بدھ، 27 جنوری، 2016

نسرین انجم بھٹی کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو اور نظمیں/عارفہ شہزاد

زندگی بڑی عجیب و غریب طاقت ہے، ملتی ہے تو لوگ اس طاقت کا صحیح استعمال نہیں کرتے، اسے نالیوں میں بہاتے ہیں، دھول میں گزارتے ہیں۔لیکن فنکار دھول میں لپٹی اور نالیوں میں بہائی جانے والیوں زندگیوں کا بھی مشاہدہ کرتا ہے اور آسمان میں اڑتی ہوئی ، پانیوں میں تیرتی ہوئی زندگی کو بھی اپنے فن کے آئنے میں اتارنے کی کوشش کرتا ہے۔ظاہر ہے کہ اس کوشش میں اسے کامیابی تو نہیں ملتی مگر اس کی ناکامیابی کا سفر جاری رہتا ہے، وہ نہیں رکتااور یہی اس کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے۔ایک دن فن کار رک جاتا ہے، تھم جاتا ہے، اپنے حصے کی ساری تصویریں بناکر ، برش ہٹادیتا ہے، کینوس اٹھالیتا ہے اور تب معلوم ہوتا ہے کہ اس نے زندگی کو جس زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی تھی، اس وجہ سے وہ دوسروں سے کتنا منفرد ہوپایا ہے۔نسرین انجم بھٹی کا انتقال اڑسٹھ برس کی عمر میں ہوگیا۔ان اڑسٹھ سالوں میں انہوں نے زندگی کے جتنے رنگ دیکھے اور جتنے رنگ بنائے وہ سب اب ہمیشہ ہمارے درمیان ان کی یادگار بن کر رہیں گے،اور ہم اپنی زندگیوں میں رونما ہونے والے کسی واقعے، کسی حادثے، کسی قائم ہونے والے نظریے، کسی ٹوٹنے اور بکھرنے والے اعتماد میں اس شاعر کو کبھی نہ کبھی یاد کرتے رہیں گےاور یہ زندگی جو اس کے لفظوں میں ہے،اس کے رنگوں میں ہے، جب تک کائنات میں لفظ کی اہمیت سمجھنے والا ، جاننے والا ایک بھی شخص زندہ ہے ، ختم نہیں ہوسکتی۔آج نسرین انجم بھٹی کے انتقال کی خبر کے ساتھ ہی عابد سہیل کے انتقال کی خبر بھی ملی ہے،پاکستان میں اگر آج ایک نظم کی شاعر نے اپنا قلم اپنے نفس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے توڑ دیا تو وہیں ہندوستان میں اردو کے اس اہم افسانہ نگار کی آنکھیں بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کہانی کے ایک گہرے دریا میں ڈوب گئیں، میں کوشش کروں گا کہ جلد ہی ادبی دنیا کے قارئین تک عابد سہیل کی کہانیوں، خاکوں اور ان کی سوانح عمری کے کچھ حصوں کو پہنچا سکوں، مجھے ذاتی طور پر ان کی دو کہانیاں شرطیں اور سگ گزیدہ مردم گزیدہ بے حد پسند ہیں۔آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ میں اس انٹرویواور نظموں کے لیے عارفہ شہزاد کا شکرگزار ہوں، جو ایک مخلص دوست بھی ہیں اور اچھی شاعرو نقاد بھی۔(تصنیف حیدر)
***


عارفہ شہزاد : اپنی گفتگو کا آغاز میں ابتدائی نوعیت کے سوالات کے ساتھ ہی کروں گی معذرت کہ بہت نصابی کتابی سے سوالا ت ہیں مگر ان کے بغیر بات ادھوری سی بھی رہ جائے گی۔ میں چاہتی ہوں کہ اس نشست میں آپ کے سوانحی حالات کے ساتھ ادبی نظریات سے بھی واقفیت ملے۔ اپنی تاریخ پیدائش، جائے پیدائش، والدین اور بہن بھائیوں کے حوالے سے ہمیں کچھ بتائیے؟

نسرین انجم بھٹی: میری میٹرک کی سند پر تو میری تاریخ پیدائش ۲۶ جنوری ۱۹۴۳ء درج ہے مگر یہ درست نہیں ہے اصل تاریخ ۱۹۴۸ء ہے۔ میں کوئٹہ میں پیدا ہوئی تھی۔ والد کا نام بن یا مین بھٹی اور والد ہ کا نام ایلس ہے۔ مذہباً عیسائی ہوں۔ جہاں تک میرے خاندان کی بود و باش کا تعلق ہے والد اور تایا یوسف، دونوں بھائی مل کر گاڑیوں کی ورکشاپ چلایا کرتے تھے اور اس کا اس قدر شہرہ تھا کہ ریگستان میں جو جیپ ریس منعقدہوا کرتی تھی اس میں شریک ہونے والی تمام گاڑیاں ہماری ورکشاپ سے چیک ہو کر ہی ریس میں شریک ہو سکتی تھیں۔میری ایک بہن اور دو بھائی ہیں۔ بہن کا نام پروین ہے اور وہ کراچی میں رہائش پذیر ہے۔ ایک سکول میں بہ طور ہیڈ مسٹرس اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ بھائیوں کے نام سکندر اور سہراب ہیں۔ بھائی سکندر کا بچپن ہی میں انتقال ہو گیا تھا جب کہ بھائی سہراب حیات ہیں۔ گارمنٹس کے کارو بار سے منسلک ہیں۔

عارفہ شہزاد: بچپن کی کوئی یاد بہن بھائیوں یا سہیلیوں کے حوالے سے جو ذہن میں محفوظ ہو؟

نسرین انجم بھٹی: میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی اس لیے ان سب کو لے کر باہر نکل جاتی تھی۔ ہم سب مل کر قینچے کھیلتے، پتنگیں اڑاتے اور اگر کوئی ڈھول والا نظر آجاتا تو اس کے پیچھے چل پڑتے۔ ہم سب بہن بھائیوں کا رویہ شروع ہی سے باغیانہ تھا۔ اپنے بہن بھائیوں کو سارا دن باہر گھومانے پر مجھے گھر سے مار بھی پڑتی تھی۔

عارفہ شہزاد: ابتدائی تعلیم آپ نے کہاں سے حاصل کی اور اسکول کے حوالے سے کوئی خاص یاد؟

نسرین انجم بھٹی: ابتدائی تعلیم میں نے سندھ سکول سے حاصل کی۔ اس سکول میں ایک ٹیچر تھیں ممتاز۔ ان کی شخصیت سے میں بہت متاثر تھی۔ اسکول میں میں اپنی کلاس کی مانیٹر تھی۔ میری سکول ٹیچر ممتاز نے مجھے ادبی شخصیت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے مجھے کلاس کی مانیٹر بنا رکھا تھا اور لائبریری کی چابی بھی مجھے دے رکھی تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب میں نے شیکسپیئر کے ڈرامے اور رومن متھا لوجی کا مطالعہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے میٹرک میں پرومیتھیس کا بھی مطالعہ کیا جو کہ یونانی دیوتاؤں کا بیٹا تھا اور اس نے انسانی فلاح کے لیے کام کیا۔ اس نے سردی کے مارے لوگوں کو دیوتاؤں کی آگ چرا کر دی۔ان سب چیزوں کے مطالعے سے میرا ادبی رجحان بہت بڑھ گیا۔

عارفہ شہزاد: شعر و شاعری کا آغاز آپ نے کب کیا اور پہلی تحریر کب اور کہاں چھپی؟

نسرین انجم بھٹی: میں نے نہم کلاس سے شعر و شاعری کا آغاز کیا۔ ان دنوں ہمارے گھر ’’انجام‘‘ اخبار آیا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ ’’کھلونا‘‘ اخبار بھی لگوایا ہوا تھا۔ یہ سب میں پڑھتی رہتی تھی۔ پھر رسالہ ’’تعلیم و تربیت‘‘ بھی لگوا لیا گیا۔ پہلی نظم میری رسالہ ’’تعلیم و تربیت ‘‘ ہی میں چھپی تھی اور اس کا عنوان تھا ’’وقت ضائع نہ کریں‘‘ مگر اس کا کوئی ریکارڈ یا کاپی میرے پاس محفوظ نہیں ہے۔جب میں نہم کلاس میں تھی ان دنوں گھر میں روٹیاں پکانے کی ذمہ داری میری ہوا کرتی تھی۔ میں کوئلے کے ساتھ رات کو دیوار پر اپنی شاعری لکھ دیتی تھی اور پھر صبح کے وقت اسے کسی کاغذ پر لکھ لیتی۔ ابا کو شعر کہنے کا شوق نہیں تھا مگر وہ تھوڑا بہت شاعری کا فہم ضرور رکھتے تھے اس لیے حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

عارفہ شہزاد: کالج اور یونی ورسٹی کے دور کے حوالے سے بھی کچھ بتائیے؟

نسرین انجم بھٹی: ایف اے میں نے سکھر کالج سے کیا اور وہاں ہاسٹل میں رہی۔ شروع ہی سے مجھے فنونِ لطیفہ سے دلچسپی تھی اس لیے میں نے ایف اے میں اختیاری مضمون کے طور پر ڈرائنگ کا مضمون لیا ہوا تھا۔ انھی دنوں بیورو آف نیشنل ری کنسٹرکشن (B.N.R) کے تحت تمام کالجز سے ذہین طلبا مانگے گئے تاکہ انھیں لاہور میں اسکالر شپ پر فائن آرٹ کی تعلیم دی جائے۔ سکھر کالج سے میرا نام اسکالر شپ کے لیے دیا گیا چناں چہ مجھے اسکالر شپ پر لاہور کالج میں داخلہ مل گیا۔ جہاں سے میں نےB.F.A کیا۔ B.F.A کرنے کے بعد میں نے نیشنل کالج آف آرٹس میں داخلہ لے لیا۔ پہلے پہل تو وہاں میں نے شام کی کلاسوں میں پڑھا بعد میں صبح کی باقاعدہ کلاسوں میں شمولیت اختیار کر لی۔نیشنل کالج آف آرٹس کی تعلیم کے دوران میں سیاسی نظریات سے وابستہ ہوگئی اور ذوالفقار علی بھٹو سے نظریاتی وابستگی کے باعث ان کی پھانسی کے خلاف احتجاج میں شریک رہی۔ اس لیے N.C.A. میں زیادہ دیر تعلیم جاری نہ رکھ سکی اور N.C.A. کی طرف سے ڈپلوما بھی نہیں ملا۔ انھیں دنوں میری ایک کزن نے اوری اینٹل کالج میں داخلہ لیا تو میں نے بھی ایم اے اردو میں داخلہ لے لیا اور اوری اینٹل کالج سے ۱۹۶۸ء میں ماسٹرز کیا۔
N.C.A. سے ڈگری تو نہیں مل سکی مصوری کی 161مگر میرا پینٹنگ کا شوق قائم رہا اور میں پینٹنگز بناتی رہی اور اپنے طور پر ایک دو مرتبہ لاہور اور کراچی میں دو دو چار چار تصاویر کے ساتھ تصویری نمائش میں حصہ لیا۔

عارفہ شہزاد: ریڈیو پاکستان سے کب وابستہ ہوئیں اور یہ دورانیہ کیسا گزرا؟

نسرین انجم بھٹی: ۱۹۷۰ء میں مَیں ریڈیو پاکستان لاہور سے بہ طور پروڈیوسر منسلک ہوئی۔ یہ سیاسی جدو جہد کا دور تھا اور ۱۹۷۱ء کی جنگ کے باعث ملکی حالات خاصے کشیدہ تھے۔ ہم ریڈیو پاکستان کی گاڑی میں فلمی اداکاروں اور گلو کاروں کو لے کر فوجیوں کے پاس جاتے۔ وہ جنگی ترانے گا کر ان کا حوصلہ بڑھاتے۔ ہم فوجیوں کے مورچوں میں جا کر ان کے انٹرویو بھی لیا کرتے تھے۔ جب میں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئی تو سُر کی تھوڑی بہت سمجھ رکھتی تھی۔ یہاں آکر میں نے بڑے بڑے فن کاروں اور گلو کاروں کو بھی سنا۔ریڈیو کے میوزک سکول میں، میں نے میوزک بھی سیکھا اور سلیم اقبال سے باقاعدہ موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔دراصل میں سمجھتی ہوں رقص، گانا اور پینٹنگ ہر انسان کی روح میں رچی بسی ہوتی ہے اس لیے میں نے بھی اس فطری شوق کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ اپنے اس شوق کی تکمیل کے لیے ۸۰ء کی دہائی میں، Y.M.C.A. یعنی Young Men Christian Association میں رقص دیکھنے جایا کرتی تھی۔

عارفہ شہزاد: شادی کب ہوئی آپ کی اور عائلی زندگی کیسی گزری؟آپ کے شوہر کیا کرتے تھے؟

نسرین انجم بھٹی: ۱۹۷۷ء میں زبیر رانا سے میری شادی ہوئی۔وہ ایک جرنلسٹ کامریڈ اور رائٹر تھے۔ زبیر رانا سے میری ملاقات فہیم جوزی کے توسط سے ہوئی۔ فہیم جوزی ہم دونوں کے مشترکہ دوست تھے۔ زبیر، رچنا گلاس فیکٹری میں کام کرتے تھے اور ٹریڈ یونین کے فعال اور سرگرم رکن تھے۔ فہیم جوزی، زبیر رانا اور محمد عظیم یہ سب دوست (Y.P.F) ینگ پیپل فرنٹ جو کہ ایک ادبی حلقہ تھا اس میں اکٹھے ہوتے تھے۔ زبیر رانا، فہیم جوزی کے ساتھ ریڈیو اسٹیشن آتے جاتے رہتے تھے۔میرے شوہر زبیر رانا بھی لکھنے لکھانے سے وابستہ تھے۔ اور تقریباً بارہ (۱۲) کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی کتابوں میں بے نظیر قتل کیوں ہوئیں، عشق کا مارکسی تصور، تہذیب کا بحران، کیا مارکسزم ناکام ہو گیا، پاکستان کامقدر امریکہ کا زوال، داستان ثقافت اور بے روح سماج کی روح شامل ہیں۔ زبیر کی وفات کے وقت جو کتابیں ادھوری رہ گئی تھیں میں ان کو شایع کروانا چاہتی ہوں اور ان کی اشاعت میں مصروف ہوں۔ ۱۲ اکتوبر ۲۰۱۰ء میں زبیر وفات پاگئے تھے۔ ایک ہی میرا بیٹا ہے سلیمان۔ حال ہی میں انگلینڈ سے بی بی اے کر کے لوٹا ہے۔

عارفہ شہزاد: اچھا یہ بتائیے نظمیں لکھنے کے بعد دوست احباب میں سے سب سے پہلے کسے سنایا کرتی ہیں آپ؟

نسرین انجم بھٹی: جب میں ریڈیو پاکستان آئی تو میں اور شائستہ حبیب ایک ہی کمرے میں بیٹھا کرتے تھے۔ شائستہ بھی ادبی شخصیت کی مالکہ تھیں۔ میں اپنی شاعری انھیں سناتی اور وہ اپنی شاعری مجھے۔اس کے علاوہ فہیم جوزی کو اپنی شاعری سنایا کرتی تھی۔ ہم لوگ باقاعدہ ایک دوسرے سے پوچھا کرتے تھے کہ کیا لکھ اہے ہمیں سناؤ اگر نہیں لکھا تو کیا وجہ ہے؟ریڈیو پاکستان میں میرے ساتھ ناہید شاہد اور ڈاکٹر ناصر رانا بھی ہوا کرتے تھے جو بہ طور پرڈیوسر ریڈیو پاکستان آئے مگر وہ اس شعبہ کو چھوڑ کر تعلیم کے شعبے سے منسلک ہو گئے۔ ان کے ساتھ آج بھی بہت اچھا دوستانہ تعلق قائم ہے۔ عارف نظامی، نجم سیٹھی، جہانگیر ترین اور عشرت مجید میرے بہت اچھے دوستوں میں سے ہیں۔

عارفہ شہزاد: یہ بتائیے کہ اورینٹل کالج کے کن اساتذہ سے بہت متاثر ہوئیں آپ اور غالباً آپ نے پنجابی میں بھی ایم اے کیا ہوا ہے اس حوالے سے کچھ بتائیے؟

نسرین انجم بھٹی: اورینٹل کالج میں مجھے عبادت بریلوی، وقار عظیم اور سجاد باقر رضوی نے بہت متاثر کیا۔ سجاد باقر رضوی ہمیں مغربی ادب پڑھاتے تھے؛۔ ان اساتذہ سے ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ ایم۔ اے اردو میں مَیں عبادت بریلوی کی نگرانی میں نے ن۔م۔ راشد پر تحقیقی مقالہ لکھا جو اس وقت تو نہیں چھپ سکا۔ بعد ازاں ۲۰۱۰ء میں جی۔سی یونی ورسٹی لاہور سے چھپا۔ ۱۹۹۷ء میں ، میں نے پنجابی میں ایم۔اے کیا۔ ۲۰۰۸ء میں Women Studies میں پوسٹ گریجویشن علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے کیا۔

عارفہ شہزاد: شاعری میں کسی سے متاثر ہیں؟

نسرین انجم بھٹی: پسند بہت سے شاعر ہیں مگر کسی سے متاثر ہو کر میں نے شاعری شروع قطعی نہیں کی اور نہ ہی آپ کو میری شاعری پر کسی کے اثرات ملیں گے۔

عارفہ شہزاد: متاثر نہ سہی مگر نظم یا غزل کے کون سے جدید شاعر اچھے لگتے ہیں؟

نسرین انجم بھٹی: غزل میں باقی صدیقی اور فراز کی غزل بہت پسند ہے۔ مجید امجد ہیں۔ منیر نیازی ہیں۔ نیازی صاحب کے ساتھ تو ہم دوستوں کی طرح بیٹھتے تھے۔ دراصل ہماری زمانے میں ایج ڈیفرنس (Age Difference) والا مسئلہ تو ہوتا ہی نہیں تھا۔ اگر آپ کی Mental Age ایک ہے تو آپ دوست ہو۔ ڈاکٹر نذیر احمد بھی ہمارے ساتھ ایسے ہی تھے جیسے دوست ہوں۔ حالاں کہ ہم کیا تھے۔ ہم تو پڑھ رہے تھے ابھی۔ وہ G.C. کالج میں پرنسپل تھے۔ کبھی سرِ راہ ملتے تھے تو ہم N.C.A. والے انھیں ساتھ لے جاتے کہ ڈاکٹر صاحب آئیں ہمارے ساتھ چائے پئیں۔ وہ ہمارے ساتھ بیٹھتے، گپ شپ ہوتی۔ ان میں انکساری بہت تھی۔ ذرا اس بات فخر نہیں تھا کہ میں پرنسپل ہوں۔ گاڑی سے اترا ہوں۔ میری گاڑی کا دروازہ کوئی کھولے۔ گھل مل کر ہمارے ساتھ بیٹھتے دوستوں کی طرح۔

عارفہ شہزاد: معاصر دور کے کون سے شاعر پسند ہیں؟

نسرین انجم بھٹی: فوری نام تو یاسمین حمید کا ذہن میں آتا ہے۔ وہ بہت اچھا لکھ رہی ہیں۔ حمیدہ شاہین بہت اچھا لکھتی ہیں اور اردو پنجابی کو الگ الگ رکھ کرنہ دیکھیں تو ناہید شاہد ہیں، علی ارشد میر ہیں اور نجم حسین سید ۔نجم حسین کوسیدکو تو میں اپنا گرو مانتی ہوں۔ ہم تو شاعری میں بالکے ہیں۔ نجم حسین سید کے۔

عارفہ شہزاد: اسّی (۸۰ء) کی دہائی سے جو شاعر لکھ رہے ہیں ان میں کون آپ کو پسند ہے؟

نسرین انجم بھٹی: نظم میں عبد الرشید ہیں۔ غزل ہمارا فیلڈ نہیں ہے نا اس حوالے سے نام ذہن میں نہیں آ رہے مگر ڈاکٹر ابرار احمد نظم بھی اچھی لکھ رہے اور غزل بھی اور وہ بڑے عرصے سے لکھ رہے ہیں۔ غزل میں واجد امیر کی غزل بہت اچھی ہے۔ نذیر قیصر کی بھی۔ کس کس کا نام لیں اور کس کا نہ لیں؟

عارفہ شہزاد: جو جو آپ کو متاثر کرتا ہے اس اس کا نام لیں نا!

نسرین انجم بھٹی: ہاں .......! افضال احمد سید ہیں۔ انھیں تو میں نثری نظم کے قبیلے کا سردار کہتی ہوں ۔ وہ تو سردار ہیں ہمارے قبیلے کا۔

عارفہ شہزاد: نثری نظم میں اور کون کون نمایاں ہے؟

نسرین انجم بھٹی: تنویر انجم، عذرا عباس، عطیہ داؤد یہ سب ہماری نثری نظم کے قبیلے سے ہیں اور بہت اچھا لکھ رہی ہیں۔

عارفہ شہزاد: اچھا سارہ شگفتہ کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے۔ آپ کو لگتا نہیں ہے کہ سارہ کی نظم میں بکھرؤ والی تمثالیں ہیں جو آپس میں مل کر ایک اکائی کے طور پر نظم کا مجموعی تاثر بنانے میں ناکام رہتی ہیں۔ا ک مصرعہ کہیں ہے دوسرا مصرعہ کہیں ...

نسرین انجم بھٹی: ہاں بالکل بھئی یہ تو ایسا موضوع ہے جس پر الگ سے ایک سیشن ہونا چاہیے۔ سارہ شگفتہ Born شاعرہ ہو گی لیکن وہ Reaction کی شاعرہ ہے۔ Over React کرتی ہے۔ وہ ایک being یا پورے وجود کے ساتھ کسی کے ساتھ نہیں کھڑی ہوتی ۔عشق نہیں ہے اس کی شاعری میں۔ بات بھی یہی ہے کہ اگر آپ کی شاعری میں عشق یا کمٹمنٹ یا Relation نہیں ہے تو پھر آپ React کر رہے ہو تے ہیں۔

عافہ شہزاد: میں نے جب کبھی سارہ شگفتہ کی شاعری پڑھی ہے مجھے یوں محسوس ہوا ہے ایک Imageکہیں گرا ہوا ہے ایک کہیں ہے، انھیں ملا کر جب میں ایک اکائی بنانے کی کوشش کرتی ہوں،بہ طور قاری کوئی تاثیر تلاش کرتی ہوں تو مجھے ذرا مزہ نہیں آتا حالاں کہ آپ کے ہا ں بھی images ہیں مگر ایک ایک مصرعہ اپنی جگہ بھی مکمل ہے اور جب ان مصرعوں کو ملا کر نظم کی عمارت استوار ہوتی ہے تو بہت عمدہ تاثر پیدا ہوتا ہے۔

نسرین انجم بھٹی: یہ تو آپ کی محبت ہے۔ بات کسی تک پہنچ رہی ہو ، ابلاغ ہو رہا ہو، تو بڑی بات ہے۔

عارفہ شہزاد: یہی تو میں میں کہتا چاہتی ہوں کہ مجھے سارہ کے ہاں ابلاغ نہیں ملتا۔

نسرین انجم بھٹی: ابلاغ کیا ہی نہیں سارہ نے نہ یہ اس کامسئلہ تھا۔ شاعری اس نے Reaction میں کی۔ ذاتی مسائل کی باعث اس کا سامنا جن لوگوں سے رہا انھیں وہ پورا معاشرہ کہتی ہے۔ ان میں سے اس کا اپنا کون ہے؟ وہ کس کے پیچھے جا رہی ہے۔ وہ خود کس کی سسی ہے یاا س کا رانجھا کون ہے؟ اس پر کچھ واضح نہیں! عشق نہیں ہے اس کی شاعری میں اور شاعری عشق کے بغیر تو نہیں ہوتی نا۔ آپ کہاں کمٹ کر رہے ہیں یہ تو پتا ہو۔ اگر آپ کے ہاں کمٹمنٹ(Comittment) نہیں تو پھر تو آپ خود کو بھی Betray کر رہے ہو۔ ہر آدمی کو گالی دے کر کہنا کہ میں اچھا ہوں اس سے تو بات نہیں بنتی نا۔ کوئی اچھا پن نظر آئے بھی تو سہی۔ کس کے لیے آپ Soft ہو؟ کس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہو؟ وہ کون لوگ ہیں؟ کوئی غریب مسکین پسے ہوئے لوگ ہیں؟ کوئی بہت بہادر آدمی ہے؟ کوئی بہت خوبصورت آدمی ہے ؟یہ بھی تو کہیں نظر آنا چاہیے نا۔

عارفہ شہزاد: گویا آپ کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ سارہ شگفتہ کی شاعری میں کمٹمنٹ نہیں ہے؟

نسرین انجم بھٹی: بالکل نہیں ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت ہے جس میں عشق نہیں ہے ۔ نہ وہ عاشق ہے اور نہ معشوق لیکن وہ معشوق بننا چاہتی ہے۔ عاشق تو بالکل نہیں۔ جب کہ مرا خیال ہے کہ پہلے آپ عاشق ہیں پھر معشوق۔آپ کا کیا رول ہے عشق میں اگرآپ خود ہمیشہ Receiving end پر بیٹھے رہیں۔

عارفہ شہزاد: یعنی تاثیر اس کی شاعری میں ہوگی جس کی شخصیت میں ایسی کوئی چیز ہوگی مثلاًکمٹمنٹ ہے، خلوص ہے، سچائی ہے؟

نسرین انجم بھٹی: ہاں بالکل ایسا ہی ہے گورکی کو دیکھ لیں۔ اپنی ماں کے ساتھ کمٹڈ ہے۔ گورکی کی شاعری کا سارا Evaluation اس کی ماں کے حوالے سے ہوتا ہے۔

عارفہ شہزاد: آپ کیا سمجھتی ہیں نظم میں یا غزل میں یا شاعری کی کون سی صنف ایسی ہے جو شاعر کا اپنا آپ دکھا دیتی ہے کہ وہ بہ طور شخٰص اور بہ طور شاعر کہاں کھڑا ہے؟

نسرین انجم بھٹی: غزل تو نہیں دکھاتی ۔ سات قسم کی چیزیں ڈالی ہوتی ہیں ایک ہی غزل میں۔ لیکن جب ناصر کاظمی کہتا ہے یا غالب کہتا ہے غزل، تو دکھاتی ہے! غالب غزل میں صرف گل و بلبل اور عاشق و معشوق کی بات نہیں کرتا۔ اس نے غزل میں پورا باغ رکھ دیا ہے۔ غالب تو سائنٹفک شاعر ہے بل کہ شاعروں کا شاعر ہے۔

عارفہ شہزاد: میرؔ کو آپ کہاں رکھتی ہیں یعنی اس کی غزل کو؟

نسرین انجم بھٹی: میر کو تو میں کھل کر چاہتی ہوں۔ میر بڑا خوب صورت شاعر ہے۔ میر نے جس طرح دکھ کو اپنا پیر بنایا ہے اور modify کیا ہے کسی نے نہیں کیا۔ غالب تو Rationale کا شاعر ہے اور اس سے ہم شاعری سے ہم Age of Reason شروع کرتے ہیں۔

عارفہ شہزاد: تو گویا آپ کی ذاتی پسند میر ہے؟

نسرین انجم بھٹی: جی ہاں ذاتی پسند کے طور پر میں، میر ہی کو رکھتی ہوں۔

عارفہ شہزاد: اس کا مطلب ہے شاعری میںRationale سے زیادہ دکھ اہم ہے آپ کے نزدیک؟

نسرین انجم بھٹی: ہاں مگر ہم تو Revolution کی طرف آگئے نا، ideology کی طرف۔اگر میر بھی آگے چلتے اور شہر آشوب میں دلی کے نوحے کو ایک Revolutionary کے نقطۂ نظر سے دیکھتے تو بات بدل جاتی۔ پھر جب ہم شاعری میں نظیر اکبر آبادی تک آتے ہیں تو وہ ایسا شاعر ہے جو لوگوں کے ساتھ جڑتا ہے۔ Down Trodden لوگوں میں آتا ہے۔ میر نہیںآتے... وہ چاند ہی رہتے ہیں ! خواب ہی میں رہتے ہیں! غالب نے البتہ لوگوں کو face کیا ہے۔ گو اسے اجداد کے پیشہ سپہ گری پر ناز رہا ہے ۔پھر بھی ہوں میں میر کی طرف اور طرفداری صرف میر کی ہی کروں گی۔

عارفہ شہزاد: گویا بات وہی ہے شاعری میں دکھ زیادہ اہم ہے؟

نسرین انجم بھٹی: بات یہ ہے کہ آپ شاعری کی طرف آتے کیوں ہے؟ کوئی دکھ پہنچتا ہے نا کوئی تکلیف پہنچتی ہے نا۔ آپ لوگوں کا دکھ دور کرتے ہیں، اپنا دکھ ان کو بتا کر اور ہے کیا آپ کے پاس۔

عارفہ شہزاد: کویا شاعری میں تاثیر کا نظریہ ہی یہی ہے کہ جو دکھ بانٹتا ہے وہ شاعر ہے؟

نسرین انجم بھٹی: ہاں شاعر ہے ہی وہی جو دکھیوں کے ساتھ Onenessبناتا ہے۔

عارفہ شہزاد: حلقۂ اربابِ ذوق یا ایسے پلیٹ فارمز کا ادب کی ترویج کے حوالے سے کیا حصہ سمجھتی ہیں؟

نسرین انجم بھٹی: حلقۂ اربابِ ذوق ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں اور لوگوں کی تنقید اور رائے سے مزید کتنا آگے جانا ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ ہر جگہ ایسا کوئی نہ کوئی institiution ہونا چاہیے۔ کہیں کسی بھی فورم پر جہاں لوگ اپنی تخلیقات پڑھتے ہیں اور دیگر لوگ ان پر رائے دیتے ہیں۔ یوں پتا چلتا ہے کہ ہاں اس نہج پر ہم ٹھیک ہیں اور یہاں ہم میں خامیاں ہیں۔ یوں سب کی رائے کا ہم احترام کرتے ہیں اور سیکھتے ہیں۔

عارفہ شہزاد: یہ جو آپ نے اپنی کتاب میں ’’بن باس‘‘ کا استعارہ استعمال کیا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے آپ جنگل کی بو باس، خوشبو اپنے اندر جذب کر رہی ہوں۔ خاص کر آخری نظم جس کا عنوان ہی بن باس ہے۔ اس میں ’’بن باس‘‘ کے استعارے سے کیا مراد لیتی ہیں یا کیا پہنچانا چاہتی ہیں قاری تک؟

نسرین انجم بھٹی: دراصل بن باس میرے نزدیک Wildernenبھی ہے آپ کی Freedom بھی ہے جسے آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں ویسے تو لاحاصل ہی حاصل ہے ہر چیز کا۔ آپ یہ نہیں کہ سکتے کہ یہ میں اٹھا ہی لوں اور کھا ہی لوں اور مجھے مل ہی جائے۔ اس کی خواہش، اس کا تصور اور اس تک پہنچنے کی Sruggle بھی حاصل ہے بجائے خود۔

عارفہ شہزاد: آپ نے ذکر کیا تھا کہ آپ کی اردو نظموں کا نیا مجموعہ تیار ہے کب آرہا ہے اور اس کا عنوان کیا ہے؟

نسرین انجم بھٹی: وقت ہی نہیں ملتا ورنہ نظمیں تو بہت سی ہیں۔ عنوانات مجموعے کے کئی ذہن میں ہیں ایک تو کاغذ کی اوٹ یا پھر دوسرا دیے پر ہاتھ رکھ دو، یہ بھی میرے ذہن میں ہے۔

عارفہ شہزاد: آپ کیا محسوس کرتی ہیں۔ بن باس کی نظمیں اور بعد کی غیر مدون نظمیں جو رسائل میں شامل ہیں اور آپ آئندہ مجموعے میں سامنے لائیں گی ا ن میں موضوعات میں کیا تبدیلی آتی ہے؟

نسرین انجم بھٹی: میرے خیال میں ان میں Consciousnessکی Growth ہے۔

عارفہ شہزاد: زیادہ تر کن رسائل میں آپ کی شاعری چھپتی رہی؟

نسرین انجم بھٹی: اپنے آپ تو میں کوشش ہی نہیں کرتی کہ چھپنے کے لیے نظمیں بھجواؤں لیکن جہاں سے فرمائش ہوتی ہے میں احترام کرتی ہوں۔ اکیڈمی آف لیٹرز کے رسالے ادبیات، نصیر احمد ناصر کے تسطیر، آصف فرخی کے دنیا زاد اور محمد سلیم الرحمٰن کے سویرا میں زیادہ تر میری شاعری چھپتی رہی۔ پنجابی کی شاعری رسالہ سنگری میں۔

عارفہ شہزاد: نئی نظم کی تفہیم جو نئی ادبی تھیوریوں کے حوالے سے کی جار ہی ہے اس کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟

نسرین انجم بھٹی: میں سمجھتی ہوں یہ تھیوریز آپ کی نہیں ہیں imported ہیں۔ Imported چیز کو آپ بڑی فخر سے تو پہنتے ہیں مگر وہ کھال کے اوپر رہ جاتی ہیں۔ کھال کے اندر جذب نہیں ہوتیں۔ جس نظم کو، جن لوگوں کو جس لائف کو آپ نے live نہیں کیا نظم کی شکل تک آتے آتے مختلف صورتوں میں نہیں دیکھا نہیں پرکھا اس پر آپ یا تبصرہ کریں گے اسے آپ سمجھیں گے کیسے۔ یہی حال نئی تھیوریوں کا ہے

عارفہ شہزاد: بہت سے لوگوں کو میں نے دیکھا کہ جب آپ کی شاعری کے حوالے سے بات ہوتی ہے جھٹ سے رائے داغ دیتے ہیں کہ وہ تو پنجابی کی شاعرہ ہیں۔ آپ کیا کہتی ہیں اس کے حوا لے سے؟میرا ذاتی نقطۂ نظر یہ ہے کہ معاصر ادب میں آپ کو اس حوالے سے Under estimate کیا گیا ہے حالاں کہ آپ کو اردو شاعرہ کے طور پر مقام بہت بلند ہے۔

نسرین انجم بھٹی: یہ تو آپ کہ رہی ہیں نا!اور ثابت بھی آپ ہی کو کرنا ہے ہاں لیکن مجھ سے پوچھنا چاہتی ہیں تو میں تو یہی کہوں گی کہ پنجابی کی شاعری اپنی جگہ ہے اردو کی اپنی جگہ۔ یہ کچھ ان کہنے والے لوگوں کا بھی قصور ہے۔ دراصل ہمارے ہاں لوگ پڑھنے کو عارسمجھتے ہیں کہ ہم کسی کو کیوں پڑھیں۔ مشاعروں میں بھی حال دیکھ لیں اپنی شاعری سنائی اور بھاگ گئے۔

عارفہ شہزاد self-centeredness:آگئی ہے لوگوں میں؟

نسرین انجم بھٹی: ہاں پتا نہیں کیوں اتنے Selfish Attitude ہو گئے ہیں لوگوں کے۔

عارفہ شہزاد: میرا خیال ہے مقدار count نہیں کرنی چاہیے اگرایک بھی مجموعہ ہو اور معیاری ہو تو سبحان اللہ! اسے تسلیم کیا جانا چاہیے مگر حیرت ہوتی ہے کہ آپ پر بہت کم نقادوں نے لکھا۔

نسرین انجم بھٹی: لکھا تو ہے لوگوں نے اوربہت انٹرویو بھی ہوئے۔ نئے آنے والوں کے لیے وہ پرانی چیز ہو چکے ہیں شاید۔

عارفہ شہزاد: میں تنقیدی مضامین کی بات کر رہی ہوں گنے چنے مضامین ملتے ہیں آپ کی شاعری کے حوالے سے حالاں کہ آپ کا فن اس امر کا متقاضی تھا کہ آپ پر اور لکھا جاتا۔ شاید اس کی وجہ آپ کی درویشی بھی ہے۔ اور معاصر دور میں ادب تعلقات کا کھیل بن کر رہ گیا ہے۔

نسرین انجم بھٹی: یہ تو ہے! نہ تو میری کوئی لابی ہے نہ میرے پاس وقت ہوتا ہے مصروفیات کے باعث۔

عارفہ شہزاد: ستر اور اسی کی دہائی میں نثری نظم کے حوا لے سے آپ کا نام بہت نمایاں تھا اور بالخصوص اخبارات میں آپ کے بہت انٹرویوز چھپے۔ اب آپ اس طرح ادب کے منظر نامے پر نظر نہیں آتیں؟ کیا وجہ ہے کیاآپ خود منظر نامے سے ہٹ گئیں یا لوگوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔

نسرین انجم بھٹی: ہاں ترجیحات ہی کا مسئلہ ہے لوگ گھر سے سوچ کر نکلتے ہیں کہ ہمیں سب آتا ہے تو پھر وہ کسی کو کیوں پڑھیں گے۔ مجھے کیوں پڑھیں گے؟دوسری بات یہ ہے کہ میری Diction بہت فرق ہے اس لیے کہ میری فیلڈ میرے مسائل میری Sensibilityمیں فرق ہے۔ میں اور طرح سے سوچتی ہوں اورجب میں مختلف انداز سے سوچتی ہوں تو میری زبان بھی فرق ہے اور میرا محاورہ بھی اور ہے اور میری اصطلاحیں بھی مجھے خود بنانی پڑتی ہیں۔ ڈکشنری میں موجود اکھان، ضرب المثل اور بول میں نہیں برتتی۔ تمثالیں میں خود تراشتی ہوں عام لفظ پورے نہیں اترتے۔

عارفہ شہزاد: معاصر ادب میں جب شاعرات کی بات ہوتی ہے تو دو نام ٹھک سے لے دیے جاتے ہیں کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض۔ اس صورتِ حال میں آپ خود کو کہاں رکھتی ہیں؟

نسرین انجم بھٹی: وہ ہیں! ان کا نام بن چکا کیوں کہ انھوں نے کام کیا اور کام کر بھی رہی ہیں۔

عارفہ شہزاد: لیکن تانیثیت کے حوالے سے کشور ناہید اور عورت کی boldness کے حوالے سے فہمیدہ ریاض کا نام۔ یہ دو عوامل نمایاں ہیں۔ شعریت یعنی شعری زبان اور شعری موضوعات کے حوالے سے آپ انھیں کہاں رکھتی ہیں؟ کیا انھوں نے اس کے علاوہ کوئی خاص ٹرینڈ دیا یا ایک ہی Trend میں مقید ہو کر رہ گئیں؟

نسرین انجم بھٹی: میرا خیال ہے ایک ہی Trend پر اتنا کام نہیں ہوا ابھی تک کہ ہم کہیں یہ مکمل ہو گیا ہے۔

عارفہ شہزاد: نثری نظم آپ کے تعارف اور پہچان کا وسیلہ بنی حالاں کہ آپ آزاد نظم بھی بہت اچھی کہ لیتی ہیں تو پھر نثری نظم کی طرف آنے کی کیا وجہ تھی۔

نسرین انجم بھٹی: نثری نظم میرا Thought Contentشروع سے آخر تک مضبوط اور Complete بناتی ہے۔ یہ آغاز سے اختتام تک میرا ساتھ دیتی ہے۔ آزاد نظم میں مجھے سانچوں کا ساتھ لینا پڑتا ہے اور میں سانچوں والا آدمی نہیں ہوں۔میرے نزدیک Thought Content ضروری ہے ، فارمیٹ ضروری نہیں ہے۔

عارفہ شہزاد: تو آپ سمجھتی ہیں کہ سانچے سوچ کو روکتے ہیں پوری طرح ترسیل نہیں کرسکتے؟

نسرین انجم بھٹی: بالکل ۔ قافیہ استعمال کریں تو سوال یہ ہے کہ قافیہ بھی کتنا۔ دس بارہ، پندرہ پھر اس میںThought ضرور repeat ہوگی۔ کہیں نہ کہیں آپ کو رکاوٹ محسوس ہونے لگتی ہے لیکن نثری نظم تو ایسے ہے جیسے آپ بوسکی کی تھان کھولتے چلے جاؤ۔

عارفہ شہزاد: کیا آپ شعوری طور پر نثری نظم لکھتی ہیں؟

نسرین انجم بھٹی: بالکل نہیں۔ Thought Content کے مطابق جو format آرہا ہے آنے دیتی ہوں آزاد نظم ہو یا غزل ہو یا نثری نظم جو بھی...

عارفہ شہزاد: آپ نے ایک نشست میں مجھے تازہ غزلیات بھی سنائی تھیں ۔ اپنی شاعری میں غزل کو کہاں رکھتی ہیں آپ؟

نسرین انجم بھٹی: میری غزل میں غزلیت سے زیادہ گیت پن ہے۔ گیت ایک ایسی صنف ہے جو فوک اور نثری نظم کے درمیان کی چیز ہے اور میرے مزاج کے قریب ہے شاید اسی لیے میں غزل کی طرف آئی۔

عارفہ شہزاد: آپکی شاعری میں وجودی سوچ بھی ملتی ہے۔ آپ وجود ی فلسفے کو کس نقطۂ نظر سے دیکھتی ہیں یا آپ کی نظر میں اس کی تعریف کیا ہے؟ فرد کی تنہائی؟ Nothingness یا Absurdity؟

نسرین انجم بھٹی: میں اسے Absurdity کے طور پر تو نہیں لیتی ہاں Abstraction سمجھتی ہوں۔ وجود یت میرے نزدیک یہ ہے کہ آپ اپنی ذات کے Aura میں اپنا Authentic Being تلاش کرتے ہو۔ آپ کے اندر بہت سارے Self ہیں جو بہت سی آسیں ہیں امیدیں ہیں جوآپکو کھا رہی ہوتی ہیں۔ ان میں سے آپ اپنے آپ کو نکال کر اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر اپنا Authentic Being تلاش کرتے ہو۔ ہمارا وجودی فلسفہ بابا بلھے شاہ سے Relate ہوتا ہے

عارفہ شہزاد: عام طور پر ہمارے ادب کے نقاد، وجودیت کو Absurdity یا قنوطیت کے معنوں میں لیتے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے؟

نسرین انجم بھٹی: میرا ذاتی نقطۂ نظر یہ ہے کہ وجودیت قنوطیت نہیں ہے۔ یورپین ماڈرن فلاسفروں میں کامیو(Camue) تک تو یہی تصور ہے مگر کافکا اور کرکے گور Absurdity کی طرف آجاتے ہیں۔ میرے خیال میں Nothingness کو اپنے اندر محسوس کرنا وجودیت ہے۔ یہ ایک مزاج کا نام اور یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔جب غالب کہتا ہے :
ع ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے
تو یہ وجودیت ہی ہے جو Absurdity نہیں Abstraction ہے۔

عارفہ شہزاد: آپ کیا سمجھتی ہیں کہ یہ وجودیت یا یہ Abstraction جب آپ بیان کرتے ہیں تو قاری پر کیا اثر ہوتاہے۔ بہ طور تخلیق کار کیا آپ نے یہ کبھی سوچا کہ قاری خود کو خلا میں معلق محسوس کرے گا یا قنوطیت کا شکار ہو جائے گا۔ ایسے خیالات پڑھ کر۔ اس قسم کے وجودی خیالات سے اس کا کتھارسس نہیں ہوگا آپ کے نزدیک اس Abstraction کی کوکھ سے تاریکی جنم لیتی ہے یا کوئی روشنی کی کرن بھی ہے؟

نسرین انجم بھٹی: دیکھیں کتھارسس ہمارا مسئلہ نہیں ہے ہم Condemn کرتے ہیں کتھارسس کو جو اس طرح کا ہو کہ چیز مل گئی تو کھا لیا اور آزاد ہو گئے۔ ہم تخلیقیت کے قائل ہیں۔ ہم نے کتھارسس نہیں کرنا۔ دکھ ، رونا نہیں ہے۔ دکھ سے آپ نے نکالا کیا ہے بنایا کیا ہے۔ ہمارے نزدیک دکھ اصل چیز نہیں ہے آپ کہیں گے کیسے؟ اصل چیز Expectation ہے جب آپ نے Expectکیا فلاں بندے سے امید لگائی اور وہ پوری نہیں ہوئی تو دکھ جنم لیتا ہے۔ گویا دکھ خود تو کچھ نہ ہوا۔ اصل شے تو آپ کی آس ہے اور یہ آس آپ کا وہ وجود ہے جو دوسرے شخص سے Relate کر رہا ہے۔ آپ کے وجود کا کون سا Self کسی کے ساتھ Relate کر رہا ہے اس میں سے آپ نے اپنا Authentic being تلاش کرنا ہے۔ Being Nothingness میں سارترے نے یہی Discussکیا ہے ا۔

عارفہ شہزاد: موسیقی کے حوالے سے آپ نے ذکر کیا تو آپ نے اپنی کتاب بن باس کو کچھ عنوانات میں بانٹا ہوا ہے اور اس کی ذیل میں نظمیں ہیں۔ یہ عنوانات کلاسیکی گیتوں سے مستعار لیے گئے ہیں۔ اس میں کیا سوچ کارفرما ہے؟

نسرین انجم بھٹی: پہلے حصے کا عنوان ہے ’’مائی ری آنکھیں گھونگھٹ کے اندر‘‘ تو اس سے مراد دراصل عورت کا دکھ ہے کہ میں گھونگٹ کے اندر بھی جل رہی تھی اور میرے پاؤں گھونگٹ کے باہر بھی جل رہے ہیں۔ دوسرے حصے کا عنوان ہے ’’آلی ری موری بانوری کر لی‘‘ یاں اس حصے کی نظموں میں آپ کا Romantic being ہے۔ اسی طرح تیسرے حصے کا عنوان ہے ’’آنگن بیچ کھڑی بدرا دیکھ ڈری‘‘ مطلب یہ کہ باہر جاؤں تو بھیگ جاؤں گی اور کھڑی رہوں تو پیا نہیں ملتا۔ یہاں آکر life کی third phase شروع ہوجاتی ہے۔ جسے آپ Society سے Relate کرتے ہیں کہ مجھے اب سامنے کیا کیا درپیش ہے۔

عارفہ شہزاد: شاعری میں واحد متکلم کے صیغے میں کرداروں کی تخلیق کی تکنیک کے حوالے سے آپ کا کیا نقطۂ نظر ہے یہ زیادہ موثر تکنیک ہے یا میں کے صیغے میں شاعر ہی کو بولنا چاہیے؟

نسرین انجم بھٹی: کرداروں کی تخلیق زیادہ موثر ہے۔ جب میں نظم میںیہ کہتی ہوں کہ وے کیہڑا ایں، میری آندراں نال منجھیاں انڑنا ایں‘‘ تو یہ دیہات کی لڑکی بول رہی ہوتی ہے میری نظم میں۔ یہ وہ عورت ہے جس کا دکھ میں بول رہی ہوتی ہوں جب میں ان کی زبان بن جاتی ہوں ان کے Behalf پر بولتی ہوں اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ وہ عورت ہوں۔ یہ پیرایۂ بیان موثر نہیں بل کہ مجبوری بھی ہے کہ وہ عورت جو لوک گیت اور ٹپے کی حد تک اور بچوں کو لوری سنانے کی حد تک اپنا اظہار کر لیتی ہے اس کے جذبات کو جب تک کوئی پڑھا لکھا شخص کوئی Conscious being لے کر آگے نہیں بڑھے گا، اسے elaborate نہیں کرے گا، انھیں زبان کیسے ملے گی۔ یہ تو شاعر کا فرض ہے ہر fine art کو Depict کرنے والے کا فرض ہے۔ ایسے ہی ہے جیسے ہر بندہ ٹیلی فون نہیں بنا سکتا۔ بنایا ایک نے مگر ضرورت سب کی پوری ہوئی۔ شاعری بھی اسی طرح ہی ہے ۔ کی ایک نے مگر ضرورت سب کی پوری ہوئی Masses کی زبان بن گئی بالکل وہی بات کہ میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔

عارفہ شہزاد: نسرین صاحبہ میں بہت شکرگزار ہوں کہ آپ نے اتنا وقت دیا اور ہمیں اپنے متعلق جاننے کا موقع دیا۔

نسرین انجم بھٹی: آپ لوگوں کی محبت ہے جو مجھ تک آئیں۔ آپ لوگوں کے آنے ہی سے پتا چلتا ہے کہ میری نظم کہاں تک پہنچی اس کی بازگشت مجھ تک آتی ہے۔ مجھے پتا چلتا ہے میں جو ایک نظم تھی میں جو ایک شام تھی، میں جو ایک دوپہر تھی، میں جو ایک صبح تھی میں جو ایک ٹوٹا ہوا برتن تھی، میں جو ایک سوال تھی، میں جو صرف آنکھیں تھی، میں کہاں ہوں! آپ کے آنے کا بہت شکریہ۔


(انتخاب)

میری نظمیں

میرے پاس کہنے کے لیے کبھی کچھ اچھا نہیں ہوتا
میری نظمیں سن کر لوگ شاید خود کشی کرنا چاہیں
کیوں کہ یہ پھول اور گھنگھرو او ر بادل نہیں ہیں
کیوں کہ یہ سیلن زدہ بیج اور پیتل کے پنکھ
ٹوٹے ہوئی ناچ اور ریت میں رہ گئی مسافتیں ہیں
میری نظمیں
گیت اور کلیاں اور آنکھیں نہیں ہیں
یہ ٹوٹنے والے جھولے، مانگے ہوئے ساون اور ترسے ہوئے بچے ہیں
پتنگیں انھوں نے چڑھانی نہیں اتارنی سیکھی اتنے میں سکّوں کا مول گر گیا
میری نظمیں کاٹھ کی پتلیاں نہیں ہیں
اگرچہ یہ ویسی ہی حیران اور خوف زدہ بھی ہیں
اور اپنے سوا ہر ایک کے دل میں بس جاتی ہیں
میری نظمیں جلی ہوئی کوکھ کا دھواں ہیں
یا میز پر بکھرے ہوئے تراشے
ان کے چہرے پہچانے نہیں جاتے
مگر ان کی آنکھیں بے زبان نہیں ہیں، ایک جانی بوجھی سازش کا شکار ہوئی ہیں
میری نظمیں مرغابیاں نہیں
ٹوٹے ہوئے تیر ہیں
دلچسپ داستانیں نہیں، غیر متوقع حادثے ہیں
میرے ہونٹ حکیمِ حاذق نے جلائے
ایک خاص بیماری کو روکنے کے لیے ایک دوا بنائی
جس میں بہت سچ پڑتا تھا
اور جس کو ایک تنکے سے بھی کھانا منع تھا
میری نظمیں میرا آخر نہیں
تمھارا شروع ہیں
ان کو سنبھال کر رکھنے کی درخواست میرے پاس نہیں ہے
اور ان کو خاکستر کر دینے کا فن اگر تم سیکھ جاؤ
تو سیدھے میرے پاس آنا
اور کہیں مت جانا
٭٭٭

تذبذب، تلاش اور ترکِ تلاش

محبت کا گیت ہونٹوں کا پھل ہے
شاخوں سے ٹپکتی بارش، سفر کی آخری منزل میں ہے۔ آؤ دیکھیں
بادل اسے برسا کر کس طرف گیا
دور کے مسافروں کا کیا ٹھکانہ
تلاش کرتی آنکھیں دوریوں سے دلبستگی رکھتی ہیں
جستجو کا کام زخم کریدنا ہے سو کبھی ختم نہ ہوگا
کیوں کہ محبت اسے سینچتی ہے
اسی سے پوچھو، رات اور دن میں پڑاؤ کہاں کرنا لازم ہے
کہ محبت کے گیت ہونٹوں سے کبھی جدا نہ ہوں
بھیگ جاتی ہیں آستینیں جب روتے روتے تو اعلان ہوتا ہے کوچ کا
آنکھوں نے آنکھوں سے آنکھیں اٹھا لیں اور پتہ نہیں کب
جنگی قیدیوں کی قطاریں پچھلی دیوار کے سائے سائے گزر گئیں
سنسناہٹ میں سائے پروئے گئے
وہ سب کے سب محبت کی مشقت سے بچ گئے
مگر محبت سے نہ بچ سکے
وہ کٹی ہوئی زبانوں کے باوجود
ہجر کی سرگم کرتے تھے
؂وہ رات اور دن کے بیچ کوئی پڑاؤ نہ پا کر، چلتے چلتے کچھ لکھتے تھے چلتے چلتے کچھ پڑھتے تھے
چلتے چلتے کچھ گاتے تھے
’’تم ہم سنگ‘‘ شاید کوئی
شکوہ تھا یا اعلانِ جنگ یا گریز یا محبت کا نوحہ
ان کے نزدیک دوریاں بہت نزدیک تھیں اور نزدیکیاں بہت دور
اے دردِ گرہ گیر ٹھہر، دیکھنے تو دے
یہ کون ہیں ؟؟؟
جو اندرونی محاذِ جنگ پر لڑ رہے ہیں
دشمن باہر سے نہیں آیا
ہتھیار بھی مقامی ہیں بل کہ سیلف میڈ
اپنی ہی ہڈیاں، اپنے ہی ناخن اپنے ہی خون کی بو
بارود ہوئی جاتی ہے
اے دردِ گرہ گیر! اگر لازم ہے بہت ایسے جلا
کہ محبت کے گیت ہونٹوں سے کبھی جدا نہ ہوں
٭٭٭

کچھ نہیں

اس نے پھر سورج لکھا
اور شام سے سجدہ لیا
روشنی انڈیلتا دستِ چراغ
بے بسی کی گود میں الٹ گیا بھلا ہوا
ابھی ابھی لکھا ہوا کاغذ کوئی
لہو لہو سیاہیوں سے سرخ رو تھا جل گیا سیاہ رو نگاہ میں تو سرخ رو تھا المیہ!
لکھا تھا سادہ نثر میں
آنکھوں پر ایمان لے آؤ
ان کے پاس زبان نہیں
زبان پر آگ رکھ دو
اس کے پاس دل نہیں
دل کو چاہے دھول میں ملا دو
اس کے پاس تمھارے سوا کچھ نہیں
سو میں نے "کچھ نہیں "لیا اور سانس میں لپٹ کر
"کچھ نہیں "سے اس کے پائیں باغ کا پتا لیا
بے بسی کی گود میں چراغِ شب کی راکھ بھری
اور
شام کے سجدے کے آگے جادھری
اور "کچھ نہیں "کہا اسے
کہہ دے مجھے، نہ دے مجھے
اے داستانِ دلبری
یہی ہے میری حاضری
٭٭٭

بھرم

کوئی کشش کرتا ہے
معلوم سے نامعلوم کی طرف
اور موجود سے معدوم کسی پڑاؤ بتیاں رات کا بھرم بہاتی ہیں
آنکھیں ان سے بھر جاتی ہیں
دل خالی ہو جاتے ہیں جیسے
انھیں انڈیل دیا گیا ہو دہلیز پر پڑے دیے کی طرح
روشنی رینگتی رینگتی گردن تک آپہنچی
آنکھیں ابھی دور ہیں
اوپر کی منزل میں روشنی ہے ’’یا روشنی اوپر کی منزل میں ہے‘‘
کوئی کہتا ہے، میں نہیں سنتی
تم آنکھیں بند کر لو اور میری آنکھوں سے دیکھو
شاید ہم ایک دوسرے کودیکھنا
اور اعتبار کرنا سیکھتے ہیں
؂جب اعتبار تک کا سفر نامعلوم کا سفر ٹھہرتا ہے تو انسان اپنی حیثیت کو آخری شکل دیتا ہے
آنکھوں میں کون بھر گیا
کہ پھر کسی چیز کی پہچان نہیں رہی
پہچان کو کون، اپنا کیا
کہ اپنے سے دور چلی گئی
ناراض رات دن کو خوشی کی طرح سناتی ہے
کبھی دیوار سے ٹکراتی ہے
کبھی قدموں تلے آتی ہے
ناراض رات نارضگی کو دونوں ہاتھوں سے ڈھانپتی ہے اور مسکراتی ہے
تو موم بتیاں بھڑک اٹھتی ہیں
ہتھیلیاں جل جاتی ہیں نصیبوں کی مٹھاس کو
نمکین سے کڑوا ہوتا ہوا لوگ نہ دیکھیں کیا سب لوگ ایسے ہی سوچتے ہیں؟
ہتھیلیاں جلتی ہیں
جلتی ہیں
جلتی ہیں
موم بتیاں نہیں جلتیں معدوم کے سفر کے صحیفے جلاتی ہیں کہ سفر کھوٹا کرتی ہیں
آنکھوں کو پار اترنے کا اذن دو، خدا حافظ کہنے دو
کیوں کہ تم جو کہو گے ، وہی ہو گا کہ ہونا دو طرفہ عدم کا آئینہ ہے
٭٭٭

1 تبصرہ:

ms siddiqui کہا...

بہت خوبصورت شاعرہ....دل اثر شاعری.....

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *