی تبلیغ ممکن نہ ہو، حالانکہ وہ اصل مسلک ہے۔ پس ترجمے کو قائم مقام اصل کے کہنا لازم ہے۔‘‘ (مولانا اشرف علی تھانوی، بحوالہ شمس الرحمٰن فاروقی)
۱
کیا ترجمہ اصل کا قائم مقام ہو سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب کی ایک معنویت تو وہ ہے جو ادبی تحریروں پر صادق آ سکتی ہے، لیکن اوپر دیے گئے اقتباسات میں ذکر ان مذہبی متون کا ہے جن پر لوگوں کے عقائد اور ان عقائد کی روشنی میں کیے جانے والے زندگی کے چھوٹے بڑے فیصلے مصر، ہوتے ہیں، چنانچہ جب غیرعربی زبانوں میں قرآن کے ترجمے کی نوبت آئی تو اس سے متعلق کئی سوالات پر اختلاف رائے پیدا ہوا۔ ان بوثعں میں تین سوالات زیادہ اہم تھے:
۱۔ کیا قرآن کا کسی غیرعربی زبان میں ترجمہ ممکن ہے؟
۲۔ کیا قرآن کا ترجمہ شرعی اعتبار سے جائز ہے؟
۳۔ کیا کوئی غیرعربی ترجمہ قرآن کا قائم مقام ہو سکتا ہے؟
روٹلج انسائیکلوپیڈیا آف ٹرانسلیشن اسٹڈیز (1998) میں قرآن کے ترجمے کے موضوع پر حسن مصطفیٰ کا لکھا ہوا مضمون شامل ہے جس سے درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:2
(1) قرآن کے ترجمے کے جواز کے مسئلے کو اس کے قابلِ ترجمہ ہونےکے نسبتاً عمومی سوال سے علیحدہ کرنا دشوار ہے۔ جو لوگ قرآن کے قطعی ناقابلِ ترجمہ ہونے کے قائل ہیں وہ اپنے موقف کی واضح حمایت سورۂ یوسف کی آیت 2 سے حاصل کرتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے:
"We have sent it down/ As an Arabic Qur’an"
آج بھی ایک طاقتور اور بااثرمکتب فکر ایسا موجود ہے جس کی رائے ہے کہ قرآن کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا اور جتنے بھی ’’ترجمے‘‘ موجود ہیں وہ سب ناجائز ہیں۔ بہت سے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر قرآن کا ترجمہ کرنا ہی ہو تو مترجم کا مسلمان ہونا لازمی ہے۔ تاہم قرآن کے ترجمے کے ناجائز ہونے کے عقیدے کے مخالفین بھی ہمیشہ موجود رہے ہیں، یہاں تک کہ اسلام کے قرونِ اولیٰ میں بھی موجود تھے۔ عراق سے تعلق رکھنے والے محقق اور عالمِ دین امام ابوحنیفہ (c.700-67) مانتے تھے کہ قرآن کی تمام آیات کا کسی غیر زبان میں ترجمہ کرنا جائز ہے لیکن ’’اس ترجمے کو ایک جلد میں اس طرح شائع کرنا جائز نہیں جس میں اس کے مقابل اصل عربی آیات درج نہ ہوں‘‘۔ امام ابوحنہفم نے مزید یہ بھی اعلان کیا کہ ’’جو شخص عربی نہ جانتا ہو اس کے لیے نماز میں عربی الفاظ کے مہو7م کا اپنی زبان میں اظہار کرنا جائز ہے‘‘۔ لیکن روایت کے مطابق بعد میں انوجں نے اپنے اس غیرروایتی موقف کو ترک کر دیا.....اور اس آرتھوڈوکس خیال کو اپنا لیا جس کی رو سے وہ شخص جو عربی میں قرآن پڑھنے سے قاصر ہو، ناخواندہ تصور کیا جاتا ہے۔
(2) قرآن کے ترجمے کی ہر کوشش بنیادی طور پر ایک قسم کی تشریح ہوتی ہے، یا کم از کم متن کی کسی واحد تفہیم پر مبنی ہوتی ہے، چنانچہ ایک مخصوص نقطۂ نظر کو بڑھاوا دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمان مترجم غیرمسلم مترجم کے مقابلے میں قابلِ ترجیح سمجھا جاتا ہے۔
(3) قرآن کے انگریزی مترجم محمد مارماڈیوک پکتھال نے بیان کیا ہے کہ (اسلامی علوم کے مستند، روایتی مرکز واقع قاہرہ) جامعہ الازہر کے ریکٹر نے انگریزی ترجمے کی صرف اس وقت اجازت دی جب انیںہ بتایا گیا کہ پکتھال اپنے ترجمے کو ’’القرآن‘‘ نہیں بلکہ ’’معانی القرآن‘‘ کا نام دیں گے۔
(4) 1925 سے 1936 تک کے عرصے میں مصر میں قرآن کے ترجمے کے جائز یا ناجائز ہونے کے سوال پر خاصی گرم بحث ہوئی۔ الازہر کی ممتاز شخصیات نے اس عمل کے حق میں اور اس کے خلاف شدید خیالات ظاہر کیے۔ ان میں سے بیشتر ابتدا میں قرآن کے ترجمے کے سرے سے ہی مخالف تھے اور بہت سوں نے محمد علی نامی ایک مسلمان کے 1918 یا 1917 میں شائع شدہ ترجمۂ قرآن پر، جو مصر میں انہی دنوں پہنچا تھا، پابندی لگانے بلکہ اسے جلا دینے کی تجویز کی حمایت کی۔
(5) 1936 میں جامعہ الازہر کے ریکٹر شیخ مصطفیٰ المراغی نے اس وقت کے وزیراعظم کے نام اپنے خط میں باقاعدہ اعلان کیا کہ قرآن کے معانی کو کس دوسری زبان میں بیان کرنے کو قرآن نہیں کہا جا سکتا۔ شیخ مراغی کے اس موقف پر آخری فتویٰ جاری کیا گیا کہ شرعی نقطۂ نگاہ سے قرآن کا ترجمہ جائز ہے۔ اسی سال 16 اپریل کو وزرا کی کاؤنسل نے اس فتوے کی توثیق کی۔ اس فتوے میں یہ شرط شامل تھی کہ ایسے کسی بھی ترجمے کو ’’ترجمۂ قرآن‘‘ نہ کہا جائے بلکہ ’’قرآن کی ایک تعبیر کا ترجمہ‘‘ یا ’’فلاں زبان میں قرآن کی تعبیر‘‘ کا نام دیا جائے۔
(6) مذہبی رہنماؤں کے اعلانات سے قطع نظر، قرآن اورعربی زبان کی وہ مخصوص قسم جس میں وہ وحی کیا گیا، ان دونوں کے درمیان مضبوط ربط کے معنی یہ ہیں کہ وحی کردہ کتاب اور اس کے کسی بھی ترجمے کے درمیان (خواہ وہ اجازت لے کر کیا گیا ہو یا بلااجازت) فرق ہمیشہ پیش نظر رہا۔ چنانچہ جو لوگ انگریزی جیسی کسی زبان میں انجیل پڑھتے ہیں، ممکن ہے انیںخ کسی قدر یہ احساس ہو کہ پڑھا جانے والا متن ایک ترجمہ ہے جو کسی اصل متن سے کیا گیا ہے، لیکن اس احساس سے اس متن کے استناد یا اس کے اختیار پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس کے برعکس کسی مسلمان کی نگاہ میں قرآن اور اس کے کسی ترجمے کے درمیان وہی فرق ہے جو خدا بحیثیت مصنف، مختار اور ماخذ، اور انسان بحیثیت محض ایک مترجم/معبّر کے درمیان ہے۔ پکتھال کا کہنا ہے کہ کسی غیرعرب مسلمان کو کبھی خیال تک نہ گزرا ہو گا کہ قرآن کے ان کی زبان میں ترجمے کو وہی درجہ دے دیا جائے جو انگریزی بولنے والے پروٹسٹنٹ مسیحیوں کے نزدیک انجیل کے انگریزی ترجمے کو حاصل ہے، یعنی اصل متن کا متبادل۔

۲
برصغیر کی مختلف زبانوں کی طرح اردو میں بھی قرآن کے متعدد ترجمے کیے گئے اور تفسیر یں لکھی گئیں۔ تاہم ترجمے اور تفسیر کا یہ عمل محض مذہبی عالموں تک محدود رہا۔ انیسویں صدی میں، اور خصوصاً 1857 کے بعد، ٹیکنالوجی میں ہونے والی چند نمایاں ترقیوں اور نوآبادیاتی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے بعض اقدامات کے نتیجے میں، سماجی تبدیلیوں کے ایک ایسے عمل کی شروعات ہوئی جو بہت گہرے، تقریباً انقلابی نتائج پیدا کرنے کا امکان رکھتا ہے۔
اجتماعی تعلیم کےاداروں اور چھپے ہوے لفظ کے رائج ہونے سے جو منطق پیدا ہوئی اس کا تقاضا یہی تھا کہ علم جو اس وقت تک ایک محدود اقلیت کی ملکیت تھا، وہ معاشرے کے ہر فرد کی دسترس میں آ جائے۔ اور ظاہر ہے کہ علم پراجارہ داری کا مطلب سیاسی طاقت پر اجارہ داری تھا، اور اس کے خاتمے کے معنی اس کے سوا کچھ اور نہ نکل سکتے تھے کہ سیاسی طاقت بھی رفتہ رفتہ انسانوں کی اس بھاری اکثریت کی گرفت میں آ جائے جسے اس وقت تک ذات پات، معاشی طبقے اور جنس کی بنیاد پر، انسانیت کے نچلے درجے میں رکھا جاتا رہا تھا۔ یہ انسانوں کی معاشرتی تاریخ میں آنے والی ایسی تبدیلی تھی جس سے کترا کے گزرنا کسی بھی طبقے یا مکتبِ فکر کے لیے ممکن نہیں تھا۔ اس اہم اور بنیادی معاشرتی تبدیلی کا ساتھ دینا یا پھر اس کا سامنا کرنا ناگزیر تھا۔
سیاسی اقتدار رکھنے والے مقامی طبقوں کے زوال کے ساتھ ساتھ ان سے اور ان کے درباروں، ریاستوں اور جاگیرداروں سے وابستہ ان افراد کی زندگیاں بھی متاثر ہوئیں جو خواندگی اور تحریر تک رسائی رکھتے تھے اور جن کی معاش کا دارومدار عموماً تدریس اور تعلیم کی سرگرمیوں پر ہوتا تھا۔ ان میں ایک طرف مسلمان اشراف (اکثر سادات) اور دوسری طرف ہندوؤں کی اونچی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد (برہمن اور کائستھ) شامل ہوتے تھے۔ عالموں اوراستادوں کو بادشاہوں، صوبےداروں، رئیسوں اور امیروں کی بطورِ اتالیق ملازمت اختیار کرنی پڑتی تھی۔ اس ذریعۂ معاش کے لیے خود کو تیار کرنے کے مراحل یہ لوگ روایتی مکتبوں میں مکمل کرتے تھے۔ چھاپہ خانے کے مروّج ہونے کے بعد یہی لوگ تھے جنویں نے تصنیف و تالیف اور صحافت و ادارت کے شعبوں میں نمایاں کردار سنبھالا۔
ان میں جو لوگ مذہبی عالم تھے ان کی سرگرمیوں کا رخ اب اُس آبادی کی طرف مڑ گیا جو نوآبادیاتی حکومت کی عام تعلیم کی پالیسی کے نتیجے میں خواندہ ہو گئے تھے اور چھاپہ خانے کے رواج کے باعث کتاب، رسالے اور اخبار کی صورت میں چھپے ہوے لفظ تک رسائی پا سکتے تھے۔ یہ ایک بنیادی نوعیت کی تبدیلی تھی جس سے علم اور اطلاعات کی ترسیل کا پورا عمل اور اس کی اخلاقیات بدل کر رہ گئی۔ اس کے علاوہ ریل اور ڈاک کے نظام کے قیام سے معاشرے میں تبدیلی کا عمل اور تیز ہو گیا تھا۔ اس نئی صورت حال میں مذہبی عالموں نے جو حکمت عملی اختیار کی اس کو سمجھنے کے لیے دارالعلوم دیوبند اور خصوصاً مولانا اشرف تھانوی (1863-1943) کی سرگرمیوں کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اگرچہ عام طور پر علی گڑھ اور دیوبند کو ایک دوسرے کی ضد خیال کیا جاتا ہے، لیکن ان دونوں کے درمیان اشتراک کے پہلو بھی نہایت اہم ہیں۔ مثال کے طور پر چھاپے خانے، ڈاک اور ریل کے بغیر نہ سرسید کا تصور کیا جا سکتا ہے اور نہ مولانا تھانوی کا۔ مذہبی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا تھانوی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کانپور کی ایک مسجد میں ملازمت سے کیا، لیکن کچھ عرصے بعد تھانہ بھون میں مقیم ہو گئے اور آزادانہ کام کرنے لگے۔ اپنے پیش روعالموں کے برعکس، اور نئے دور کے تقاضوں کے مطابق، نہ صرف انویں نے برصغیر کے مختلف مقامات کا سفر کر کے وعظ کہنے کا طریقہ اختیار کیا بلکہ ایسی کتابیں اور رسالے تصنیف کیے جن میں عام لوگوں سے خطاب ہوتا تھا، اور بذریعۂ ڈاک ان سے براہِ راست خط و کتابت بھی ان کی سرگرمی کا ایک بڑا جز تھا۔ لوگوں کو اپنے نقطۂ نظر کا قائل کرنے کے لیے جدید ذرائع استعمال کرنا اپنی جگہ، لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ جہاں تک تہذیبی اور سیاسی نقطۂ نظر کا تعلق ہے، سرسید اور مولانا تھانوی دونوں اپنے اپنے انداز میں قدامت پسند تھے، اگرچہ موخرالذکر کی قدامت پسندی نسبتاً زیادہ راسخ العقیدہ نوعیت کی تھی۔
مولانا تھانوی جس مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں اس کے نزدیک قرآن اور دیگر مذہبی متون کی تعبیر کرنا صرف ان افراد کا حق ہے جنوفں نے مقررہ مذہبی تعلیم حاصل کی ہے اور تعبیر و تشریح کی اس سرگرمی کو (جسے وہ خود تعلیم و تبلیغ کہتے ہیں) اپنے کل وقتی کام کے طور پر اختیار کر رکھا ہے۔ اسی لیے قرآن کا ترجمہ براہ راست پڑھنے کے معاملے میں عام لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ جہاں تک اس کل وقتی سرگرمی کو ذریعۂ معاش بنانے کا تعلق ہے، بہت عرصے تک اسے متقدّمین کے اس قول کی بنا پر ناجائز تصور کیا جاتا رہا کہ تعلیمِ قرآن کا معاوضہ لینا ناجائز ہے۔ بعد میں متاخّرین میں سے کسی کے قول کی بنیاد پر، جس کی رو سے مخصوص حالات میں بعض شرائط کی قیود میں رہتے ہوے تعلیمِ قرآن کا معاوضہ لیا جا سکتا ہےَ، اسے جائز قرار دے دیا گیا۔ پیشہ ورمذہیھ عالموں کا پورا طبقہ، جس سے ہم آج واقف ہیں، اسی اجتہاد کے نتیجے میں وجود میں آیا اور مستحکم ہوا، اگر چہ اب اُن شرائط کا ذکر مشکل ہی سے سننے میں آتا ہے جن کے تحت اس سرگرمی کو ذریعۂ معاش کے طور پر اختیار کرنا جائز قرار دیا گیا تھا۔
چنانچہ عربی سے ناواقف برصغیر کے مسلمانوں کے حصے میں قرآن کا ترجمہ بھی نہیں بلکہ قدیم تفسیروں کی شرحیں آئیں۔ انیسویں صدی کے نصفِ آخر میں ہونے والی معاشرتی تبدیلیوں کے پیش نظر انیں متعدد نئے نئے موضوعات اور مسائل پر مذہبی نقطۂ نظر جاننے کی ضرورت پیش آتی تھی تاکہ وہ اس کی روشنی میں ان معاملات پر اپنے فیصلے کر سکیں جو ان کی زندگیوں کو متاثر کر رہے تھے۔ آئندہ صفحات میں ان میں سے ایک، یعنی عورتوں کے نکاح منسوخ کرانے کے حق، کے سلسلے میں سامنے آنے والے مذہبی موقف کا جائزہ لیا جائے گا۔

۳
اقبال نے (جنیں حکیم الامت کا لقب دیا جاتا ہے) اپنے خطبات میں اس معاشرتی مسئلے کی جانب توجہ دلائی کہ جو عورتیں اپنے ناپسندیدہ شوہروں سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہیں ان کے لیے اسلامی (حنفی) فقہ میں کوئی گنجائش نہیں کہ وہ اپنا نکاح منسوخ کرا سکیں، چنانچہ پنجاب میں اُن دنوں (1920 کے عشرے میں) ایسے واقعات کثیر تعداد میں پیش آئے کہ ایسی عورتوں نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ وہ عیسائی ہو چکی ہیں، اور عدالت نے تبدیلیِ مذہب کی بنا پر ان کا نکاح منسوخ کر دیا۔ اقبال نے تقلید کے قائل ہندوستانی مسلمان عالموں پر زور دیا کہ اس مسئلے کا حل اجتہاد کے ذریعے تلاش کریں تاکہ ان عورتوں کو ناگوار رشتے سے نکلنے کی خاطر مذہب تبدیل نہ کرنا پڑے۔ یہ بات واضح ہے کہ اقبال نئے زمانے کی عورتوں کے اس مطالبے کو جائز سمجھتے تھے کہ انیں اپنی زندگی کے اہم فیصلے کرنے کا اختیار ہو اور چاہتے تھے کہ اجتہاد کے ذریعے اس تبدیلی کی راہ ہموار کی جائے۔
محمد سہیل عمر لکھتے ہیں:
علامہ کے خطبات 1930 میں چھپے تو ہندوستانی علما میں سب سے پہلے مولانا اشرف علی تھانوی نے اس پر توجہ کی اور ان کی تصنیف ’’الۃیان الناجزہ للحلیلۃ العاجزہ‘‘ 1931 میں منظرِعام پر آ گئی۔...حنفی فقہ میں کوئی قابلِ عمل حل نہ پا کر مولانا نے فقہ مالکی کے میدان میں قدم رکھا، اس کے اصول فقہ پر عمل کیا اور اس کی پیروی کی۔ ... آج کی اصطلاح میں ایک فقہی پیراڈائم سے نکل کر دوسرے فقہی پیراڈائم میں داخل ہونا اجتہادِ مطلق سے کس طرح کم ترکہا جا سکتا ہے؟ 3
تاہم، مولانا تھانوی نے (ان کے عقیدت مند انیں حکیم الامت کہا کرتے تھے) اس سلسلے میں اقبال کے خطبات کا حوالہ دینے سے احتراز کیا۔ رسالے کی تصنیف کی وجوہ بتاتے ہوے لکھتے ہیں:
’’ایک تو جواب دینا ہے اس اعتراض کا جو بعض واقعات کے متعلق ہے اور وہ واقعات عورتوں کی کُلفت کے ہیں جن کا تعلق شوہر سے ہے جس کے اسباب یہ ہیں: ۱۔ شوہر کا مفقود ہو جانا۔ ۲۔ شوہر کا مجنون ہو جانا۔ ۳۔ شوہر کا عورت کے قابل نہ ہونا۔ ۴۔ شوہرکا باوجود وسعت کے بی بی کو خرچ نہ دینا، ومثل ذلک۔ اور وہ اعتراض یہ ہے کہ اسلام نے بلاواسطہ قاضیِ شرعی کے، جو کہ ہندوستان میں نایاب یا کمیاب ہے، براہ راست ان مصائب سے عورتوں کو نجات حاصل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں بتایا جس سے مجبور اور پریشان ہو کر بہت عورتیں اسلام سے مرتد ہو رہی ہیں (چنانچہ تھوڑے ہی روز ہوئے سنا تھا کہ بعض علاقوں میں بہت قلیل مدت میں کثیر تعداد میں عورتیں مرتد ہو چکی ہیں)۔ اگرچہ اس کا جواب بالکل ظاہر ہے کہ اسلام کا کام صرف تدبیر بتلانا ہے، پھر اگر اہل اسلام اس پر عمل نہ کریں تو موردِ الزام اسلام ہے یا اہل اسلام جن میں یہ معترضین بھی داخل ہیں۔ اور وہ تدبیر یہی ہے جو معترضین کے اعتراضی کلام میں مذکور ہے کہ ایسے حاکم اور قاضی مقرر کیے جاویں جو بزورِ حکومت ان قضایا کو فیصل کر سکیں اور اگر اس کی قوت نہ ہو تو حکومتِ موجودہ سے مطالبہ اور کوشش کریں کہ وہ ایسے حاکم مقرر کر دے جن میں وہ سب صفات ہوں جو قاضیِ شرعی میں ہونا چاہئیں۔ ... اور یہ جواب معترضانہ اور ظالمانہ سوال کے لیے تو بالکل کافی ہے۔...‘‘ (13-4)
مندرجہ بالا اقتباس میں مذکورہ سوال اٹھانے والے شخص یا اشخاص سے مخاصمت کا رنگ صاف جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ ظاہر ہے، مولانا تھانوی اس بات کے قطعی قائل نہیں کہ اس سلسلے میں کسی اجتہاد کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف ان کو، اقبال کے برعکس، ان عورتوں سے بھی قطعی ہمدردی نہیں جو نجات کی کوئی اور راہ نہ پا کر عیسائی مذہب اختیار کر رہی تھیں۔
’’بعض لوگوں نے مسائل نہ جاننے کے سبب یہ سمجھ رکھا ہے کہ اگر کوئی عورت مرتد ہو جائے تب بھی نکاح فسخ ہو جائے گا اور اس نالائق کو تجدیدِ اسلام کے بعد دوسرے خاوند سے نکاح کرنے کی اجازت ہے۔ یہاں تک کہ بعض کمبخت عورتوں نے اس کو خاوند سے رہائی حاصل کرنے کا سہل علاج سمجھ لیا اور ارتداد کی بلائے عظیم میں مبتلا ہو کر اپنی عمر بھر کے اعمالِ صالحہ برباد کر دیے، حالانکہ شرعی طور پر بھی ان کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔(181)
فقہ حنفی میں مولانا تھانوی کے مطابق اس سلسلے میں تین اقوال ہیں:
۱۔ ’’عورت کے مرتد ہونے سے نکاح تو فوراً فسخ ہو جائے گا لیکن پھر اس کو حبس و قید کر کے تجدیدِ اسلام پر بھی اوراس پر بھی مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے پہلے ہی خاوند سے تجدیدِ نکاح کرے۔‘‘
۲۔ ’’عورت کے مرتد ہونے کی صورت میں نکاح فسخ ہی نہیں ہوتا بلکہ بدستور یہ عورت شوہرِ سابق کے نکاح میں رہتی ہے۔‘‘
۳۔ ’’یہ عورت (دارالاسلام میں بھی) کنیز بنا کر رکھی جائے گی اور اس کے خاوند کا قبضہ اس پر بدستورِ سابق باقی رہے گا۔‘‘ (182-3)
مولانا تھانوی لکھتے ہیں کہ ان میں سے پہلے قول پر عمل کرنا ممکن نہیں کیونکہ ’’فسخ نکاح کا حکم دے دینے کے بعد تجدیدِ نکاح پر مجبور کرنے والی کوئی قوت مسلمانوں کے پاس موجود نہیں‘‘، اور تیسرے قول پر عمل کرنا بھی ’’بحالتِ موجودہ غیرممکن ہے‘‘ (کیونکہ انگریزوں کی نوآبادیاتی حکومت برصغیر میں غلامی کو ممنوع قرار دے چکی تھی اور قانونی طور پر کسی شخص کو غلام یا کنیز بنانا ممکن نہ رہا تھا)۔ چنانچہ انویں نے دوسرے قول پر انحصار کرتے ہوئے فیصلہ کیا: ’’عورت کے ارتداد سے نکاح فسخ ہی نہیں ہوتا بلکہ بدستور باقی رہتا ہے۔‘‘(183)
جہاں تک اپنی زندگی کے فیصلوں پر عورت کے اختیار کا تعلق ہے، مولانا تھانوی اس کے ہرگز قائل نہیں۔ ان کی قطعی رائے ہے کہ ’’چوں کہ عورت ناقص العقل ہے اس لیے طلاق کو مطلقاً اس کے ہاتھ میں دے دینا خطرہ سے خالی نہیں۔‘‘(23) درحقیقت صرف طلاق نہیں بلکہ نکاح اور دیگر معاملات میں بھی مولانا تھانوی کا نۂح نظر عورت کے ناقص العقل ہونے کے اس اصولی عقیدے پر بنیاد رکھتا ہے۔
لیکن اس اعتراض کے پیش نظر کہ اگر ناپسندیدہ نکاحی رشتے سے نجات کی کوئی صورت ہوتی تو ان عورتوں کو تبدیلیِ مذہب کا راستہ اختیار نہ کرنا پڑتا، مولانا تھانوی نے سعودی عرب میں فقہ مالکی کے ماہر عالموں سے مراسلت کی اور پایا کہ اس فقہ میں عورت کے پاس ایک راستہ موجود ہے جسے اختیار کر کے وہ نکاح کو منسوخ کرا سکتی ہے۔ رسالے ’’الحیلۃ الناجزہ للحلیلۃ العاجزہ‘‘ اور اس کی بنیاد پر عام لوگوں کے لیے تحریرکردہ ایک اور رسالے ’’المرقومات للمظلومات‘‘ میں مولانا تھانوی نے اسی راستے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
شوہر کے غائب یا مفقودالخبر ہو جانے کی صورت میں فقہ حنفی کے تحت عورت کو اس وقت تک انتظار کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک اس کے شوہر کے ہم عمر و ہم قرن لوگ اس کی بستی میں زندہ ہوں۔ البتہ فقہ مالکی کی رو سے عورت چار سال انتظار کرنے کے بعد نکاح کو منسوخ کرانے کے لیے قاضی کی عدالت میں جا سکتی ہے۔ اگر اس فیصلے کے نتیجے میں عورت کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور مفقود ہو جانے والا شخص اس کے بعد واپس آ جائے تو فقہ حنفی کے مطابق ’’اس کی عورت ہر حال میں اسی کو ملے گی‘‘ لیکن فقہ مالکی کی رو سے ’’زوجہ دوسرے خاوند کے پاس رہے گی، شوہرِ اول کا اب اس سے کوئی تعلق نہیں رہا۔‘‘ (68)
باقی تین صورتیں جن میں عورتیں نکاح منسوخ کرانے کے لیے اپنا مقدمہ قاضی کی عدالت میں لے جا سکتی ہے، یہ ہیں: ’’شوہر کا مجنون ہو جانا، شوہر کا عورت کے قابل نہ ہونا، شوہر کا باوجود وسعت کے بی بی کو خرچ نہ دینا‘‘۔
ان میں سے پہلی صورت میں’’عورت قاضی کی عدالت میں درخواست دے اور خاوند کا خطرناک جنون ثابت کرے۔ قاضی واقعہ کی تحقیق کرے، اگر صحیح ثابت ہو تو مجنون کو ایک سال کی مہلت دے دے اور بعد اختتام سال اگر زوجہ پھر درخواست کرے اور شوہر کا جنون اب تک موجود ہو تو عورت کو اختیار دے دیا جائے۔‘‘ ’’خطرناک جنون‘‘(جسے ثابت کرنے کی ذمےداری عورت پر ہے) کی وضاحت کرتے ہوے فٹ نوٹ میں مولانا تھانوی کہتے ہیں: ’’معمولی جنون میں خیارفسخ [نکاح منسوخ کرانے کا اختیار] نہیں ہے بلکہ ایسا جنون شرط ہے جس کی وجہ سے اندیشہ ہو اور ناقابل برداشت ایذا پہنچتی ہو۔‘‘(154)
دوسری، یعنی شوہر کے نامرد ہونے کی، صورت میں عورت اپنا معاملہ قاضی کی عدالت میں پیش کرے۔ ’’مرد سے حلف لیا جاوے گا۔ اگر اس نے حلف کر لیا تو عورت کو تفریق کا حق حاصل نہ ہو سکے گا۔ اور اگرشوہر نے حلف سے انکار کر دیا تو اس کو ایک سال کی مہلت بغرضِ علاج دے دی جائے گی‘‘۔ چنانچہ اگر عورت باکرہ نہ ہو تو مرد کا قول حلف کے ساتھ معتبر سمجھا جائے گا اور عورت کو نکاح منسوخ کرانے کا حق نہیں دیا جائے گا۔ ’’پھر اس سال بھر کے عرصے میں اگر شوہر کسی طرح علاج کر کے تندرست اور جماع پر قادر ہو گیا اور ایک مرتبہ بھی ہم بستری کر لی تو عورت کو فسخ نکاح کا حق نہ رہا بلکہ ہمیشہ کے لیے حق باطل ہو چکا، اب کبھی علیحدگی کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ اور اگر اس عرصہ میں ایک مرتبہ بھی جماع نہ کر سکا تو عورت کے دوبارہ درخواست کرنے پر قاضی تحقیق کرے...خاوند سے حلف لیا جائے، اگر وہ قسمیہ کہہ دے کہ میں نے اس عورت سے جماع کیا ہے تو مرد کا قول معتبر ہو گا اور تفریق نہ ہو سکے گی۔ اور اگر شوہر نے اس وقت بھی حلف سے انکار کر دیا تو عورت کو طلبِ فرقت کا اختیار دے دیا جائے گا۔‘‘(152)
تیسری صورت میں ’’...اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو کہ باوجود وسعت کے خرچ نہیں دیتا تو اس کے خاوند سے کہا جائے کہ اپنی عورت کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو ورنہ ہم تفریق کر دیں گے۔‘‘(164)
مذکورہ بالا تینوں صورتوں میں قاضی کے سامنے دعویٰ ثابت کرنا عورت کی ذمےداری ہے۔ اورثابت ہوجانے کے بعد اگر قاضی اس نتیجے پر پہنچے کہ عورت کو نکاح منسوخ کرانے کا اختیار دے دیا جائے، تب بھی یہ اختیار اسے خودبخود نہیں مل جاتا۔ اس کا ایک باقاعدہ طریقہ ہے جو درج ذیل ہے۔
’’جس وقت...قاضی عورت کو اختیار دے تو عورت اسی مجلس میں تفریق کو اختیار کرے۔ پس اگر اسی مجلس میں اس نے اپنے خاوند کے ساتھ رہنا پسند کر لیا یا اس قدر سکوت کیا کہ مجلس برخاست ہو گئی، خواہ اس طرح کہ یہ عورت مجلس سے کھڑی ہو گئی یا اس طرح کہ قاضی مجلس سے اٹھ گیا تو اس کا اختیار باطل ہو گیا، اب کسی طرح تفریق نہیں ہو سکتی۔ ونیز مجلس برخاست ہونے اور عورت کے اٹھ جانے کے علاوہ اور صورتیں بھی ایسی ہیں جس سے مجلس بدل جاتی ہے اور اختیار باطل ہو جاتا ہے، مثلاً کوئی دوسری گفتگو کرنے لگی یا نمازپڑھنے لگی۔‘‘ (152-3)

اگر عورت کوناقص العقل خیال کیا جاتا ہے تو چاہیے تو یہ تھا کہ ایک اذیت ناک صورت حال سے نکلنے کے سلسلے میں اس کی مدد کی جاتی، لیکن مذکورہ بالا اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف تو عدالت میں سب کچھ ثابت کرنے کی (اور سال بھر کی مہلت ختم ہونے کے بعد دوبارہ نئے سرے سے ثابت کرنے کی بھی) مکمل ذمے داری اس ناقص العقل پر ہے بلکہ بیشتر صورتوں میں شوہر کا حلفیہ بیان مقدمے کے خارج کر دیے جانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، دعویٰ (دو بار) ثابت کیے جانے کے بعد بھی قاضی کی جانب سے عورت کو دیا گیا اختیار کسی چھوٹی سی غیرمتعلق بات سے بھی ہمیشہ کے لیے چھن جاتا ہے۔ مفتی اور قاضی دونوں کی ہمدردیاں واضح طور پر معاملے کے طاقتور فریق ینیِ شوہر کے ساتھ دکھائی دیتی ہیں اور اگر اس طریق کار پر جوں کا توں عمل کیا جائے تو یہ بہت دشوار ہے کہ کوئی عورت قاضی کی عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ حاصل کر سکے۔
اور یہ محض طلاق کے معاملے تک محدود نہیں۔ نکاح کے سلسلے میں بھی عورت کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہایت محدود ہے۔ مذہبی نقطۂ نظر سے نکاح دراصل مرد اور عورت کے درمیان نہیں بلکہ مرد، اور عورت کے ولی کے درمیان معاہدے کا نام ہے۔ (ولی سے مراد عورت کا باپ، یا اس کے نہ ہونے کی صورت میں دادا، بھائی، چچا،عم زاد وغیرہ خاندان کا کوئی مرد ہو سکتا ہے۔) ولی کو یہ بھی اختیار حاصل ہے کہ نابالغ لڑکی کا نکاح کر دے۔ اگرچہ لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد ’’خیارِبلوغ‘‘ کے تحت اس نکاح کو، قاضی کی وساطت سے، منسوخ کرانے کا حق ہے، لیکن اس کی شرائط بھی بہت کڑی ہیں۔
’’جو لڑکی بالغ ہونے پر نکاح تڑوانا چاہتی ہے اگر وہ باکرہ ہو تو اس کے اختیارِ فسخ حاصل ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ جس وقت آثارِ بلوغ ظاہر ہوں اسی وقت بلا کسی تاخیر کے زبان سے یہ کہہ دے کہ میں اس نکاح پر راضی نہیں، چاہے اس وقت کوئی اس کے پاس موجود ہو یا نہ ہو، ہر حال میں فوراً زبان سے کہنا شرط ہے... نیز باکرہ کو اس کی بھی ضرورت ہے کہ زبان سے کہنے پر کم از کم دومرد، یا ایک مرد اور دوعورتوں کو گواہ بنائے تاکہ قاضی وغیرہ کے پاس معاملہ پیش ہونے پر کام آویں...‘‘ (94)
فٹ نوٹ میں اس کی مزید وضاحت کی گئی ہے:
’’مثلاً کوئی لڑکی رمضان 40ھ کی 7 تاریخ کو عین طلوع آفتاب کے وقت پیدا ہوئی اور رمضان 55ھ تک کوئی علامت بلوغ کی نہ پائی گئی تو7 رمضان 55ھ کو ٹھیک طلوع آفتاب کے وقت اس کو شرعاً بالغ سمجھا جائے گا۔ پس اگر اس باکرہ نے اسی وقت فوراً زبان سے نکاح فسخ کر دیا تب تو اس کا اعتبار ہو گا ورنہ اگر ذرا بھی تاخیر کی تو خیارِ بلوغ باطل ہو گیا۔‘‘ (94)
چونکہ مولانا تھانوی کا عقیدہ عورت کے ناقص العقل ہونے پر انتہائی راسخ ہے، اس لیے وہ نکاح اور طلاق جیسے معاملات میں، جو کسی بھی فرد کی زندگی کو شدید متاثر کر سکتے ہیں، اسے کوئی موثر اختیار دینے کے حق میں نہیں اور ان کا تمام ترزور اس بات پر رہتا ہے کہ اسے اس اختیار کو استعمال کرنے کا موقع نہ مل سکے۔
دوسری طرف اقبال کے مطالبۂ اجتہاد کی بنیاد اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر ہے کہ معاشرے کے بدل جانے کے باعث عورت اب ایک فرد کے طور پر اپنی زندگی کے اہم فیصلوں کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے۔ اقبال کا موقف ہے کہ مذہبی عالموں کو اجتہاد کے ذریعے نئے زمانے کے اس تقاضے کے لیے گنجائش پیدا کرنی چاہیے۔ مولانا تھانوی کا موقف اس کے قطعی برعکس ہے۔ اس کے باوجود سہیل عمر اسے نہ صرف اجتہاد بلکہ ’’اجتہادِ مطلق‘‘ قرار دیتے ہیں۔ ممکن ہے ان اصطلاحات کی لفظی تعریف کی رو سے ایسا ہی ہو، لیکن جہاں تک اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلوں میں عورت کو موثر اور بامعنی اختیار دینے کا تعلق ہے، یہ ایک سیاسی معاملہ ہے اور یہ اجتہاد کی سیاست میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی لانے کے سوا کسی اور طریقے سے ممکن نہیں۔ تقلید کا راستہ چھوڑ کر اصولِ حرکت یا ااجتہاد کو اختیار کرنے سے اقبال کی مراد یہی معلوم ہوتی ہے۔

حوالہ جات

1۔ یہ پانچوں اقتباسات شمس الرحمٰن فاروقی کے مضمون ’’تعبیر کی شرح‘‘ سے لیے گئے ہیں جو ان کے مضامین کے مجموعے ’’تنقیدی افکار‘‘ (قومی کونسل برائے فروغ اردوززبان، نئی دہلی، 2004) میں شامل ہے۔
2. Baker M. and Malmakjaer (Eds.), Routledge Encyclpedia of Translation Studies, 1998, Routledge, Part 1, pp.299-3
3۔ کتابچہ ’’زنجیر پڑی دروازے میں‘‘، اقبال اکیڈمی، لاہور، 2008، صفحہ33-4۔ مولانا تھانوی کا مذکورہ رسالہ ’’الحیلۃ الناجزہ للحلیلۃ العاجزہ‘‘ اور اس کی بنیاد پر ’’عوام‘‘ کے لیے تحریرکردہ رسالہ ’’المرقومات للمظلومات‘‘، چند دیگر متعلقہ تحریروں کے ساتھ اس کتاب میں شامل ہے جو ’’حلۂ ناجزہ یعنی عورتوں کا حق تنسیخ نکاح‘‘ کے عنوان سے دارالاشاعت، کراچی، نے 1987 میں شائع کی۔ مولانا تھانوی کے دونوں مذکورہ بالا رسالوں سے لیے گئے اقتباسات کے آخر میں دیے گئے صفحہ نمبر اسی کتاب سے تعلق رکھتے ہیں۔

منگل، 4 اگست، 2015

معاصر غزل - مسئلہ کیا ہے؟/ ڈاکٹر صلاح الدین درویش

غزل کی شاعری کو یار لوگوں نے لڑکوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا ہے۔ قافیہ پیمائی ضرور ارزاں ہے لیکن غزل کا شعر کیا محض موزوں الفاظ کی نشست سے بن جاتا ہے؟ ظاہر ہے کہ ایسی بات ہرگز نہیں ہے۔ غزل کا شعر بھلے اپنی بنت میں کسی علمی یا فکری گرہ کو نہ کھولتا ہو لیکن اس کے لیے یہ ضرور لازم ہے کہ اس میں جذبہ اور خیال کے عین درمیان ایک کڑی جسے دانش کہتے ہیں، وہ کڑی بھی موجود ہوتی ہے، یہ کڑی جذبہ اور خیال کی ہم آہنگی، افتراق یا تضاد کی مختلف صورتوں میں معنویت کی ایک ایسی جمالیاتی سطح پیدا کر دیتی ہے کہ جسے ہم جہانِ علم و جمال میں ’اضافہ‘ کہتے ہیں۔ ایسا شعر ہر خاص و عام میں پذیرائی حاصل کرنے میں ضرور کامیاب رہتا ہے۔ ایسا شعر جمالیاتی اعتبار سے ایک ایسے منظر یا منظرنامے کو ابھارتا ہے کہ جو قاری کے تحیّر کو مخمصے میں ڈال دیتا ہے۔ پورے منظر یا منظرنامے کا احاطہ قاری میں ایک اضطراب سا پیدا کر دیتا ہے۔وہ اپنی اس کیفیت سے لطف اندوز ہوتا ہے ۔ فکری سطح پر غزل کا اچھا شعر قاری کے وِژن میں جب اچانک یا دھیرے دھیرے سمونے لگتا ہے تو خود قاری کو اپنے فکری نظام کے سانچے میں اس شعر کو جذب کرنے میں کچھ تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ فکری اعتبار سے اچھا شعر قاری کے نظامِ فکر پر اکثر ٹوٹ پڑتاہے، وہ قاری کے لیے نجات یا رہائی کے سارے راستے مسدود کر دیتا ہے۔ شعر کی فکری اعتبار سے شعری منطق قاری کو ہیجان سے دوچار کر دیتی ہے، جب اس کے ذہن میں کہیں لفظ ’واہ‘ چمکتا ہے تو ایسے میں قاری اپنی فکر کے تمام ہتھیار پھینک دیتا ہے اور ایک شکست خوردہ سپاہی کی طرح فاتح کی عظمت کے سامنے اپنا سر جھکا دیتا ہے۔ بات یہ ہے کہ غزل کا اچھا شعر فکری اعتبار سے جہانِ علم کے مسلّمات، رسوم و رواج، عقائد ، روایات اور اقدار کو بڑی قوت اور جرأت کے ساتھ چیلنج کرتا ہے۔ میرؔ و غالبؔ و اقبالؔ کی فکری اعتبار سے جو ثروت مندی ہے اس کا تعلق جہانِ فکر کی نَو بہ نَو تعمیر و تشکیل سے ہے۔ ایسی شاعری جمالیاتی حوالوں سے بھی امکانات کی نئی صورتوں کو جنم دیتی ہے۔ مثلاً غالب ہی کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
بوئے گل، نالۂ دل، دُودِ چراغِ محفل
جو تِری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
مسئلہ یار لوگوں کا ہے کہ جنھوں نے غزل کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ ان سے جب بھی کسی موضوع پر احتیاط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کوئی بات کی جاتی ہے تو ان کے چہروں پر ہوائیاں اُڑنے لگتی ہیں۔ اقدار، تہذیب، مذہب، معاشرت، زبان و ثقافت سے متعلق مباحث کے مخصوص دائروں سے جب بھی انھیں باہر لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو طرزِ کہن پر پہلے پہل اتراتے ہیں اور پھر ایسے اَڑتے ہیں کہ زبان میں لکنت اور پھر منہ جھاگ سے بھرنے لگتا ہے۔ وہ کسی ایسی نادیدہ چیز کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں کہ جس کو سامنے لاتے ہوئے ان کا دل ڈوبنے لگتا ہے کہ جس کو ’بکواس‘ کہہ کر مخالف اپنا منہ دوسری طرف نہ پھیر لیں۔ ’’قشقہ کھینچا‘‘ یا ’’مَرے بُت خانے میں کعبے میں گاڑو برہمن کو‘‘ ان کے نزدیک شعری اعتبار سے فکر کا ایک علامتی یا استعاراتی اظہار نہیں ہوتا بلکہ ایک مذہبی مسئلہ ہوتا ہے۔ اب ایسے یاروں کی شعرفہمی پر سَر نہ دُھنا جائے تو کیا کِیا جائے !!
اچھا شعری ابلاغ طنز کے جوہر کو ہر دو سطح پر برقرار رکھتا ہے۔ لفظ کی سماجی قدر کے اعتبار سے بھی اور معنیٰ کی نئی دریافت کے اعتبار سے بھی۔صراطِ مستقیم پر چلنے والے انسان کے درجات دنیا و آخرت میں بہت بلند ہیں لیکن شاعر ہونا اپنے جوہر میں ایسے انسانوں کے لیے جھوٹا، مکار، فریبی، فسادی، جنونی اور خاص طور پر عقل کا اندھا ہوتا ہے۔ شاعر صراطِ مستقیم کو ٹھٹھہ اُڑاتا ہے اور ایک ایسے راستے پر چلنے میں زیادہ عافیت محسوس کرتا ہے کہ جہاں قدم قدم پر خار ہوں، رسوائی ہو، ذلت ہو، رکاوٹیں ہوں، دشنام ہو، بے راہ روی اور گمراہی کے عمیق غار ہوں۔ یہ ایک اور طرح سے زندگی بسر کرنے کا حوصلہ ہے۔ ایک خاص طرح کی بے نیازی اور فارغ البالی ہے۔ ایسا شاعر ترکِ رسوم کی بات اس لیے نہیں کرتا کہ وہ ان رسوم کو نسل انسانی کی بقا کے لیے مہلک تصور کرتا ہے بلکہ وہ اپنے لیے ایک اور طرح کی فکر کی نمو چاہتا ہے کہ جس کے انجام سے خود شاعر کو بھی کوئی خاص پروا نہیں ہوتی۔ ایک جارح تلوارباز کے پاس شمشیرزنی کا فن نہ ہو تو خود اس کا اشتعال جارح کی گردن کو دشمن کی تلوار کی دھار کے نیچے پٹخ دیتا ہے۔ غزل کے دو مصرعوں میں شاعر کی جارحیت جس فن کا تقاضا کرتی ہے اس کے اسرارو رموز کے سرچشمے علوم و افکار کے ہمہ جہت شعبوں سے پھوٹتے ہیں۔ تب کہیں جا کر غزل کا کوئی شعر سر اٹھانے کے قابل ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے شاعر دوست کسی یک طرفہ عشق کی چوٹ، زندگی سے مایوسی اور خودمکتفی بے زاری اور اجنبیت کے غلبے سے معمور ہو کر ایک ذرا خیالوںمیں گھومتے ہیں، قلم اٹھائی، لو جی مصرعِ تر کاغذ کو بھگونے لگا۔ یہ انتہائی سطحی اور نجی سطح کی مصنوعی واردات ہوتی ہے کہ جس کے سیاق و سباق میں خود شاعر کی جہالت اور بے خبری کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ چنانچہ احباب خاموش رہتے ہیں یا دبی سی مسکراہٹ کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ لیکن شاعر کم بخت کا کیا کِیا جائے کہ وہ خاموشی اور استہزا آمیز مسکراہٹ کو نیم رضامندی سمجھ کر اِترائے پھرتا ہے۔
غزل اپنی کرافٹ کی تکمیل میں فلسفی کا دماغ مانگتی ہے جو انتہائی شاطر، زیرک اور بیشتر مہلک ہوتا ہے۔ زیرکی اور عیاری کا یہ فن انفس و آفاق کے گہرے مطالعے اور مشاہدے کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ شاعر سیاسی و معاشرتی زندگی یا حسن و عشق کے معاملے کو محض تہذیبی اور تاریخی تناظرات میں نہیں دیکھتا بلکہ ان کے نتائج کو بھی مرتب کرتا ہے۔ اکثر یہ نتائج ایسے ہوتے ہیں کہ جو غزل کے شعر میں وارد ہو کر نقد و بحث کو ہَوا دیتے ہیں۔ ایسا شعر فکری، لسانی اور جمالیاتی سطح پر فنون میں موجود جمود کی مختلف صورتوں کو توڑ دیتا ہے۔غزل کا ایسا شعر یاسیت سے کوسوں دُور ہوتا ہے۔ مایوسی اور بے زاری کی مختلف مریضانہ جہتوں کا ظہور غزل میں اس لیے ہوتا ہے کیونکہ شاعر کے پاس کسی معاملے پر غوروفکر کرنے کے لیے دیگر متبادل صورتوں، افکار اور نظریات کا کوئی شعور نہیں ہوتا۔ غزل کے ایسے تمام شاعر دراصل صراطِ مستقیم پر چلنے والے ہوتے ہیں۔ زندگی کے جس اسلوب یا ڈھب کواپنے لیے سہل سمجھتے ہیں، جب اس میں کوئی نیا موڑ آجاتا ہے تو خندہ پیشانی سے اس کا سامنا کرنے کی بجائے اپنے محبوب، دوست، دشمن، قوم یا قبیلے سے ان آفاقی اقدار کی نمائش کی توقع رکھتے ہیں کہ جو عصری معاملات کی تفہیم میں ایک کوڑی کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ یاروں نے غزل میں موجود جس شکست اور ملال کو اپنی شخصی زندگی کا مقدر سمجھ رکھا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ جس گلی، کوچے، محبوب، معاشرت یا قوم سے انھوں نے وفا کی امیدباندھ رکھی تھی وہ سب لفظ ’وفا‘ سے ناآشنا تھے۔ انھیں اپنے معاملات میں مریضانہ وفا سے زیادہ کاروبارِ حیات عزیز تھا۔ کاروبارِ حیات کو مذاق سمجھنے والا غزل کا نام نہاد مجذوب شاعر عشق کے حوالے سے کسی ذوقِ سلیم کی نشوونما سے محروم رہے، ضروری ہے۔
غزل کا بُرے سے بُرا شعر بھی منطقی استدلال ضرور رکھتا ہے۔ بات معاملے کی ہے۔ محبوب جدا ہو گیا، شاعر دھاڑیں مار مار روتا آہیں بھرتا ہے، محبوب کی یاد آتی ہے تو دل کی کلی کھِل اُٹھی، کانٹوں بھرا راستہ ہے تو پائوں زخمی ہو گئے، کسی نے جان مانگی سر دے دیا، کوئی چوٹ لگی درد سے بلبلا اُٹھے، قوم گمراہ ہوئی درسِ عبرت دے ڈالا، حکمران بددیانت ہوئے تو ایمانداری کے فوائد بتا دیے، رات ہوئی تو چاند ہے، دن چڑھا تو سورج لپکا۔ ہماری غزل کے کلاسیکی ورثے میں مذکورہ استدلال کی مختلف صورتوں نے کیسے کیسے رنگ جمائے کہ دل آج بھی واہ واہ کر اٹھتا ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر اگر آج کا یا ماضی قریب کا کوئی شاعر ایسے استدلالی نظامِ فکر کو شعر میں بروئے کار لانے کی کوشش کرتا ہے تو اُبکائی سی آنے لگتی ہے۔ قاری زیرِلب بڑبڑانے لگتا ہے کہ یا کیا بکواس ہے۔ اس کی شاید وجہ یہ ہو کہ غزل کا قاری شاعر سے کہیں زیادہ معاملات کا تجربہ رکھتا ہے اور استدلال کی متبادل صورتوں سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔ اب ایسے زیرک قاری کو منطق کے معروف استدلال سے قابو میں نہیں کیا جا سکتا، اسے شعر میں آنے والے گھِسے پٹے استدلال سے کوئی رغبت نہیں ہو پاتی۔ چنانچہ شاعر، مجموعے اپنی جیب سے چھاپتا ہے، یاروں میں مفت تقسیم کرتا ہے اور یار کسی فٹ پاتھ پر بنی غیرقانونی دکان میں اس مجموعے کے ساتھ بیس تیس مزید مجموعوں کو بھی ردی کے بھائو بیچ آتا ہے۔ یقینا ایسے منطقی استدلال کی قیمت اتنی ہی ہوتی ہے۔ اب غزل کا اچھا شاعر وہی قرار پائے گا جو بے خبری میں مرنے کی بجائے خودآگہی کی زندگی اختیار کرنے کو ترجیح دے گا، وہ دوسروں کے فیصلے اور قوتِ اختیار پر نہ بھیگی بِلّی بنے گا اور نہ قربانی کا بکرا۔ وہ محبوب کی جدائی کا سبب خود اپنے ذہن، شخصیت، کردار اور نفسیاتی الجھنوں میں تلاش کرے گا، محبوب کی یاد میں دل کی کلی کو کھِلانے کی بجائے صحبتِ یار اور لطفِ قرب کے اسباب و دلائل ڈھونڈے گا، کانٹوں بھرے راستے کو خود اپنا انتخاب سمجھے گا، جان مانگنے والے کی حتمیت پسند رعونت آمیز بیانیے پر سوالات وارد کرے گا، چوٹ لگے گی تو اپنی بے بسی، بے خبری اور حماقت پر مسکرائے گا، قوم کی گمراہی کو اس کے اعمال کی نسبت معقول اور درست جانے گا، حکمرانوں کی بددیانتی کو خود اپنے ایمان کی رمق سے ناپے گا، رات میں چراغ روشن کرے گا اور دن میں سورج کی شعاعوں کو گرفتار کرے گا۔
غزل کہنے والے یار دوستوں کو یہ بات سمجھانا نہایت مشکل ہے کہ جسے خود تم غزل کا اچھا شعر کہتے ہو، وہ اپنے اندر ایک بھرپور علمی سرگرمی بھی رکھتا ہے۔ یہ سرگرمی شعر کے فن میں رونق پیدا کر دیتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ غزل کا اچھا شعر طبیعت کو بشاش کر دیتا ہے، قلب و ذہن کی گرانی کو فی الفور ختم کر دیتا ہے۔ قاری کی ایسی ذہنی حالت کا سبب دانش یا دانش مندی کے کسی پہلو میں اضافہ ہوتا ہے۔ میرؔ سے لے کر ناصرکاظمی تک ہمارے تمام بڑے شعرا ایک بڑی تہذیبی زندگی کے شارح اور ناقد بھی تھے لیکن تمھارے پاس تو سکولوں کالجوں کی درسی کتابوں کا تجزیاتی مطالعہ بھی نہیں ہے۔ تم نے اپنی معاشرت میں جو کچھ بھی جانا اور سیکھا تم اس کے معروضات اور مضمرات سے آگاہی کو وقت کا زیاں سمجھتے ہو، تم ایک حاکم اور جرنیل بننے کی بجائے ایک غلام اور سلیوٹ مار سپاہی بننا چاہتے ہو تو کوئی نطشے تمھیں ذلت سے نکالنے کا کوئی نسخۂ کیمیا مفت میں ہرگزنہیں تھمائے گا۔ لگے رہو مُناّ بھائی۔ لیکن اس بات سے یہ مرادہرگز نہیں ہے کہ اگر کوئی شاعر صاحبِ مطالعہ و مشاہدہ و بصیرت ہو گا یا بڑی تہذیبی زندگی کا شعور رکھتا ہو گا وہ لازماً بڑا شاعر بھی ہو گا۔ بات شاعر کی نہیں غزل کی بڑی شاعری کی ہے کہ جسے اپنی معنویت کی توسیع کے لیے فلسفیانہ بصیرت، تہذیب سے آگاہی، علوم کی مختلف شاخوں، شعبوں اور افکار و نظریات کے متبادل نظاموں اور تحریکوں سے کافی قدر راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *