جمعرات، 16 جون، 2016

نئے ادبی نظام میں اجارہ داری/اقبال مجید

میرے عہد کا ابتدائی دور
میں نے نصف صدی پیشتر ادب کی دنیا میں باضابطہ قدم رکھا تھا۔ میرے ساتھیوں میں کچھ تو مرکھپ گئے، کچھ تھک چکے اور بعض اب بھی تواتر سے نہ سہی، کبھی نہ کبھی لکھ رہے ہیں۔ اپنے دور کے آغاز میں ہم نے تخلیق کے لیے ایک بے لوث اور مشفقانہ فضا پائی تھی۔ ادبی اختلافات اس وقت بھی تھے لیکن ان اختلافات کا احترام ہم سب پر اس لیے واجب تھا کہ وہ ہماری ادبی تہذیب کا بنیادی جزو تھا۔ اُس وقت کی ذہن ساز شخصیتوں کے نام گنانے کی ضرورت نہیں کہ نئے اور پرانے ادیب، سب انھیں جانتے ہیں۔ اُس وقت بھی پرانی تحریکیں موجود تھیں اور نئے رجحانات کا دور دورہ تھا۔ عقائد اور خیالات کا ٹکراؤ ہورہا تھا لیکن بدمزگیاں ایسی نہ تھیں کہ زبان کی کڑواہٹ سے متلی آنے لگے کہ شب خون کی ادارت میں احتشام حسین کا نام بھی تھا۔
سرور صاحب، احتشام صاحب، ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، ڈاکٹر محمد حسن، شمس الرحمن فاروقی کے علاوہ پورے ملک کے جامعات کے دانشور ایک پلیٹ فارم پر بیٹھتے تھے۔ اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ہر سمینار میں یہ تمام حضرات اپنے موقف اور خیالات کے اظہار میں ہر اعتبار سے مخلص اور دوسروں کے خیالات کے ہمدرد نظر آتے تھے خواہ اختلاف ہی کیو ں نہ ہو۔ ہم اور ہماری نسل کے لکھنے والے ان کی گفتار اور تحریرو ں کو توجہ سے جذب کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اسی کے ساتھ ساتھ بلران مین را سے لے کر قاضی عبدالستار تک سب اپنی اپنی جگہ بنا رہے تھے اور اپنے تخلیقی عمل کے چراغ کی لَو تیز کررہے تھے۔ بہار، دہلی، علی گڑھ اور لکھنؤ ایک فضا اور ایک سُر میں سرگرمِ عمل تھے۔ اسی سرگرمی میں کئی نئے نام مختلف اصناف میں اپنی اپنی شناخت یا تو بنا چکے تھے یا بنانے کے عمل سے گزر رہے تھے۔ اس وقت کے ادبی رسائل کو شروع صفحات سے پڑھا جاتا تھا، آخر کے صفحات سے نہیں جہاں قارئین کے خطوط برائے نام ہوا کرتے تھے۔ ان رسائل کے انتظار میں ایک عجیب بے چینی سی رہا کرتی تھی۔ اُن میں سے ایک دو ایسے رسالے بھی تھے جن کے مدیر بیوی کا زیور گروی رکھ کر نکالا کرتے تھے، مثلاً عابد سہیل کے ماہنامہ ’کتاب‘ کی کیفیت تو مجھ سے چھُپی نہ تھی۔

کسی دن منظر بدلتا ہے
منظر بدلنے کا دن اور تاریخ وہ لوگ بھی نہیں بتاسکتے جو اُن دنوں ہمارے لیے روشنی کے مینار تھے اور ان میں سے آج بھی کچھ زندہ ہیں۔ اگر سن اسّی میں ظہور پانے الے ادیبوں سے پوچھا جائے تو تبدیلی کا احساس رکھتے ہوئے بھی وہ دن اور تاریخ نہ بتا پائیں گے۔ سب سے بڑی تبدیلی عام ماحول میں محسوس کی گئی۔ ایک ہلکے پن کی، کھلنڈرے پن کی، حق سے زیادہ خود کو نمایاں کرنے کی، طول طویل منزل کے راستے کو چھوٹا اور مختصر کرنے کی، عام اور نازیبا بڑبولے پن کی، مضحکہ پسندی کی، سنجیدہ گفتگو، سنجیدہ مطالعے اور سنجیدہ محفلوں سے بیزاری کی، پگڑیاں گرانے، اچھالنے یا اُتارنے کی، سازشو ں اور منافقوں کی پسماندہ، نیم خواندہ، غیر شریفانہ طبقے کے پس منظر سے نکل کر دلوں میں ادب کا شوق لے کر آنے والوں کی۔ یہ سب تبدیلیاں آپس میں گھل مل کر اور ایک نئی اجتماعی شکل میں ڈھل کر غیر محسوس طریقے سے ادبی فکر کو، ادبی کردار کو اور ادبی رسائل کو اپنے رنگ، اپنے طرزِ احساس، اپنی طرزِ فکر اور اپنے طرزِ اظہار کے سانچوں میں دبے پاؤں یوں اتار رہی تھی جیسے آنکھوں میں نیند اُترتی ہے۔

منظر اور بدلتا ہے
یہ منظر آپسی دوریوں کو بڑھانے، رنجشوں کو اُگانے، نفرتوں کو بونے اور ایک سرد بے مہری اور بے حسی کے کُہرے جیسی دھند کا منظر ہے، لوگوں کے سہم جانے کا منظر ہے، بہت احتیاط سے کچھ بولنے کا منظر ہے، کچھ لکھنے سے پہلے یا تو کچھ بھی نہ سوچنے یا پھر سوچتے ہی رہنے اور کچھ بھی نہ لکھنے کا منظر ہے۔ انا کی تلواریں اور چھُریاں چمکانے اور لہرانے کا منظر ہے اور اپنے اپنے میمنہ اور میسرہ درست کرنے کی فکر میں لگ جانے کا منظر ہے، سرحدیں وضع کرنے اور چوکیاں تعمیر کرنے کی اور نقشہ بندی کا منظر ہے۔ ادب کی ریاست کا سیاسی ریاست (Political State) کی شکل میں میٹامارفاسس کیے جانے کی تدبیروں کا منظر ہے۔ ادب کو نئی اقدار سے نوازنے کی تیاری کا منظر ہے۔
اب نئے مناظر جوان اور میں بوڑھا ہوچکا ہوں
اب میں پچھتّر برس پورے کرچکا ہوں۔ میرے عہد کے کچھ بڑے اور کچھ چھوٹے ادیب اب بھی موجود ہیں، میں ان کے دل کا درد اب کی موجودہ فضا کر لے کر نہیں جانتا۔ وہ نالاں ہیں، یا متفکر ہیں یا پھر مطمئن ہیں، کچھ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ میرے عہد کے وہ روشنی کے مینارے جو آج بھی حیات ہیں اور میری دعا ہے کہ ان کی عمر اور لمبی ہو، وہ ادب کی عمومی صورتِ حال میں خود کو پاکر کیسا محسوس کررہے ہیں، میں نہیں کہہ سکتا۔ لیکن میں باربار ایسا محسوس کررہا ہوں کہ ہمارے عہدکے ادبی ماحول کی خوبیاں اور اس کا حسن بالکل اسی طرح تبدیل ہوتا جارہا ہے جس طرح گلوبل وارمنگ آج دنیا کو متاثر کررہی ہے۔ مانتا ہوں کہ تبدیلی برحق ہے لیکن اگر تھرما میٹر خود کو گھاس چھیلنے کے کھرپے میں تبدیل کرلے، انٹراکٹکا ریگستان میں بدلنے لگے تو دل دہلے گا۔ ان غیر معمولی تبدیلیو ں کی طرف متوجہ کرنے سے پہلے یہ واضح کردوں کہ میں کسی فرد یا جماعت کو اس کا موردِ الزام قرار نہیں دے سکتا۔ خوفناک تبدیلیاں ادب کی جو عمومی فضا میں اس کے کردار اور اس کے عملی رویوں میں، اس کے بنیادی مقاصد میں، اس کے Discipline میں ہوگئی ہیں یا جن کا غلبہ ہے، مندرجہ ذیل ہیں۔

بنیادی تبدیلی:
ادبی ریاست (Literary State) بہ نام سیاسی ریاست (Political State)
مجھے لگتا ہے کہ اب میرے عہد کی ادبی ریاست (Literary State) (اگر اسے یہ نام دینا غلط نہیں) تو اپنی خصوصیات اور شناخت ترک کرتی جارہی ہے اور ایک Political State یا سیاسی ریاست کا روپ دھار رہی ہے۔ جس طرح سیاسی ریاست کا مرکز اس کا حاکم یا حکمراں طبقہ ہوا کرتا ہے، ہماری ادبی صورتِ حال میں بھی اپنی اقلیم میں ایک نئی نوعیت کی ایک نئی سپریم اتھارٹی قائم کرنے کا شدید رجحان پیدا ہوچکا ہے اور یہ بلند اختیاری طاقت اور اپنا اثر و رسوخ انھیں ہتھکنڈوں سے حاصل کررہی ہے جن سے کسی سیاسی ریاست (Political State) کا حکمراں حاصل کرتا رہا ہے۔ جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء کے ’اردو ادب‘ دہلی کے صفحات پر ’الفاظ کے وارث‘ کے عنوان سے سیّد خالد قادری کا مضمون ہمیں مطلع کرتا ہے کہ سیاسی ریاست میں کچھ طاقتور الفاظ کے وارث ہوا کرتے ہیں جو اس ریاست کے عصری، سماجی اور سیاسی نظام کو حسب حالات reinforce بھی کرسکتے ہیں اور subvert بھی۔
یہی ذہن ساز لوگ الفاظ کے وارث کہلاتے ہیں، اور کوئی سیاسی نظام کتنا ہی قابلِ ستائش کیوں نہ ہو اس کے استحکام کی ضمانت نہیں دی جاسکتی جب تک الفاظ کے یہ وارث اس کے حق میں اپنا منہ نہ کھولیں اور اس کی حمایت میں بولتے اور لکھتے نہ رہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو نظام خواہ مرلی منوہر جوشی کا ہو یا بہن جی مایاوتی کا، اپنے قصیدہ خواں الفاظ کے وارثوں کے آگے چند ٹکڑے ڈالنا اس نظام کی مجبوری ہوا کرتی ہے۔ قادری کا مضمون ہمیں یہ معلومات بھی فراہم کرتا ہے کہ کسی State کے الفاظ کے وُرثا میں اپنی منفرد شناخت بنائے رہنے کی شدید خواہش ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ دوسروں کے مقابلے میں ان کی اَنا بھی زیادہ طاقت ور ہوا کرتی ہے۔ اس کی تائید کے لیے نپولین کا یہ قول بھی نقل کیا گیا ہے: ’’انا یا تمکنت انقلابات کا باعث ہے، آزادی کا حصول تو ایک بہانہ ہے‘‘۔ Stateکے یہ دانشور جن میں شاعر اور ادیب شامل ہیں، کچھ اس طرح مسائل میں گرفتار رہتے ہیں اور اپنے مخالفین سے نبرد آزما رہا کرتے ہیں کہ انھیں اپنے ناکام رہ جانے کا دھڑکا لگا رہا کرتا ہے۔ ان کی نفسیات ان کے اندر ایک طرح کا بڑبولا پن پیدا کردیتی ہے اور ان کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی انا کو محفوظ اور مستحکم رکھنے کا ہوا کرتا ہے۔
قادری کی تحریر کے مطابق سیاسی ریاست کے الفاظ کے وارث انقلابات لانے کے لیے ریاست کے عوام کے ایک مخصوص عقیدے کو ختم کرکے دوسرے کے لیے جگہ بنانے کا کام اس لیے کرتے ہیں کہ زیادہ تر لوگ اپنی لاحاصل، بنجر اور بے مایہ زندگیوں کا بوجھ کسی یقین یا عقیدے کی روشنی کے بغیر نہیں ڈھوپاتے۔ انھیں کچھ نہ کچھ ایسا چاہیے جو ٹھوس اور قابلِ بھروسہ ہو۔ ریاست کے الفاظ کے وارثوں کی انا اپنی برتری کی تشہیر اور اس کا دفاع (خود کی ناکامی کے امکان کے سدِّباب کے لیے) بڑھ چڑھ کر کرواتی ہے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ریاست کے عوام یقین و عقیدے کی خود ضرورتی کے سبب الفاظ کے وارثوں کے دفاع کو بھی تقدس کے درجے تک لے جاتے ہیں۔

نئے ادبی نظام کے بلند اختیار نگراں
قادری نے الفاظ کے وارثوں جن میں فنکار، شاعر، ملاّ اور خطیب وغیرہ شامل ہیں، کی نفسیات، ترجیحات، تحریک پسندی، دشواریاں، ریاست سے ان کا رشتہ وغیرہ بتاکر اپنی بات ختم کردی ہے لیکن میری الجھن یہ ہے کہ کیا دنیا کی عام تبدیلیوں کے ساتھ ہماری ادبی ریاست میں کچھ منفی رجحانات داخل ہوچکے ہیں جس نے ایک نئے ادبی نظام کو وضع کرنے کا میلان پیدا کردیا ہے اور وہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے اور یہ میلان کیا ایسے ادبی نظام کے فروغ کو تقویت دے رہا ہے جس میں اس نظام کے بلند اختیار نگراں پیدا ہوں اور ان کی ترجیحات میں بھی کسی ادبی نظام کو حسبِ حالات reinforce کرنا یا subvert کرنا داخل ہے اور کیا انھیں کسی کمپنی کے Managing Director کی طرح ایسی بالادستی حاصل ہے کہ ادب کی کمپنی کا کوئی بھی کارنامہ یا ادب پارہ اپنے استحکام کی ضمانت نہیں پاسکتا جب تک یہ اس کے حق میں اپنا منہ نہ کھولے اور اس کی حمایت میں بولتی اور لکھتی نہ رہے۔

کیا مملکتِ ادب کوئی کمپنی یا سیاسی نظام ہے؟
نئے ادبی نظام کے بلند اختیار نگراں فرد، یا طبقہ اپنی ترجیحات کے سبب ہمارے ادبی نظام کو Political State کے نظام پر تو قائم نہیں کررہا جس کا کچھ ظاہر اور کچھ خفیہ ایجنڈا ہوا کرتا ہے اور افلاطون کی ریاست کے، الفاظ کے وارثوں کی طرح اس کا بھی پہلا شوق ادب کے کسی نظام کو معطل کرنا، نافذ کرنا یا بے دخل کرنا ہے اور جنھیں افلاطون مملکت سے نکال دینے کا خواہاں تھا، تو کیا ہمارا نیا ادبی نظام جس کی ترجیحات نئے میلانات کے سبب بدل گئی ہیں، سپریم اتھارٹی کے منصب اور دائرۂ اختیار اور قوت کو مجرمانہ حد تک فروغ تو نہیں دے رہا ہے۔
تو کیا یہ گہری تشویش کی بات نہیں کہ جانے انجانے اپنے نئے چہرے اور اختیارات کے ساتھ معاون متون کے شعبے کا یہ دانشور کمپنی کا ایک کامیاب منیجر بننا پسند کررہا ہے اور ادبی نظام کو یہ دکھا رہا ہے کہ نظام کی نکیل اس کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ اپنا حقیقی منصب ترک کرکے سیاسی ریاست کے کامیاب opinion maker کی رعونت، طاقت اور ہٹ دھرمی کا چولا پہن رہا ہے اور آزادیِ اظہار جس کے لیے ڈھکوسلہ ہے جب کہ درحقیقت اس کے پردے میں ادب کی نئی ریاست کا یہ منیجر اپنی انا کی تسکین، اپنی منفرد شناخت اور اپنے ایجنڈے کی تکمیل کا خواہاں ہے۔
اگر ہمارے اس نئے نمونے کے نقاد کو ہمارے ادب نے اپنے معاون متون مثلاً تنقید اور تحقیق وغیرہ کی آبرو بڑھانے کا کام سونپ رکھا تھا اور جس کا مرکز ادب اور صرف ادب تھا لیکن ہماری بدقسمتی سے اس بنیادی مرکز کو چھوڑکر اس کو ایسی بلند اختیار منیجری اور اس کی ذیلی آرائش او رایسے اختیارات جن پر کوئی روک ٹوک نہ ہو اس کا دبدبہ وغیرہ پسند آچکا ہے تو ایسی صورت میں اس نئی نوعیت کے ناقد کی اپنے کام سے کہیں زیادہ اس پر دیگر انتظامی ذمہ داریوں، غیر ادبی اور غیر دانشورانہ کاموں کے بوجھ کے نیچے دبے رہنے سے اسے اپنے بنیادی مقدس کام اور ذمہ داری کو دیانت داری سے پورا کرنے کی نہ صلاحیت رہ جائے گی اور نہ فرصت تب کیا آصف فرخی کی یہ شکایت اس پس منظر میں بجا ہوگی: ’’وہ (نقاد) کتابوں یا ادب پاروں کے درمیان سفر کرتے ہوئے انسلاکات اور ربط تلاش کرنے کے عمل سے نہیں گزرتے اور اپنی تنقید کو تخلیق کا تابع نہیں بناتے بلکہ تخلیق کا احتساب کرتے ہیں اور اس پر بندش لگاتے ہیں‘‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئی مسموم صورتِ حال میں ہمارے بعض نقاد اپنے مقدس رتبے سے اترکر کسی کمپنی کے منیجر جیسے نہیں بنتے جارہے ہیں۔

معاون متن کی تخلیقی متن سے بیزاری کیوں؟
تنقید کے بارے میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ ادب کے معاون متون میں سے ایک ہے اور ناقد کا بنیادی سروکار ادبی متن سے ہے۔ تو کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارا ناقد ادبی نظام میں نئی بااختیار اور بلند جگہ بنانے کے لیے ادبی متون میں سر کھپانا تضیع اوقات سے بھی بدتر سمجھتے ہیں۔ کسی دوسرے بلند مرتبے پر پہنچنے کے لیے ادبی متن کو اسی طرح حقیر فقیر تو نہیں سمجھتے جس طرح سیاسی ریاست کا وارثِ الفاظ، کمزور ملک کے راجہ کو منہ لگانے کے بجائے عوام سے نظر بازی کرنے میں زیادہ فائدہ محسوس کرتا ہے۔ تو کیا ہمارا نیا الفاظ کا وارث ادبی متون سے ساز باز کرنے کے بجائے اور مملکت ادب کے معاون متن کو وقار بخشنے کے بجائے اسی طرح اقتدار کے حصول کے مقصد پر خود کو لگا رہا ہے جیسے سیاسی ریاست کے الفاظ کا وارث لگاتا ہے۔ تو کیا ادب کے معاون متن کی چاکری کرنے والے کی بھی وہی نفسیات ہے اور وہی نفسیات اس کی ترجیحات بھی متعین کررہی ہے۔ اگر وہ تخلیق کی ’’بہتر، حساس اور عمیق تر تفہیم‘‘ کو ترجیح دیتا تو اُن اوزاروں کو استعمال کرتا جن کو وہ کبھی تخلیقی تنقید کے لیے کرتا تھا اور اس مقدس کام کے لیے کسی مزید بلند مرتبے اور غیر ادبی دبدبے کا طالب نہ ہوتا۔ اس طرح کے رجحان سے ہمارے بعض نقاد جانے انجانے زیادہ ہی متاثر ہوچکے ہیں۔
کیا جمہوری ریاست کے طرز پر ہمارا تنقیدی نظام بن رہا ہے؟
اپنے ادب میں نئی صورتِ حال سے پیدا ہونے والے شبہات مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہماری تنقید ایک نئی ادبی تہذیب کے دور میں داخل ہورہی ہے۔ جس طرح کوئی جمہوری ریاست سیاسی پارٹیوں کے نظام پر قائم ہوتی ہے اور بعد میں اسے ہائی جیک کرلیا جاتا ہے ویسے ہی کیا ہماری ادبی ریاست بھی پارٹیوں والا نظام اپنا رہی ہے جس کا اپنا اپنا مسلک ہوا کرتا ہے اور جہاں ملک کے عام مفاد سے زیادہ پارٹیوں کا بول بالا ہوتے دیکھا جارہا ہے۔ یہ شبہات ہمارے دل میں آج کا ادبی ماحول کیوں بیدار کررہا ہے۔ کیا پہلے بھی ایسی ہی فضا تھی۔ کیا باوجود دوسری شکایتوں کے ہمیں ادبی تنقید کے وارثوں مثلاً مجنوںؔ گورکھپوری، کلیم الدین احمد اور احتشام حسین وغیرہ سے بھی اسی طرح کے رویّے کے شکوک پیدا ہوئے تھے۔ اور کیا اُن لوگوں کے دور کی کارکردگی میں بھی ایسے ہی مشتبہ رجحانات پنپ رہے تھے۔ کیا یہ ناقد جو منیجر بن رہا ہے اور کمپنی کے ملازموں کی چہرہ نظری کرتا ہے، اسے اپنی اہمیت کم ہوجانے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ کیا ادب میں اس نئے حکمراں کے سامنے ادیب کی حالت State کی عام رعایا جیسی ہوتی جارہی ہے اور اس نئے حکمراں کو اپنے اقتدار کے لیے اپنی ادبی ریاست کے ایسے افسانہ نگار، شاعر اور دیگر معاون متون تیار کرنے والوں کی حاجت رہا کرتی ہے جو اپنی نقلی، بنجر اور بے مایہ تخلیقات کا بوجھ کسی عقیدے یا یقین کے بغیر نہیں ڈھو پاتے اور اپنے حکمراں کے کبھی ادبی، کبھی نیم ادبی اور کبھی غیر ادبی مسلک کی چھت کے نیچے رہ کر خود کو اور اپنی تخلیقات کو اسی طرح زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں جس طرح ریاست کے عوام ریاست کے حکمراں کے مسلک کی چھت کے نیچے رہ کر محسوس کرتے ہیں۔ تو کیا ایسا ہے کہ ایسے خالی اور منتشر ذہنوں میں نظریے اور تھیوریوں کی روشنی جگانے کا کام ادب کی آبیاری کے لیے نہیں بلکہ اپنی برتری اور ادیب کو ایک مسلک کی لالی پاپ پکڑانے کے لیے کیا جاتا ہے، جس کو ریاست کے محکوم عوام کی طرح ادب کی اقلیم کا محکوم ادیب بھی برسوں چاٹتا اور چوستا رہتا ہے۔
کیا ہمارے تخلیق کار علم و فن سے بے بہرہ ہیں اور

کیا وہ ادب پارے کو خود مکتفی اکائی نہیں بنارہے؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ادب کی یہ مسموم نئی فضا جانے یا انجانے تخلیق کار کو بھی اس دام میں شریک کرتی جارہی ہے۔ اگر ہمارے تخلیق کاروں کو ایسے مجرمانہ ایجنڈوں کی شناخت کرنے کی صلاحیت نہیں اور ان کا علم اور ادراک انھیں خود احتسابی کا شعور نہیں دے سکا ہے تو انھیں لکھنا چھوڑ کر کیا فٹ بال یا کرکٹ نہیں کھیلنا چاہیے۔ ان میں سے کتنے ہیں جو خود کو اپنے گرد و پیش سے باخبر رکھتے ہیں، مطالعے میں غرق رکھتے ہیں، فاروقی یا نارنگ کو ذلیل کرنے کے لیے نہیں بلکہ ان سے اکتسابِ علم کے لیے انھیں مہذب طور پر ٹوک سکتے ہیں۔ کیوں نہیں وہ اپنی تخلیقی سرگرمیوں میں اسی طرح سرگرداں ہوتے جیسے ہمارے مخلص الفاظ کے وارث رہا کرتے تھے اور بعض اب بھی رہتے ہیں۔ یہ میدان کل وقتی عمل مانگتا ہے، خون لگاکر یہاں شہید بن جانا ممکن نہیں۔ اس کھیل میں کوئی شارٹ کٹ نہیں، پُرخلوص لگن اور ریاض یہاں خداداد ذوق رکھنے والوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ کہیں ان کی بے مائگی انھیں اس کھیل میں پھنسنے کے لیے مجبور تو نہیں کررہی۔ کیوں کہ جس طرح ریاستی وارث الفاظ کو اپنے مطلب کے لیے بے خبر عوام درکار ہیں ویسے ہی ادب میں ادب کے منیجر کی مطلب براری بھولے بھالے مزدور، ادیبوں کی skilled labour کی مدد کے بغیر نہیں ہوپاتی۔ تو کیا ایسا ہورہا ہے کہ ہمارے ادبی نظام میں بیشتر فن پارے خود مکتفی اکائی نہیں بن پارہے اور اپنے معاون متن یعنی تنقید کو بھر پیٹ غذا نہ دے کر بھوکا رکھ رہے ہیں اس لیے تنقید بھی بے چاری ان غیر مکتفی اکائیوں کو ڈنڈی مارکر اور substandard بانٹوں سے تول کر اپنی غذا manupulate کرلیتی ہے جب کہ اس کے برعکس ’آگ کا دریا‘ جیسی خود مکتفی اکائی تنقید کے ہاتھ لگ جائے تو بغلیں بجاتی ہوئی دیکھی جاتی ہے۔ اتنا تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ فن پارہ ایک خود مکتفی اکائی نہ تو کسی ناقد کے مشوروں سے بنتا ہے اور نہ ہونولُولُو کی کانفرنس میں ناقد کے ساتھ اس کا سوٹ کیس لاد کر چلنے سے۔

ہر سسٹم کی اچھائی اور برائی ساتھ آتی ہے
اگر ہماری نئی ادبی صورتِ حال ادب کی ریاست کا میٹامارفاسس کسی سبب سے سیاسی ریاست کے سسٹم کی شکل میں کررہی ہے اور ادب میں Political State کے طور طریقے اور اوزار استعمال کررہی ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہوگا کہ ادب کی مملکت کے دبے کچلے عوام یعنی ادیب اپنے مفادات کے لیے ادبی پارٹیاں بناکر اپنا تحفظ کریں، جن کے اپنے جھنڈے ہوں، ان کے گروہوں میں سیاسی قتل کی طرح ادبی قتل ہوں، جلوس نکلیں، پوسٹر لگیں۔ اور یہاں بھی اُن سارے اوزاروں کا استعمال ہو جو (Political State) میں ہوا کرتا ہے۔ کوئی گروہ مخالف گروہ کے بے چارے زید کو خراب کہہ کر بھوک ہڑتال پر بیٹھے گا تو زید کی پارٹی کا ہائی کمان گروہ مخالف کے گھر کی کھڑکیاں تڑوائے گا اور فرنیچر میں آگ لگائے گا اور پھر بالادستی کی ہوس خود کُش بمباروں کے خاک و خون سے بھی بجھائے نہ بجھے گی۔ پھر نہ کوئی leftist رہ جائے گا اور نہ جماعتی، سب اپنے ہائی کمانوں کی بخشی خلعتِ فاخرہ کے حصول کے دیوانے ہوں گے۔

ادب کا نیا سسٹم اور صاحبِ اقتدار کا لونائزر
یہ تو ٹھیک ہے کہ کلیم الدین احمد کی نظر ادب پر تھی کالونیوں پر نہیں اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ ان کے زمانے میں ادب کی پس ماندہ لیکن مالدار بستیاں دریافت ہی نہیں ہوئی تھیں لیکن میرے شکوک یہ ہیں کہ کالونیاں بنانے اور بسانے کی یہ ضرورت کہیں ہمارے نئے ادبی سسٹم کا تحفہ تو نہیں ہے۔ جب ادب کی ریاست کو سیاسی ریاست کے چولے میں بدلا جارہا ہو اور نئے ادبی نظام کے وارث خود کو نئے دبدبے اور مرتبے پر دیکھنا چاہ رہے ہوں اور ایک سسٹم کو چھوڑکر دوسرے کو اپنا رہے ہوں تو نئے سسٹم کی اچھائیاں اور برائیاں دونوں ہی ان کے حصے میں آنا فطری عمل ہے۔
اس سلسلے میں کسی بھی ایک فرد کو موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہ ہوگا بلکہ یہ صورتِ حال تو اس سسٹم کی ضرورت میں اسی طرح شامل ہوگی جس طرح کالونیاں بنانا سرکارِ دولتِ انگلشیہ کی ضرورت میں شامل تھا کہ اقتدار کی ہوس سیاسی مملکتوں کو اسی راستے پر ہانکتی ہے۔ ایسی فضا میں اگر اردو کی نئی بستیوں کے اندر عیسائی مشنریوں کی طرح کام کرنے کے لیے جایا جائے تو اسے بھی خدا ترسی نہیں بلکہ اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنے کا بہانہ ہی کہا جائے گا۔
گویا اس ہتھکنڈے سے کیا الفاظ کے وارث کے اندر اپنے اقتدار کے استحکام اور منفرد شناخت کے جذبے کی آسودگی نہیں ہوتی۔ اس پس منظر کو لے کر اگر یہ احساس عام ہوجائے کہ اردو کی ریاست میں نئی بستیوں کے غیر خلّاق اوصاف والے مگر مالدار ہی نہیں بلکہ ڈالردار منشیوں اور تکبندوں کو اپنی امارت کی چھت کے نیچے پناہ دے کر اور ان کی بنجر اور بے مایہ تحریروں کے لوہے کو اپنے لمس سے پارس بناکر اور اپنی نئی کالونیوں میں جھنڈے گاڑکر خود کو امر کرلینے کے فعل کا تعلق دور دور تک تخلیقی تنقید سے نہیں ہوا کرتا، تو اس میں حیرت کی بھلا کیا بات ہے۔

تحریکیں اور تجربے خود کو باربار پڑھواتے ہیں
کیا یہ غلط ہے کہ ادب میں آنے والی تحریکیں اور تخلیق میں کیے گئے نئے تجربے باربار اپنے کو پڑھواتے ہیں، اپنا تجزیہ کرواتے ہیں، انھیں ہر درجے اور سطح کے ادیب پڑھتے ہیں۔ نچلی صف اور درمیانی صف کے ادیب بھی۔ ان سب کی قرأت سے ایک اجتماعی نگاہ کا ظہور بھی ایک وقت ہوتا ہے جو ان تجربوں کو اپنے طور پر دیکھتی ہے۔ یہ اجتماعی شعور اور نگاہ انفرادی نگاہ سے زیادہ سفاک ہوتی ہے، اس کا احتساب لاگ لپیٹ سے عاری ہوتا ہے۔ یہ نگاہ ایک دن ان تحریکوں اور تجربوں کی حقیقی خوبیوں کے ساتھ ان کے نہفتہ کو بڑوں کو جو پہلے یا تو دکھائی ہی نہیں دے رہے تھے یا دھندلے دکھائی دے رہے تھے، صاف اور واضح طور پر دیکھنے لگتی ہے۔ اگر وہ کل کرشن چندر کے کوبڑ دیکھ چکی تو کسی دن نیرّمسعود کے کوبڑ بھی دیکھ لے گی۔ اس اجتماعی نظر نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا ہے کہ ادب میں ایک لہر جس طرح اندرون یا داخل پر زور دینے کے لیے اُٹھی تو دوسری لہر بیرون یا خارج پر زور دینے لگی۔ لیکن اس تربیت شدہ اجتماعی نگاہ کے سامنے نفسیات کے نئے علوم نے یہ حقیقت بھی عیاں کردی ہے کہ فطرتِ انسانی کو ایک پہلو قرار نہیں ملتا، وہ تخلیق سے اندرون اور بیرون کے خلاّقانہ امتزاج کی طلب گار ہے۔ کسی اندھی سرنگ میں دیر تک رہنے سے اس کا دم گھٹتا ہے۔ خواہ کیوئی کتنی ہی وکالت کرے وہ ’شیشہ گھاٹ‘ کو گوارہ کرلیتی ہے مگر جب ’طاؤس چمن کی مینا‘ میں جذبہ اور معروضیت کا خلاّقانہ امتزاج دیکھتی ہے تو پھڑک اٹھتی ہے؛ وہ اقبال پر گردن ہلاتی ہے، احمد مشتاق پر چونکتی ہے مگر نظیرؔ کے اس شعر پر دل پکڑکر رہ جاتی ہے:
ملو جو ہم سے تو مل لو، کہ ہم بہ نوکِ گیاہ
مثالِ قطرۂ شبنم رہے، رہے نہ رہے
ان مسائل پر میرے اس سطحی تبصرے سے کہیں زیادہ بامعنی ڈسکورس ہمارے باخبر اور ذہین نقاد کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن کیا ہماری نئی ادبی صورتِ حال کی یہ مجرمانہ بے کسی اور بے بسی ادب کے سنجیدہ موضوعات پر غور کرنے کے بجائے دوسرے نیم ادبی کاموں کی چاٹ ڈلواتی ہے۔ مثال کے طور پر قرۃ العین پر کتنی کتابیں آئیں، دیویندر اسر پر کتنا لکھا گیا، نیّرمسعود پر کیا کام ہوا۔ عابد سہیل ایک کونے میں خاموش بیٹھا ہے، اس نئی ادبی فضا نے اسے سرگرم رکھنے کے لیے کون سے حوصلہ افزا قدم اٹھائے، اگر کوئی کچھ کرتا بھی ہے تو اپنی انا کی تسکین کے لیے، حسین الحق کو اسی ادبی فضا نے ایسے کون سے incentive فراہم کیے جو وہ ملک کی عمدہ لائبریریوں میں بیٹھ کر کام کرسکے اور اپنی صلاحیتوں کو صیقل کرسکے۔ ایسے ہی کتنے ہی اچھی صلاحیتوں کے ادیبوں کے لکھے پرچے اپنی انا کی تسکین کے لیے سجائی گئی سمیناروں کی جھانکیوں کے تماشوں کی گروہ بندی اور منافقانہ فضا میں اڑ جاتے ہیں اور چند چاپلوس سمینار کے منیجنگ ڈائرکٹر کے ساتھ دارو پینے بیٹھ کر اس کی کامیابی کا جام پیتے ہیں۔ کیا یہ M.D. انھیں کو پروموٹ نہیں کرتا جن سے اس کی کمپنی موٹی ہو اور اس کا P.R بڑھے۔ تنقید کو ہمارے عظیم فنی ایوانوں سے اکتاکر باہر نکال لانا، ویسے ہی جس طرح ناپسندیدہ فلم دیکھنے والے چائے پینے کے بہانے سنیما ہال سے باہر نکل آتے ہیں، آسان ہے۔ نقاد کا ادب کے بنیادی موضوعات کے عظیم ایوانوں سے باہر نکل آنا اور اقتدار کے تیل میں تلی اور انا کے نمک میں لپٹی مونگ پھلی ٹونگنا کیا ادب میں سیاسی ریاست یا کمپنی کے سسٹم کو کھینچ کر رائج کرنے کی سزا تو نہیں ہے، جس کا ایجنڈا بس طاقت جمع کرو اور راج کرو ہی ہوا کرتا ہے۔

بیگانگی کا حزن اور نئی ادبی صورتِ حال
ایڈورڈ سعید کا کہنا ہے کہ ’’بیگانگی کے اپاہج کردینے والے حزن پر قابو پانے کی کوشش ظہور لے چکی ہے‘‘۔ کیا وقت کی ستم ظریفی نے ہم سب کو اپنے ہی گھر میں جلاوطن کردیا ہے۔ کیا اس جھنجھلاہٹ میں ہمارے بعض تنقیدی رویے ایک فاشسٹ ریاست کی سرکاری رائے کی تکمیل میں خود کو ڈھالنے کے مرتکب ہورہے ہیں جس سے اختلاف کرنے میں ادیب کو ادب کی سلطنت سے بن باس دے دیا جاتا ہے اور کیا یہ دہشت مختلف شکلوں میں عام ہوکر ادیب کو اس کے اپنے ہی گھر میں جلاوطن کررہی ہے، کیوں کہ ایسی سرد مہر اور غیر معاون فضا نہ تو ہمیں ن. م. راشد کے فن کے حسن کی شناخت کی اہل رکھتی ہے اور نہ میراجی کے فن کے ابہام کی۔ تو کیا ان شاعروں کو بھی ہمارے دانشوروں کے رویّوں اور تہذیبی بے حسی نے جلاوطن کرکے رکھ دیا تھا، یا پھر جلاوطنی کے احساس کی مختلف شکلیں بھی ہوتی ہیں۔ بقول ایڈورڈ سعید ’’فقدان کا ایک دائمی احساس کسی بھی جلاوطن کے ارفع ترین کارناموں کی جڑیں کھوکھلی کرکے رکھ دیتا ہے‘‘۔ فقدان کی ذمہ دار ایک معنی میں ادب میں آنے والی وہ لہر بھی ہے جو الفاظ کی پروڈیوسر سے جرنیلی رویہ اختیار کرواکر ادیب کو اس کے پیدائشی وطن میں ہی جلاوطن کردیتی ہے۔ فقدان کا احساس ذہنی طور پر ایسا مفلوج کرتا ہے کہ لوہار تلوار بنانا تو دور لوہا پگھلانا بھی بھول جاتا ہے۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ جلاوطنی کی یہ نفسیات دھیرے دھیرے filter ہوکر نئے تعلیم یافتہ گروہوں اور ادب سے دل چسپی رکھنے والوں اور اس میدان میں اپنی صلاحیتیں آزمانے والی نئی نسل کی نفسیات میں خاموشی سے داخل ہوگئی ہے اور اب انھیں اپنے خوابوں کی تعبیر ادب کے بدلتے ہوئے مہاجنی کلچر سے ملنے کی امید ہو۔ کیوں کہ یہ مہاجنی کلچر پیسے کی بنیاد پر اور بازار کے اصولوں کے مطابق اصرافیت کے معیار پر نام نہاد literary product کو اپنی تشہیر کا راستہ دکھاتا ہے۔ کیا اسی کے نتیجے میں تو ہم یہ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ بڑی بڑی تجارتی کمپنیوں کی طرح روزناموں اور میگزینوں کے صفحات خریدکر ادب کے نوآموز، ادب کے معاون متون سپلائی کرنے والے ایجنٹوں کو منہ مانگا معاوضہ دے کر فراہم کیے گئے خود پر لکھے ہوئے مضامین، خاکے، انٹرویو اور آرا کچھ نثری اور کچھ منظوم شکل میں، اپنی رہائش گاہ، اپنی گاڑی، اپنے کتّوں، اپنے پرائیویٹ بار (BAR) او راپنے عربی نسل کے گھوڑوں کی تصاویر کے ساتھ چھپوالیا کرتے ہیں۔
ایسی صورت میں تو یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ فنکار ہر سال اپنی تخلیق کے ماڈل کی خصوصیات، بالکل اسی طرح بیان کروائے جس طرح نوکیا (NOKIA) کمپنی اپنے موبائل کے ماڈلوں کی کیا کرتی ہے۔ پھر تو یہ بھی بعید نہیں کہ ایک دن کسی ادبی کمپنی کے پیدا کیے افسانے یا غزل کی مارکیٹ میں گراوٹ کے سبب دلال اسٹریٹ کے سن سکس میں ایسی گراوٹ آئے اور اس کمپنی کا literary text ایسا پٹ جائے کہ ہمیشہ کے لیے بازار سے مقابلے کی سکت ہی ختم کرلے اور اس پروڈکٹ کے ناقد دانے دانے کو محتاج ہوجائیں۔ باربار اندر ہی اندر یہ بوڑھا دل سہمی ہوئی آواز میں پوچھتا ہے، کہیں یہ بھی بیگانگی کے حزن کو بہلانے کی ایک صورت تو نہیں؟

اعتذار چہ معنی؟
کیوں اعتذار ہو؟ کس سے معذرت کی جائے۔ کیا کسی کو موردِ الزام ٹھہرا رہا ہوں میں اور کون ہوتا ہوں میں الزام دینے والا۔ میری آنکھوں کے سامنے کیا سب کچھ نہیں ہوا؟ پھر کیا کرلیا میں نے۔ کیا میری شخصیت اتنی بڑی تھی کہ اپنے عصر کی تعمیر ہوتی تاریخ کو اپنی پسند کے مطابق ڈھال لیتی۔ تحقیق کی مٹی خراب ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی کہ مجھ جیسے چہ پدّی چہ پدّی کا شوربہ پر تحقیق کی تین ڈگریاں دی جاچکی ہیں اور یہ بدعت ابھی بھی جاری ہے۔ کیا کرلیا میں نے؟ کیسے کیسے اسکالر، پروفیسر اور عالم موجود ہیں آج جو مجھ سے کہیں زیادہ صاحبِ نظر، اہلِ علم اور اہلِ دانش ہیں جن کا میرا علم مرہونِ منّت ہے۔ جب ایسے لوگ جن کی گانٹھ میں اعلا اور ارفع کارنامے ہیں، فقدان کی اس زہریلی وبا میں اپنے کارناموں کی جڑیں کھوکھلی ہوجانے کے زیاں سے نہیں ڈرتے تو مجھ کھوکھلے کے پاس کھوکھلا ہونے کو کیا رکھا ہے بھلا؟ چار کہانیاں لکھ کر قبر میں پیر لٹکائے بیٹھا ہوں، کانفرنسوں اور سمیناروں کے پھیکے، بے مایہ اور کچھ نہ ہاتھ آنے والے تماشوں کی سیر و تفریح کے لیے کسی بھی موسم میں سفر کی سوچ کر قلب الٹتا ہے۔ یہ تحریر آخری عمر کے دل کے درد کا ایک سیدھا سادا ٹوٹا پھوٹا بیان ہے جو چند روز کے لیے کسی ادبی رسالے کے دوچار صفحے بھردے گا جس کے بعد جیتے جی میرے مزار پر شاید دو ایک قوالیاں ہوجائیں۔ ممکن ہے کسی دل جلے کو کچھ دیر کے لیے حال آجائے اور وہ کچھ اچھل کود لے۔ چلیے چھٹی۔ جب آدمی اپنی کڑیل جوان اولاد کا غم بھول جاتا ہے تو ناک پر بیس روپے کے کپڑے کا ماسک باندھ کر اس وبا کو بھلانے میں کیا دیر لگے گی۔ زندگی کا احساس تمام اشیا کے رنگ برنگے احساسات سے کہیں زیادہ قوت مند امنگوں سے لبریز خوابوں سے بھرپور اور ان گنت رنگینیوں کا احساس ہے۔

مشمولہ اردو ادب، شمارہ جنوری تا مارچ 2010
بشکریہ اطہر فاروقی، جنرل سکریٹری، انجمن ترقی اردو ہند، نئی دہلی

منگل، 14 جون، 2016

آہنی ارادوں والا مدراراکشس /ہمانشو باجپئی

مدراراکشس کا نام ان لوگوں کے لیے شاید اجنبی نہ ہو جنہوں نے اجمل کمال کے رسالے آج میں ان کی کہانیاں پڑھ رکھی ہوں۔ہم بہت جلد بلکہ کچھ ہی روز میں ان کی وہ کہانیاں آپ کے سامنے آڈیو یا بلاگ کی صورت میں پیش کریں گے۔مگر ہمانشو باجپئی کا یہ مختصر سا مضمون جو 'کیچ نیوز'کے لیے لکھا گیا ہے، بہت کمال ہے اور اس اہم افسانہ نگار کی زندگی، اندازو اطوار اور قابل مطالعہ کاموں کے بارے میں بہت اہم جانکاریاں دیتا ہے۔ہندی اور اردو کے لکھنے اور پڑھنے والوں کے درمیان فاصلہ کم ہونا چاہیے۔اس کے لیے ہمیں باقاعدہ کوئی پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت ہے، جس کے ذریعے یہ کام ڈھنگ سے اور صحیح نیت کے ساتھ انجام دیا جاسکے۔کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ہندی، اردو کے بہت سے اہم ادیب خاموشی سے اس دنیا سے کوچ کرگئے ہیں اور دونوں زبانوں کے پڑھنے والوں کو اس کی بھنک تک نہیں لگی ہے۔میں ہمانشو باجپئی کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے اس اہم مضمون کو ادبی دنیا پر شائع کرنے کی اجازت دی اور کیچ نیوز کا بھی، جہاں پڑھ کر مجھے اس مضمون کو آپ تک پہنچانے کا خیال آیا، ساتھ ہی ساتھ میں اپنے دوست ابھیشیک شکلا کا بھی شکر گزار ہوں، جنہوں نے ترجمے کے دوران کچھ اہم چیزوں کی تفصیل مجھ سےبیان کی۔آئیے! اس مضمون کے ساتھ مدرا راکشس کو یاد کریں۔(تصنیف حیدر)

ہندی کے مشہور ادیب اور رنگ کرمی مدرا راکشس نہیں رہے۔ پیر یعنی 13 جون کو انہوں نے اپنے شہر لکھنئو میں آخری سانس لی۔ وہ پچھلے کچھ وقت سے بیمار چل رہے تھے۔ہندی ادب میں ہمیشہ اپنے باغیانہ تیور ، نرالے انداز اور بے پناہ صلاحیت کے لیے پہچانے گئے مدرا راکش لکھنئو کے ہندی والوں میں سب سے سینیر تھے۔بھگوتی بابو ناگر جی اور یش پال کی تگڑی (تثلیث)کے لیے مشہور یہ شہر شری لال شکل اور کامتاناتھ سے پہلے ہی خالی ہو چکا تھا اور اب اس سلسلے کا ایک اور چراغ بجھ گیا۔
سبھاش چندر عرف مدرا راکشس کا جنم 21 جون 1933 کو لکھنئو کے بیہٹا گائوں میں ہوا۔ان کے والد شو چرن لال 'پریم'اتر پردیش کے لوک ناٹیہ سوانگ سپیڑا اور نوٹنکی کے استادوں میں تھے۔
مدرا راکشس میں ادب و ثقافت سے گہری دلچسپی اپنے والد سے قریب رہ کر ہی جاگی۔یہی وجہ ہے کہ کم عمری میں ہی وہ نوٹنکی کی باریکیوں کو سمجھنے لگے اور لڑکپن سے ہی انہوں نے نوٹنکی میں اداکاری کے تجربے بھی شروع کردیے تھے۔اسی دور میں ادب نے بھی انہیں اپنی آغوش میں کسنا شروع کردیا۔اب لکھنے اور چھپنے کا سلسلہ زورپکڑنے لگا۔

زندگی میں کبھی نوکری نہ کرنے کا فیصلہ:

1955 میں 22 سال کی عمر میں لکھنئو یونیورسٹی سے ہندی میں ایم اے کیا، وہ بھی گولڈ میڈل جیتتے ہوئے۔اسی سال کلکتہ سے انہیں 'گیانودے*'کے معاون مدیر کی نوکری کے لیے بلاوا آگیا۔ان دنوں لکھنئو جیسے چھوٹے شہر کے کسی بھی معمولی نوجوان کے لیے یہ ایک غیر معمولی بات تھی۔
مدرا راکشس نے کلکتہ جاکر گیانودے جوائن کیا۔اس کے بعد ان کی صلاحیت دھیرے دھیرے اپنی پہچان بنانے لگی۔گیانودے میں مدرا راکشس 1958 تک رہے۔ان سالوں میں انہوں نے اپنے نام کو اتنا مشہور کرلیا کہ 1959 میں 'انوبرت*'کے مدیر ہوگئے۔یہاں بھی ان کی ادبی صلاحیت کو خوب پہچان ملی۔
1962 میں آل انڈیا ریڈیو میں سکرپٹ ایڈیٹر کے طور پر ان کا تقرر ہوا۔ریڈیو میں رہتے ہوئے انہوں نے اس میڈیم کے لیے تو عمدہ کام کیا ہی ساتھ ہی ادب کی تخلیق کا کام بھی چلتا رہا۔1976 میں اصولوں کی لڑائی پر انہوں نے ریڈیو کی نوکری چھوڑی تو زندگی میں کبھی نوکری نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے نبھایا بھی۔

بے شمار اعزازات کے مالک

دلی چھوڑ کر لکھنئو واپس آگئے تو پوری زندگی بطور آزاد ادیب بسر کی۔سولہ ڈراموں کی ہدایت کاری کی، پندرہ سے زیادہ ناٹک لکھے جن میں سے نو چھپے ۔بارہ ناول ، پانچ کہانیوں کے مجموعے، تین طنز یہ مضامین کے مجموعے اور تنقید کی پانچ کتابیں شائع ہوئیں۔یہ تفصیل ہمیں بتاتی ہے کہ مدرا راکشس کی ادبی صلاحیت کتنی بڑی اور مختلف سمتوں میں پھیلی ہوئی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ راشٹریہ سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ، اترپردیش سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ، اتر پردیش ہندی تنظیم کا ساہتیہ بھوشن سمان، امبیڈکر مہا سبھا کا دلت رتن سمان، شودرمہاسبھا کا شودراچاریہ سمان سمیت بے شمار اعزازات انہیں ملے۔
مدراراکشس ہمیشہ سے باغی رہے۔شروع سے لے کر آخر تک۔متھراداس کی ڈائری اور راکشس اواچ (بول) جیسے اپنے انوکھے طنزیہ مجموعوں میں انہوں نے ہندی جگت کی ایسی خبر لی کہ ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔یہ طنزیہ مضامین جب اخباروں میں شائع ہوئے تو کئی بار نوبت یہاں تک آگئی کہ دفتر پر پتھرائو ہوگیا اور ایڈیٹر کو معافی مانگ کر کالم بند کرنا پڑا۔مگر مدرا راکشس اپنی جگہ اٹل رہے۔نہ معافی مانگی نہ ڈرے۔۔۔برابر لکھتے رہے۔پھر ہندو دھرم گرنتھوں کو جی جان لگا کر کھنگالا اور اس کے بعد "دھرم گرنتھوں کاپُنر پاٹھ'(مذہبی صحائف کا پھر سے مطالعہ) جیسی مشہور کتاب لکھی۔

مجھ سے بحث کرو۔۔۔میں بتائوں گا کہ میں ایسا کیوں کہہ رہا ہوں

اپنے انتقال کے کچھ سال پہلے لکھنئو کی مشہور تگڑی ناگر، بھگوتی بابو اور یشپال کے سمان میں منعقدہ ایک بڑے پروگرام میں سٹیج سے بول آئے کہ امرت لال ناگر تیسرے درجے کے ناول نگار تھے اور ان کے ناول عالمی ادب کے بڑے ناولوں کے آگے کہیں نہیں ٹھہرتے۔ان کے مطابق ناگر ناول کے بجائے علم آثار قدیمہ میں قسمت آزمائی کرتے تو بہتر تھا۔
غور طلب بات یہ ہے کہ ناگر جی نے اپنے سب سے مشہور ناول بوند اور سمندر کا ڈکٹیشن مدرا کو ہی دیا تھا اور باقاعدہ کتاب کے دیباچے میں ان کا ذکر کیا تھا۔جیسے ہی ناگر جی کے لیے وہ بیان مدراراکشس کے منہ سے نکلا۔
مجلس میں ان کے خلاف نعرے بازی شروع ہوگئی۔کچھ لوگ تو سیدھے غصیلے انداز میں چلاتے ہ وئے سٹیج کی طرف چلے آئے۔سب گھبرانے لگے۔مگر مدرا مسکراتے رہے اور دھیمے لہجے میں بار بار دوہراتے رہے۔مجھ سے مباحثہ کرو۔۔۔میں بتائوں گا کہ میں ایسا کیوں کررہا ہوں۔۔مجھ سے مباحثہ کرو۔۔مجھ سے بحث کرو۔۔۔حالانکہ نعرے لگانے والوں میں سے کسی نے ان سے بحث نہیں کی۔کیونکہ مدراراکشس سے بحث و مباحثہ کرنے کی ہمت لکھنئو تو کیا دیش بھر میں کم ہی لوگ جٹا پاتے تھے۔

نہیں لیا کسی کا سہارا


آخری وقت میں کمزورری کے باوجود وہ دیش اور دنیا کا جتنا ادب پڑھتے تھے وہ حیرت میں ڈالتا ہے۔مضبوط ارادوں کے سیدھے انسان تھے۔آخری بار جب وہ لکھنئو کتاب میلے میں آئے تو کافی کمزور ہوگئے تھے۔سٹیج پر چڑھنے میں انہیں مشکل ہورہی تھی تو دو لوگوں نے سہارا دے کر انہیں چڑھایا۔
مائک پر جاتے ہی پہلی بات انہوں نے کہی۔'مجھے یقین نہیں ہورہا کہ میں اتنا کمزور ہوگیا ہوں۔لوگوں کا سہارا لے کر چڑھنا پڑرہا ہے۔مجھے تو لگتا تھا کہ میں بہت مضبوط ہوں۔میں نے کبھی کسی کا سہارا نہیں لیا۔۔۔'مدراراکشس کو یہ کہتے سننا ایک عجیب سا احساس تھا۔
سارے لوگوں نے ہمیشہ انہیں ویسا ہی دیکھا تھا جیسا وہ اپنے بارے میں بتارہے تھے۔مگر اس دن جب انہیں پہلی بار اپنے کمزور پڑنے کا احساس ہوا، تبھی سامنے موجود لوگوں کو بھی یہ احساس ہوا کہ مدراراکشس بھی کمزور پڑسکتے ہیں۔اس کے بعد وہ کمزور پڑتے ہی گئے۔بیماری سے ان کی لڑائی جاری رہی۔کبھی گھر، کبھی ہسپتال اور آخر کار13 جون کو یہ لڑائی لکھنئو کے میڈیکل کالج ٹراما سینٹر میں ختم ہوئی۔
مدرا اپنی بجھتی ہوئی آنکھوں اور گم ہوتے ہوئے حواس کے وقت بھی شاید یہی سوچ رہے ہوں کہ مجھے یقین نہیں ہورہا کہ میں اتنا کمزور ہوگیا ہوں۔۔۔

*گیانودے اس وقت بھی ہندی کا سب سے معتبررسالہ ہے۔اور عام طور سے بھی اس کا ذکر ہندی کے تین اہم رسائل میں کیا جاتا ہے، جن میں ہنس بھی شامل ہے،جسے منشی پریم چند نے جاری کیا تھا۔
*انوبرت کلکتہ سے ہی شائع ہونے والا اہم رسالہ تھا۔جو کافی عرصہ پہلے بند ہوگیاتھا۔

پیر، 13 جون، 2016

شکاری/انتون چیخوف

مرطوب، حبس آلود دوپہر۔ آسمان پر بادل کی کترن تک نہیں۔ ۔ ۔ دھوپ میں پکی ہوئی گھاس تھکی ماندی، مایوس دکھائی دے رہی ہے، جیسے اگر بارش ہو بھی جائے تب بھی یہ کبھی سرسبز نہیں ہو سکے گی۔ جنگل خاموش، ساکت کھڑا ہے، جیسے درختوں کے اوپر سے کسی کی راہ تک رہا ہے، یا اسے کسی بات کی امید ہے۔
میدان کے کنارے پر ایک لمبا تڑنگا، تنگ شانوں والا مرد، جس کی عمر 40 کے قریب ہو گی، اس نے سرخ قمیص اور پیوند لگی پتلون پہن رکھی تھی جو کسی زمانے میں کسی زمیندار کی رہی ہو گی۔ اس کے پاؤں میں لمبے بوٹ تھے اور وہ سست روی سے قدم گھسیٹتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ دائیں طرف سبزہ تھا، بائیں جانب پکی ہوئی رائی کا سنہرا سمندر جو افق تک پھیل گیا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ تھا جس سے پسینہ بہہ رہا تھا، اس کے خوبصورت بھورے سر پر سفید ٹوپی ایک ادا سے لہرا رہی تھی، جس پر گھڑسواروں کی سی کھڑی کلغی تھی اور جو واضح طور پر کسی فراخ دل نوجوان رئیس کا تحفہ لگتی تھی۔
اس کے کندھوں سے ایک شکاری تھیلا لٹک رہا تھا جس میں ایک سیاہ جنگلی مرغ تھا۔ آدمی نے ہاتھوں میں دونالی بندوق تھام رکھی تھی۔ اس نے اپنے کتے کی طرف آنکھیں سکیڑیں جو اس سے آگے آگے جھاڑیاں سونگھتا چلا جا رہا تھا۔ ہر طرف سکوت تھا، کہیں کوئی آواز نہیں۔۔۔ ہر زندہ چیز گرمی سے ڈر کر چھپی ہوئی تھی۔
’یگور ولاسچ!‘ شکاری نے یکایک ایک نرم آواز سنی۔ وہ چونک گیا۔ گھوم کر دیکھا تو اس کی تیوری چڑھ گئی۔ اس کے قریب ہی ایک تیس سالہ سفید رو عورت درانتی ہاتھ میں تھامے کھڑی تھی جیسے یکایک زمین سے اگ آئی ہو۔ وہ اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر شرماتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔
’اوہ، یہ تم ہو پیلاگیا!‘ شکاری نے رکتے ہوئے اور جان بوجھ کر بندوق کا گھوڑا چڑھاتے ہوئے کہا۔ ’ہم م م ۔۔۔ تم یہاں کیسے آئیں؟‘
’ہمارے گاؤں کی عورتیں یہاں کام کر رہی ہیں، میں انھی کے ساتھ آئی ہوں ۔۔۔ بطور مزدور، یگور ولاسچ۔‘
’اوہ ۔۔۔ یگور ولاسچ نے کہا اور آہستگی سے چلنا شروع کر دیا۔
پیلاگیا اس کے پیچھے پیچھے چل دی۔ وہ بیس قدم خاموشی سے چلتے گئے۔
’تمھیں دیکھے ہوئے عرصہ ہو گیا، یگور ولاسچ۔۔۔‘ پیلاگیا نے شکاری کے ہلتے ہوئے شانوں کی طرف ملائمت سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’میں نے تمھیں اس وقت سے نہیں دیکھا جب تم ایسٹر کے دن ہماری جھونپڑی میں پانی پینے آئے تھے۔۔۔ تم ایسٹر کے دن ایک لمحے کے لیے آئے اور پھر خدا جانتا ہے کیسے ۔۔۔ نشے میں ۔۔۔ تم نے مجھے ڈانٹا اور مارا پیٹا، اور پھر چل دیے ۔۔۔ میں انتظار کرتی رہی، انتظار کرتی رہی ۔۔۔ میں نے تمھاری راہ تکتے تکتے آنکھیں تھکا لیں۔ آہ، یگور ولاسچ! تم ایک بار تو آ کر دیکھ لیتے!‘
’میرے لیے وہاں کیا دھرا ہے؟‘
’تمھارے لیے وہاں بالکل کچھ نہیں دھرا ۔۔۔ لیکن پھر بھی ۔۔۔ وہاں ایک جگہ ہے جس کی دیکھ بھال کرنی ہے ۔۔۔ یہ دیکھنا ہے کہ کیا حالات ہیں ۔۔۔ تم مالک ہو ۔۔۔ میں کہتی ہوں، تم نے ایک سیاہ مرغ مارا ہے، یگور ولاسچ! تم بیٹھ کر تھوڑا آرام ہی کر لو۔‘
یہ کہتے ہوئے پیلاگیا کسی نادان لڑکی کی طرح ہنس دی۔ اس کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ اس نے یگور کی طرف دیکھا۔
’بیٹھ جاؤں؟ اگر تم چاہو ۔۔۔‘ یگور نے لاپروایانہ انداز سے کہا، اور فر کے دو درختوں کے نیچے ایک جگہ منتخب کر کے بیٹھ گیا۔ ’تم کیوں کھڑی ہو؟ تم بھی بیٹھ جاؤ۔‘
پیلاگیا تھوڑا سا ہٹ کر دھوپ میں بیٹھ گئی۔ اپنی خوشی سے شرمسار، اس نے اپنے مسکراتے ہوئے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا۔ دو منٹ خاموشی سے گزر گئے۔
’تم ایک بار تو آ سکتے ہو،‘ پیلاگیا نے کہا۔
’کس لیے؟‘ یگور نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ ٹوپی اتار کر اس نے ہاتھ سے اپنا سرخ ماتھا پونچھا۔ ’میرے آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ایک دو گھنٹوں کے لیے آنے سے وقت ہی ضائع ہو گا۔ اس سے تم خود بھی پریشان ہو گی، اور گاؤں میں مستقل رہنا میری روح کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گا۔۔۔ تم خود جانتی ہو کہ میں نازپروردہ ہوں۔۔۔ مجھے سونے کے لیے بستر چاہیے، پینے کے لیے عمدہ چائے، بولنے کے لیے اچھی گفتگو کرنے والے۔۔۔ مجھے یہ ساری نفیس چیزیں چاہییں، جب کہ تم گاؤں میں غربت اور گند میں رہتی ہو۔۔۔ میں اسے ایک دن کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ فرض کرو ایسا کوئی حکم نامہ جاری ہو جائے کہ مجھے لازماً تمھارے ساتھ ہی رہنا پڑے، تو میں یا تو جھونپڑی کو آگ لگا دوں، یا خود کو کچھ کر بیٹھوں۔ لڑکپن ہی سے مجھے ایسی ہی سہولیات سے پیار تھا، اب اس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔‘
’تم کہاں رہ رہے ہو؟‘
’یہاں کے زمیندار دمتری ایوانِچ کے ساتھ، بطور شکاری۔ میں اس کے کھانے کی میز کے لیے شکار مار کر لاتا ہوں، لیکن اس نے مجھے۔۔۔ کسی اور چیز سے زیادہ مجھے اپنی تفریح کے لیے رکھا ہوا ہے۔‘
’تم کوئی اچھا کام نہیں کر رہے، یگور ولاسچ۔۔۔ دوسرے لوگوں کے لیے شکار مشغلہ ہو گا، لیکن تمھارے لیے کام ہے۔۔۔ جیسے مزدوری۔‘
’تم نہیں سمجھتیں، بےوقوف،‘ یگور نے آسمان کی طرف مایوسی سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’تم کبھی سمجھیں ہیں نہیں، اور جب تک تم زندہ ہو، کبھی جان نہیں سکو گی کہ میں کس قسم کا انسان ہوں۔۔۔ تم مجھے احمق سمجھتی ہو، جو برے راستے پر چل نکلا ہے، لیکن جو کوئی بھی مجھے سمجھتا ہے، وہ مجھے پورے ضلعے میں سب سے اچھا انسان مانتا ہے۔ زمیندار بھی یہی مانتے ہیں، اور انھوں نے میرے متعلق ایک رسالے میں بھی ایسی ہی خبریں چھاپ رکھی ہیں۔ بطور شکاری کوئی میری ٹکر کا نہیں۔۔۔ اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں نازپروردہ یا مغرور ہوں یا میں تمھارے گاؤں کی زندگی کو حقارت سے دیکھتا ہوں۔۔۔ تم جانتی ہو کہ بچپن ہی سے مجھے بندوقوں اور کتوں کے علاوہ کسی اور چیز کا شوق نہیں تھا۔ اگر کوئی میری بندوق مجھ سے لے لیتا تو میں مچھلی پکڑنے کا کانٹا لے کر نکل جاتا، اگر وہ کانٹا لے لیتے تو میں اپنے ہاتھوں سے چیزیں پکڑنے لگتا۔ اور میں گھوڑوں کی تجارت کرتا رہا، میرے پاس جب بھی پیسے ہوتے، میں میلوں ٹھیلوں میں چلا جاتا، اور تم جانتی ہو کہ اگر کوئی کسان شکاری یا گھوڑوں کا بیوپاری بن جائے تو پھر ہل کو خداحافظ۔ جب کسی آدمی میں آزادی کی ہوا سما جائے تو تم اسے اس کے اندر سے کبھی بھی نہیں نکال سکتیں۔ اسی طرح اگر کوئی رئیس اداکاری یا اسی طرح کی کوئی چیز شروع کر دے تو پھر وہ کبھی بھی کوئی افسر یا زمیندار نہیں رہ سکتا۔ تم عورت ہو، تم نہیں سمجھ سکتیں، لیکن تمھیں سمجھنا پڑے گا۔‘
’میں سمجھتی ہوں، یگور ولاسچ۔‘
’اگر تم نے رونا شروع کر دیا ہے تو تم نہیں سمجھیں۔۔۔‘
’میں رو نہیں رہی۔۔۔‘ پیلاگیا نے منھ دوسری طرف موڑتے ہوئے کہا۔ ’یہ گناہ ہے یگور ولاسچ! تم مجھ نصیبوں ماری کے ساتھ صرف ایک دن تو گزار سکتے ہو۔ میری تم سے شادی کو بارہ سال ہو گئے ہیں، اور۔۔۔ اور۔۔۔ ہمارے درمیان کبھی بھی محبت نہیں رہی!۔۔۔ میں۔۔۔ میں رو نہیں رہی۔‘
’محبت۔۔۔‘ یگور اپنا ہاتھ کھجاتے ہوئے بڑبڑایا۔ ’محبت ہو ہی نہیں سکتی۔ ہم صرف نام کے میاں بیوی ہیں، حقیقت میں نہیں۔ میں تمھاری نظر میں ایک وحشی انسان ہوں، اور میرے نزدیک تم ایک سادہ لوح دیہاتی عورت ہو جسے کسی چیز کی سمجھ نہیں۔ کیا ہمار جوڑ برابر ہے؟ میں ایک آزاد، نازپروردہ، عیاش آدمی ہوں۔ تم مزدور عورت ہو، جو چھال کے جوتے پہن کر چلتی ہے اور جس کی کمر ہمیشہ دہری رہتی ہے۔ میرا اپنے بارے میں خیال یہ ہے کہ میں ہر قسم کے کھیل میں اول نمبر ہوں، اور تم مجھے رحم کی نظروں سے دیکھتی ہو۔۔۔ کیا یہ کوئی جوڑ ہے؟‘
’لیکن ہم شادی شدہ ہیں، یگور ولاسچ،‘ پیلاگیا نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔
’اپنی مرضی سے شادی شدہ نہیں۔۔۔ تم بھول گئی ہو؟ نواب سرگے پائلووچ اور تم خود اس کے ذمہ دار ہو۔ صرف اس وجہ سے کہ میرا نشانہ اس سے بہتر تھا، وہ حسد کے مارے مجھے ایک مہینے تک شراب پلاتا رہا، اور جب کوئی شخص نشے میں دھت ہو تو آپ اس کا مذہب تک تبدیل کروا سکتے ہیں، شادی تو معمولی چیز ہے۔ مجھ سے بدلہ لینے کے لیے اس نے نشے کی حالت میں میری تم سے شادی کروا دی۔۔۔ شکاری کو چرواہی سے ملا دیا! تم نے دیکھ لیا تھا کہ میں نشے میں ہوں، پھر تم نے مجھ سے شادی کیوں کی؟ تم تو اس کی مزارع نہیں تھیں، تم انکار کر سکتی تھیں، تم نہ کر سکتی تھیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ کسی چرواہی کی شکاری سے شادی اس کی خوش قسمتی ہے، لیکن تمھیں اس کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔ ٹھیک ہے، اب غموں کی ماری بن جاؤ، روؤ۔ یہ نواب کے لیے مذاق تھا لیکن تمھارے لیے رونے کی بات ہے۔۔۔ اب دیوار سے ٹکریں مارو۔‘
خاموشی چھا گئی۔ تین جنگلی مرغابیاں میدان کے اوپر سے گزریں۔ یگور نے نگاہوں سے ان کا پیچھا کیا، پھر وہ وہ تین بمشکل نظر آنے والوں نقطے بن کر جنگل کے پیچھے غائب ہو گئیں۔
’تمھاری گزربسر کیسے ہوتی ہے؟‘ اس نے مرغابیوں سے نظریں ہٹا کر پیلاگیا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’میں کام کرتی ہوں۔ سردیوں میں میں فاؤنڈلنگ ہسپتال سے ایک بچہ لے آتی ہوں اور اسے بوتل سے دودھ پلاتی ہوں۔ مجھے اس کا مہینے کا ڈیڑھ روبل مل جاتا ہے۔‘
’اوہ۔۔۔‘
دوبارہ خاموشی۔ گھاس کے کٹے ہوئے قطعے سے ایک سریلے گیت کی آواز بلند ہوئی، پھر جلد ہی دم توڑ گئی۔ گرمی کی شدت گلوکاری کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔
’سنا ہے تم نے اکولینا کے لیے نئی جھونپڑی ڈال رکھی ہے،‘ پیلاگیا نے کہا۔
یگور کچھ نہیں بولا۔
’تو وہ تمھیں زیادہ پیاری ہے۔۔۔‘
’یہ تمھاری قسمت ہے، یہی نصیب ہے!‘ شکاری نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا۔ ’تمھیں گزارا کرنا پڑے گا۔ لیکن اب خداحافظ، گپ شپ میں پہلے ہی دیر ہو گئی ہے۔۔۔ مجھے شام تک بولتوو پہنچنا ہے۔‘
یگور اٹھا، انگڑائی لی اور بندوق کندھے پر ڈال لی۔ پیلاگیا بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’تم گاؤں کب آؤ گے؟‘ اس نے ملائمت سے کہا۔
’وہاں آنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، میں وہاں ہوش کی حالت میں نہیں آؤں گا، اور نشے میں تمھیں مجھ سے کچھ نہیں ملے گا، میں نشے میں بہت کمینہ بن جاتا ہوں۔ خداحافظ!‘
’خداحافظ، یگور ولاسچ۔‘
یگور نے سر پر ٹوپی سیدھی کی اور کتے کو بلا کر اپنی راہ پر چل دیا۔ پیلاگیا کھڑے اسے دیکھتی رہی۔۔۔ اس نے اس کے ہلتے ہوئے کندھے دیکھے، اس کی شوخ ٹوپی، اس کی لاپروایانہ، سست چال، اور اس کی آنکھیں غم اور ملائمت سے بھر گئیں۔۔۔ اس کی نگاہیں اپنے خاوند کے لمبے اور پتلے بدن پر جمی رہیں، اسے سہلاتی، تھپکتی رہیں۔۔۔ اس نے جیسے اس کی نظریں محسوس کر لیں، وہ رکا، مڑ کر دیکھا۔۔۔ منھ سے کچھ نہیں بولا، لیکن اس کے چہرے، اس کے اچکائے ہوئے کندھوں سے پیلاگیا کو احساس ہوا کہ وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ وہ اس کی طرف بڑھی اور متلاشی نظروں سے دیکھا۔
’یہ لے لو،‘ وہ مڑا۔
اس نے ایک روبل کا مڑا تڑا نوٹ اسے تھما دیا اور تیزی سے چل پڑا۔
’خدا حافظ یگور ولاسچ،‘ اس نے مشینی انداز میں نوٹ لیتے ہوئے کہا۔
وہ چمڑے کی تانت کی طرح تنا ہوا چلتا رہا۔ یہ بت کی طرح زرد اور ساکت کھڑی رہی، اس کی نظریں اس کے ہر قدم کا حساب لیتی رہیں۔ پھر اس کی سرخ قمیص گہرے رنگ کی پتلون میں مدغم ہوئی، قدم نظر آنا بند ہو گئے، پھر کتا بھی اس کے جوتوں کے ساتھ مل گیا۔ اب ٹوپی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، اور۔۔۔ اچانک یگور تیزی سے میدان کی طرف مڑا اور اس کی ٹوپی سبزے میں غائب ہو گئی۔
’خداحافظ یگور ولاسچ،‘ پیلاگیا نے سرگوشی کی، اور اس کی سفید ٹوپی کی ایک اور جھلک دیکھنے کے لیے پنجوں کے بل کھڑی ہو گئی۔
***

ترجمہ: ظفر سید

اتوار، 12 جون، 2016

چیخوف کو کیسے پڑھیں/کیتھی پاپکن

کیتھی ایل پاپکن کولمبیا یونیورسٹی کے سلاوی زبانوں کے شعبہ کی پروفیسر ہیں۔انہوں نے چیخوف کی کہانیوں کا ایک انتخاب ان پر لکھے ہوئے مختلف اہم تنقیدی مضامین کے اقتباسات کے ساتھ ترتیب دیا ہے۔جس کا تعارف یہاں آپ کے مطالعے کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔کیتھی نے اس میں بہت اہم باتیں کی ہیں۔ہم یوم چیخوف کی ابتدائی منزل پر یہ ضرور جاننا چاہیں گے کہ آخر اس اہم مصنف کو پڑھنے کا طریقہ کیا ہو، یا کسی بھی اہم رائٹر کو پڑھنے کابہتر طریقہ کیا ہوسکتا ہے،اور پھر اس پر غور کریں کہ ایسے مصنفین کو پڑھنے کا کوئی اصول یا کوئی طریقہ ممکن بھی ہے یا نہیں۔بہرحال ابتدا یہیں سے کرتے ہیں۔میں چیخوف کے حوالے سے بہت زیادہ کام نہیں کرپایاہوں، اس بات کا مجھے افسوس ہے، مگراس کے لیے آپ میرے بجائے موسم کو کوسیں، جو مجھے کبھی بجلی کٹنے ، کبھی زیادہ گرمی کے ہونے کے سبب ٹھیک سے کام نہیں کرنے دے رہا،البتہ یہ کام جتنا بھی ہے، آج کے دن آپ کے حوالے کرنا چاہتا ہوں۔عاصم بخشی کا بے حد شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میری درخواست پر اس اہم تعارفی مضمون کو ترجمہ کیا، اس کی کچھ کہانیاں، ادھوری ترجمہ کردہ میرے پاس موجود ہیں، کبھی وقت ملا تو انہیں ضرور شیئر کروں گا، آج تو جتنا کچھ آڈیو اور ٹیکسٹ کی صورت میں موجود ہے، بلاگز اور آڈیو کے ذریعے آپ تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔ شکریہ(تصنیف حیدر)

کوئی ابھی ادبی فن پارہ حتی الوسع طور پر متنوع تعبیرات و رجحانات کو نہ صرف دعوت دے گا بلکہ یہ تنوع پذیرائی کے ایک پیمانے کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ اس کے باوجود کئی وجوہات کے باعث ’’ کیسے پڑھیں؟‘‘ کا سوال چیخوف کی کہانیوں کے مخصوص تناظر میں بار بار اٹھتا ہے، جن میں سے کم از کم ایک اہم وجہ تو ان کہانیوں کاانوکھا پن ہے۔
اول واقعہ تو یہ ہے کہ یہ کہانیاں ایک بے ترتیب حد تک مختصر ہیں، خاص طور پر ظریفانہ ادبی رسالوں میں شامل ہونے والے اولین دور کے افسانچے جو فوری لطف اور معاوضے کی جلد ادائیگی کی خاطر رسالے کی محدود جگہ میں سمانے کے لئے تخلیق کئے گئے ہیں۔ کیا انہیں سنجیدہ ادبی کاوشیں کہنا ممکن ہے؟ طوالت کے پیمانے اپنی جگہ لیکن ان میں سے کچھ کہانیاں تو اپنے معمولی درجے کے موضوعات کے باعث قارئین کو چونکا دیتی ہیں۔ ایک کلرک کو چھینک آ گئی ہے، کسی نے کاکروچ کو پیروں تلے مسل دیا ہے، ان موضوعات میں آخر ایسا کیا دلچسپ ہے؟
دوسری بات چیخوف کے مخصوص اختراعات کی ہے۔ اگر ہم ان افسانوں کے عادی ہیں جن کا ابتدائیہ ذرا منظر نگاری پر مشتمل ہوتا ہے، پھر کہانی پلاٹ کے مطابق کچھ اونچائی کی جانب بڑھتی ہے ، ایک واقعہ رونما ہوتا ہے اور آخرکار انجام کو پہنچتی ہے، تو چیخوف ہمیں جزوقتی طور پرجھنجھوڑ کے رکھ دے گا۔ یہ وہی چیخوف ہے جس نے ابھرتے ہوئے کہانی کاروں کو اپنے شروع کے صفحات ردی کی ٹوکری کی نذر کر دینے کی نصیحت کی، جس کا پلاٹ اپنے اندر ایک سرعت کی سی کیفیت رکھتا ہے، جس کے واقعات زیادہ تر قضئیے ہیں اور جس کے انجام کو اکثر مبہم گردانا گیا ہے۔ یہ کہانیاں ہم سے کیا چاہتی ہیں اور منزل کس جانب ہے؟
یہ کہانیاں ایک اور طرح بھی بے انجام ہیں: جوابوں کی بجائے مقصد سوال اٹھانا ہے، تبلیغ یا تجاویز سے دور رہا جاتا ہے، چیخوف نے کبھی اپنی تخلیقی کائنات میں موجود ابہام کو خفیہ نہیں رکھا۔یہاں تک کہ ان کہانیوں میں بھی عام طور پر معانی مبہم رہتے ہیں جہاں واقعات ڈرامائی اور نتیجہ فیصلہ کن ہے: فیصلے سے پرہیز کیا جاتا ہے، اخلاقی نتیجے کی جانب اشارہ نہیں کیا جاتا۔ چیخوف کا یہی دعوی تھا کہ یہ کہانی کار کا منصب نہیں۔ فیصلہ قارئین پر چھوڑنا ہی مناسب ہے کہ وہ کہانی کو کیا معنی پہناتے ہیں۔
اگر چیخوف بغیر کوئی واضح الزام پیش کئے اپنی تخلیقات کو قارئین کی عدالت کو غور و فکر کے لئے چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو یہ ایک جزوی فرار ہے کیوں کہ اس قسم کے تعینات نہ تو اس کی ذمہ داری ہیں اور نہ ہی اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔
انسانی علم کی ماہیت کے بارے میں چیخوف کے خیالات مشہور و معروف ہیں، اس سے ایک سے زیادہ بار منقول ہے کہ ہم یقین اور (بالخصوص اخلاقی) وضوح کی جس حد تک کوشش کرتے ہیں زندگی ہمیں مزید مبہم اور ناپائیدار حالت میں کانپتی ہوئی زمینوں میں لا پھینکتی ہے ۔ مثال کے طور پر خدا کے ہونے اور نہ ہونے کے یقین کی دو متضاد اور باہم متقابل انتہاؤں کے درمیان چیخوف ایک وسیع و عریض میدان کا تصور کرتا ہے۔ اس تیرہ و تاریک وسطی علاقے کی لامحدود پیچیدگی میں سے اپنا راستہ تلاش کرنے اور ندامت و معصومیت، مرض و تندرستی ، الحاد وایمان کے بیچ موجود کچے راستوں میں پیر جماتے ہوئے گزرنے کے لئے فہم و دانش اور ہمت و جرأت کی ضرورت ہے۔ اس ابہام کو جھیل جانے والے قارئین کے لئے یہ مسئلہ مزید اہم ہو جاتا ہے کہ چیخوف کی کہانیوں کو کیسے پڑھا جائے۔
لیکن یہ ایک دلچسپ تضاد ہے کہ ان تمام ممکنہ رکاوٹوں کے باوجود چیخوف کی کہانیوں کو پڑھنا ذرا مشکل نہیں، بلکہ یہ حیرت ناک حد تک ایک پرلطف اور سہل تجربہ ہے۔ پہلی نظر میں یہ کہانیاں بالکل غیرپیچیدہ اور واضح محسوس ہوتی ہیں۔ اور اگر یہ صفحات میں کم ہیں یا وسعت، تفصیلات اور انجام کے پیمانوں پر پورا نہیں بھی اترتیں تو بھی قاری کی راستے میں اعتقادی یا میلانی رجحانات اور غیرضروری لفاظی کی دیواریں کھڑی نہیں کرتیں، بس بالکل سیدھی سادھی ( چاہے بے نتیجہ) کہانیاں محسوس ہوتی ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ سارے فساد کی جڑ تفصیلات میں ہے، خاص طور پر وہ عجیب و غریب اشارے جو کہانی سے بظاہر کوئی تعلق نہیں رکھتے اور چیخوف کی عام فہم نثر کے ساتھ بالکل بے ربط محسوس ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر چیخوف کو یہ بتانے کی کیا ضرور ت ہے کہ کسی بالاخانے میں فلاں کرسی کی ایک ٹانگ کم ہے (’’جان من‘‘)؟ یا ایک لڑکی اس وقت گہرے نیلے رنگ کا کپڑا تھامے تھی جب کوئی اس کا ہاتھ مانگنے آیا (’’ادب کا استاد‘‘)؟ چیخوف کے اولین نقاد ان فالتو تفصیلات کو مصنف کی کم فہمی گردانتے ہیں۔ لیکن اب آہستہ آہستہ زیادہ تر نقاد ان الجھاؤ والے اجزاء کو ایک کنجی کے طور پر دیکھنے لگے ہیں، لیکن کاہے کی کنجی؟
کچھ نقادوں کا استدلال ہے کہ چیخوف کی مخصوص محتاط طبعی کے پیشِ نظر یہ گمان معقول ہے کہ متن میں آنے والی ہر تفصیل کسی وجہ سے وہاں رکھی گئی ہے، باالفاظِ دیگر ہم یہ مفروضہ قائم کرنے میں حق بجانب ہیں چیخوف کی نرم رو کہانیوں میں موجود تمام اجزاء ارادتاً وہاں شامل کئے گئے ہیں لہٰذا بامقصد ہیں۔ آخر کار (چاہے ڈرامے کے تناظر میں ہی سہی) چیخوف سے یہ بھی تو منقول ہے کہ اگر ایکٹ اول میں دیوار پر ایک بندوق لٹکی ہوئی ہے تو اسے پردہ گرنے تک چل جانا چاہئے یا پھر اسے سرے سے وہاں ہونا ہی نہیں چاہئے تھا۔ اور اگر ہر بندوق کا ادھر موجود ہونا ضروری ہے تو پھر ہر ایک کا بامعنی ہونا بھی لازم ہے، حادثاتی طور پر کچھ شامل نہیں ہوتا اور فالتو اجزاء جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔ رابرٹ ایل جیکسن کا کہنا ہے کہ ’’چیخوف کے عظیم ترین شاہکار فن پاروں میں کوئی تفصیل بے معنی نہیں۔‘‘ لہٰذا چیخوف کو اچھی طرح پڑھنے کا مطلب ہے ہر لفظ یہاں تک کہ بظاہر اتفاقی الفاظ کو بھی دھیان میں رکھنا، کہانی میں موجود علامتوں اور سراغوں پر غور و فکر ، لطیف اشاروں کی کھوج اور فریبی سادگی کی سطح سے نیچے غواصی کرتے ہوئے گہرائیوں میں پیچیدہ فن کاریوں تک رسائی، بلکہ لسانی اثرات تک پر توجہ، صوتی اتار چڑھاؤ، لحن و آہنگ اور انشقاقی سروں پر توجہ، یعنی نثر کو یوں پڑھنا جیسے نظم پڑھی جاتی ہے کہ اس کے اثرات اور اجزاء کو مکمل نظر میں رکھا جاتا ہے۔ قصہ مختصر، گہرے نیلے کپڑے کا ہر ٹکڑا کُل تخلیق کو بامعنی بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
دوسرے ان بنیادوں پر اس ’’مجموعی‘‘ طریقۂ کار پر اعتراض کرتے ہیں کہ چیخوف کی نثر کا عملی اصول اس کے بالکل الٹ ہے، یعنی ایک اتفاقی کیفیت، اور اگر اس کی کہانیوں میں کوئی تفصیل بے ربط اور دوسری چیزوں سے لاتعلق محسوس ہوتی ہے تو یہ محض اس اتفاقی اصو ل کے تحت ہے۔ کئی دفعہ ایک بندوق بس ایک بندوق ہوتی ہے، مادی دنیا کا ایک اتفاقی جزو جو اپنی ہستی سے زیادہ کسی جانب اشارہ نہیں کرتا، وہ وہاں لٹکی ہے کیوں کہ وہاں موجود ہے اور اس کے اوپر معانی ٹا نگنا کج روی کی علامت ہے۔ دوسرے لفظوں میں چیخوف کی ان انوکھی تفصیلات کا مقصد ’معنی‘ نہیں بلکہ بس ’ہونا‘ ہےاور وہ اس ’معنی سے آزاد‘ ہونے کی کیفیت کے ذریعے ہستی کی نوعیت کا ایک نمونہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ چیخوف کی نثر اس کے انقلابی مشاہدۂ کائنات کی تجسیم ہے، دنیاوی زندگی کے منتشر اور اتفاقی ہونے کا فہم جو حادثے اور ناکارگی کی لپیٹ میں ہے۔ الیگزنڈر چوڈاکوف کا کہنا ہے کہ ربط اور مقصدیت کے گھسے پٹے مفروضوں سے چیخوف کی آزادی ہی وہ خاصیت ہے جو اس کے فن کو جدید اور غیراعتقادی بناتی ہے، ہر شے کو علامت یا کسی اور چیز کے جانب اشارے کے طور پر دیکھنا غلط فہمی ہے۔
دونوں تنقیدی آراء میں سے خواہ کوئی بھی درست ہو، بہرحال دونوں کسی نہ کسی جانب راہنمائی کرتی ہیں، اور اپنے متضاد مفروضوں کے باوجود اس سوال پر غورو فکر کے لئے مشترکہ طور پر مشغول ہیں کہ کہانیاں کیسے کام کرتی ہیں۔ واقعہ یہ ہے دونوں قسم کے استدلال کی مشترکہ بنیاد تو یہی سوال ہے جس نے مباحثے کو قوت اور مواد فراہم کیا ہے۔ اس جلد میں موجود مضامین کے اقتباسات تنقیدی سرحدوں کے دونوں جانب بلکہ وسط سے بھی شامل کئے گئے ہیں، اور خاص طور پر اسی جاری قضیے سے تعلق رکھتے ہیں کہ چیخوف کو کیسے پڑھا جائے۔ پہلے حصے ’رجحانات‘ میں وہ مضامین شامل ہیں جو اس سوال سے مفصل بحث کرتے ہیں۔ لیکن چیخوف کی نثر پر مجرد بحث بس کچھ ہی آگے لے جا سکتی ہے، چیخوف خود بھی عمومیت پسندی سے خائف تھا اور اس کا کام بھی اس سے گریز کرتا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ چیخوف پر ہوا تمام زندہ تنقیدی کام اس کی چنیدہ کہانیوں کے بغور مطالعے پر مشتمل ہے۔ لہٰذا مضامین کے دوسرے حصے ’تعبیرات‘ کو یہ واضح کرنے کے لئے جمع کیا گیا ہے کہ بغور مطالعہ کیا ہوتا ہے اور کچھ صورتوں میں ایک ہی کہانی مختلف زاویوں سے کتنی مختلف نظر آتی ہے۔ زاویہ ہائے نظر خواہ کچھ بھی ہوں، یہ تمام مطالعے یہی ثابت کرتے ہیں کہ دلچسپ چیزیں تبھی نمودار ہوتی ہیں جب یکسوئی سے توجہ دی جائے۔دلچسپ ترین تعبیرات دوبارہ پڑھنے پر سامنے آتی ہیں، یعنی متن پر معمول سے ہٹ کر نظر ڈالے جانے پر نہ صرف یہ راز افشا ہوتا ہے کہ چیزیں اتنی سادہ نہیں ہوتیں جتنی نظر آتی ہیں بلکہ یہ بھی کہ چیخوف کی کہانیاں پراسرار کیفیات لئے ہیں۔
اگر کسی انفرادی کام کی صرف ایک جہت کے سیاق و سباق میں اتنا مفید اختلاف سامنے آ سکتا ہے تو جزو کے کُل سے باہمی تعلق کے سوال پر اتنے ہی دلچسپ نتائج سامنے آتے ہیں، یعنی یہ غور و فکر کہ چیخوف کی ایک کہانی کس طرح دوسری کہانیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ یقیناً زیادہ سے زیادہ لطف اور قدردانی کے لئے قارئین کو انفرادی اور مجموعی طور پر دونوں طریقوں سے کہانیوں کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ رنگ برنگی کہانیاں اپنی تنہائی میں کیا ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کیا بن جاتی ہیں۔ یہ ہمارے اندر دہرائی جانے والی دھنوں، آہنگ، ساخت اور اشاروں کنایوں کی آگہی کو جلا بخشتی ہیں، ساتھ ہی ہمیں یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ ہم مستقل اخلاقی سوالات سے نبرد آزما ہیں۔ ہر کہانی اشاراتی طریقوں سے دوسری کہانیوں سے منسلک ہوتی ہے اور ہر دوسری ہر چیز کے ساتھ مل کر اپنے آہنگ میں مزید تیزی لے آتی ہے۔
لطف کی بات بھی اہم ہے اور چیخوف کو کیسے پڑھنے کا سوال ان ادیبوں اور نقادوں کی پیچیدہ ترجیحات تک تو محدود نہیں جو مجموعے وضع کرتے ہیں اور علمی تعبیرات پیش کرتے ہیں۔ کھری جستجو، راستوں کی تلاش، غیر سے ایک مثبت جذباتی مناسبت، کسی دوسرے کے درد تک رسائی، یہ یاد دہانی کے ہم سب ایک کل کا جزو ہیں اور علیحدہ نہیں: یہ سب کچھ بھی چیخوف کی کہانیوں کا ایک مقصد ہے۔ وہ جو چیخوف کو اس لئے پڑھتے ہیں کہ وہ خود مصنفین ہیں، مناسبت اور تعلق کا یہ احساس اس کی فن کاری ظاہر کرتا ہے۔ جو چیخوف کو لطف کی خاطر پڑھتے ہیں، یہ مناسبت یقیناً اس کے فن کا منبع ہے۔
چیخوف کی کہانیاں کیوں پڑھی جائیں؟ کیوں کہ یہ ہمارے فہم کا دائرہ وسیع کرتی ہیں اور لطف و بیدار ی کا باعث ہیں۔ کیوں کہ یہ ہمیں ہر قسم کے رشتے جوڑنے پر ابھارتی ہیں۔ کیوں کہ فہم کی مسلسل کوشش کے ذریعے نقاط ملاتے ہوئے ہم معانی اور حُسن کے قریب ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ یہ کوشش ہی کہانی کو اس کی شکل دیتی ہے اور اس کے مواد کو ایک سلسلے میں پروتی ہے، تشکیل اور معنی کی تشکیل کا کام ہمیں اندر سے مالا مال کر دیتا ہے۔ کیوں کہ کہانیاں ہمیں زندگی کی ان جہتوں پر غور وفکر کی جانب واپس لے جاتی ہیں جو پہلی نظر میں ہماری توجہ حاصل کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ کیوں کہ سوال سے نبرد آزما ہونے میں ہی ہم ایک بھرپور اور اچھی زندگی گزارنے لگتے ہیں کہ چیخوف سے کیسے زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جائے ۔

بدھ، 8 جون، 2016

کچھ ابن خلدون کے بارے میں/محمد کاظم

ابن خلدون کے بارے میں ہمارے ہاں عام تعلیم یافتہ لوگ بس اتنا جانتے ہیں کہ وہ مسلم دنیا کا ایک نام ور مؤرخ تھا۔ البتہ کچھ زیادہ تعلیم یافتہ طبقہ، جو تعداد میں یقیناً کم ہے، اس بات سے آگاہ ہے کہ وہ صرف مؤرخ ہی نہیں تھا بل کہ فلسفۂ تاریخ کا مُوجد اور علومِ عُمرانی (Social Science) کا ایک پیش رَو مفکر بھی تھا۔ آج مشرق و مغرب میں اس کی جو شہرت ہے اورعالمی فکر کی دُنیا میں اسے جو اونچا مقام حاصل ہے وہ اس کی اسی دوسری حیثیت کی وجہ سے ہے۔
ابن خلدون نے ایک طویل عمر پانے کے بعد ۱۴۰۶ء میں قاہرہ میں انتقال کیا۔ اس نے جو تاریخ لکھی اس کے شروع میں اس نے ایک ’’مقدمہ‘‘ لکھا جو پھیل کر اس کے فلسفہ و فکر کا ایک ایسا نادر مجموعہ ثابت ہوا جس کی مثال نہ اس سے پہلے مسلم فکر کی تاریخ میں ملتی ہے اور نہ اس کے بعد کئی صدیوں تک دیکھنے میں آئی۔ اس ’’مقدمے‘‘ میں اس نے بتایا کہ مؤرخ کا کام گزرے ہوئے واقعات کو محض بیان کر دینا ہی نہیں ہے بل کہ اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ ان واقعات کے پس پردہ عوامل کیا تھے، اور ان عوامل کے درمیان کس طرح کا منطقی ربط تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ان عوامل اور رجحانات کو سامنے رکھ کر ایک ذہین مؤرخ آنے والے واقعات کی بھی ایک حد تک پیش گوئی کر سکتا ہے۔ پھر اس نے اپنے اس فلسفۂ تاریخ کی روشنی میں اپنا فلسفۂ عمرانیات قائم کیا۔ اس نے اُن عوامل کی نشان دہی کی جو انسانی گروہوں یا قوموں کے نمود و ارتقا اور پھر ان کے انحطاط کے پیچھے کارفرما ہوتے ہیں۔ اسی ضمن میں اس نے بتایا کہ افراد کی طرح قوموں کی بھی ایک طبعی عمر ہوتی ہے، جو شباب، کہولت اور بڑھاپے سے گزر کر بالآخر اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔
ابن خلدون کے ان افکار میں ایک نئی روح کی جو لہریں پائی گئیں انھیں نہ اس کے معاصرین نے اور نہ اس کے معاً بعد آنے والی نسلوں نے کوئی زیادہ محسوس کیا۔ اس کے ان افکار و تصورات نے البتہ اس کے بعض ذہین شاگردوں کو متاثر کیا، اور مقریزی اور سخاوی جیسے علما اور دانش ور پندرھویں صدی میں ابن خلدون کی تاریخی فکر سے فیض یاب ہوتے رہے۔ لیکن اس کے بعد ایک طویل عرصے تک اس ضمن میں خاموشی چھائی رہی۔
ابن خلدون کو پھر سے دریافت کرنے کا عمل سولھویں صدی میں کہیں جا کر شروع ہوا۔ سترھویں صدی میں اس میں کچھ حرکت اور زندگی کے آثار دیکھنے میں آئے۔ اس صدی کے آغازمیں شمالی افریقہ کے ایک سکالر مقّری نے ابن خلدون کے افکار سے خاصی رہ نمائی حاصل کی۔ لیکن اسے صحیح طور پر سمجھنے کے لیے کچھ اور لوگ درکار تھے، جو رومن لوگوں کی طرح سیاسیات میں دل چسپی رکھتے تھے۔ چناں چہ ان کی ذہنی و فکری دل چسپیوں کا مرکز تاریخ تھی۔ یہ لوگ عثمانی ترک تھے، جن کے دانش ور اور سیاسی مدّبر ابن خلدون کے افکار اور اس کی تصانیف میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر دل چسپی لینے لگے۔اٹھارویں صدی کا پورا عرصہ متعدد ترک دانش وروں اور سکالروں کی دل چسپی سب سے زیادہ ابن خلدون میں رہی۔ ان میں سے بعض لوگوں نے یہ بھی کیا کہ اس کی تصانیف کے متعدد مخطوطے مختلف کتب خانوں سے ڈھونڈ کر ترکی میں لائے، اپنے استفادے کی خاطر انھیں ایڈٹ کیا اور ان کی نقلیں کروا کر دوسروں کو مہیّا کیں۔
انیسویں صدی کے آغاز سے ابن خلدون کے مطالعے میں ترکوں کے ساتھ یورپ کے سکالر بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ ابن خلدون کے زمانے کے کئی صدیوں بعد یورپی مغرب میں جب کچھ نئے افکار و نظریات بحث مباحثے کا موضوع بنے تو انھیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہ افکار و نظریات کوئی نئے نہیں تھے بل کہ بہت پہلے، چودھویں صدی میں، شمال مغربی افریقہ کے ایک عرب باشندے نے ان کا ذکر اذکار کیا تھا اور ان کی بنیاد پر اپنی تاریخ کے ’’مقدمے‘‘ میں ایک نئی سائنس کی بنیاد رکھی تھی۔ ابن خلدون کی یہ ایک دوسری دریافت تھی جس کا سہرا اہل یورپ کے سَر ہے۔ انھوں نے ایک صدی سے زیادہ عرصہ اس کی تاریخ کے اس عظیم الشان ’’مقدمے‘‘ کے مطالعے اور تجزیہ میں صرف کیا، اور اس میں پیش کئے جانے والے فلسفے کو اپنی بحث کا موضوع بنائے رکھا۔
مغرب میں یہ سب کچھ ہو رہا تھا، اور اس کے اپنے وطن مشرق میں اس بارے میں بالکل خاموشی تھی۔ البتہ ۱۹۳۲ء میں جب ابن خلدون کی پیدائش پر چھہ سو سال پورے ہونے کو آئے تو عرب لوگ جاگ پڑے، اور مغرب میں اس پر جو کام ہو رہا تھا اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے انھوں نے فیصلہ کیا کہ ابن خلدون کی شایان شان طریقے پر یاد منائی جائے اور اس کی تصانیف کو شائع کرکے عرب دنیا میں پھیلایا جائے۔ چناں چہ اس غرض سے انھوں نے اس کے وطن تیونس، اور پھر اس کے آخری زمانے کے مسکن مصر میں جلسے اور کانفرنسیں منعقد کیں۔ ان میں اس کے چھوڑے ہوئے علمی و فکری ورثے کو بحث مباحثے کا موضوع بنایا، اور پھر ان سارے مباحث کو جمع کرکے شائع کیا۔ اس طرح ابن خلدون ترکی سے یورپ اور یورپ سے ہوتا ہوا بالآخر اپنے وطن عرب میں پہنچ گیا۔
یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ ہم مشرق والوں کے علم و فن کا کوئی خزینہ یا کوئی شخصیت پہلے اہلِ مغرب نے دریافت کی۔ انھوں نے اس کی قدروقیمت پہچانی اور اس کے بارے میں اپنے جائزے اور مطالعے پیش کیے۔ پھر وہ معلومات ہم اہل مشرق تک پہنچیں اور ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہمارے ہاں علم و فن کا یہ خزانہ موجود تھا اور ہمیں اس کی خبر نہ تھی۔ اس کی بڑی مثال عربی کے داستانی ادب کا عظیم شاہ کار ’’الف لیلہ‘‘۱ ہے جسے فرانس کے موسیوگلان نے دریافت کیا اور اس کے مختلف اجزا مشرق کے کتب خانوں سے بہم پہنچا کر اٹھارویں صدی کے اوائل میں اس کا ایک نسخہ تیار کیا۔ پھر فرانسیسی میں اس کا ایک خوب صورت ترجمہ کرکے اسے پورے یورپ میں پھیلا دیا۔ لیکن اٹھارویں صدی تک مشرق میں ’’الف لیلہ‘‘ بہ دستور حالتِ گم نامی میں تھی۔ مشرق میں الف لیلہ کی باقاعدہ دریافت اہل مغرب ہی کے ذریعے عمل میں آئی جو مصر پر نپولین کے حملے کے بعد مشرق کے ملکوں میں آنے جانے لگے تھے۔ ان کی زبانی عرب دنیا یہ سُن کر حیران رہ گئی کہ ان کے پاس عربی لوک داستانوں کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود تھا جسے مغرب والوں نے ڈھونڈ نکالا اور مشرق کو اس کی خبر ہی نہیں تھی۔۲
اسی طرح صحابہؓ کے حالات میں ایک ضخیم کتاب ’’طبقات ابن سعد‘‘ ہے جس کے بارے میں علامہ شبلی نعمانی اپنے مقالے میں بتاتے ہیں۳ کہ اس کتاب کے نسخوں کو بہم پہنچانے میں، جس کا پورا نسخہ قسطنطنیہ اور قاہرہ کے کتب خانوں میں بھی نہیں پایا جاتا تھا، جرمنی کے ایک مشہور فاضل پروفیسر ساخو نے حد درجہ مشقت جھیلی۔ اس کے اس کام کے مصارف کے لیے شہنشاہ جرمنی نے (اُس زمانے کے) پورے ایک لاکھ روپے شاہی خزانہ سے عطا کیے۔ یہ کتاب جو بارہ ضخیم جلدوں میں شائع ہوئی، اس کی پہلی جلد علامہ شبلی نے دیکھی تھی۔ جب کہ باقی جلدیں اس وقت بھی زیرطبع تھیں۔
ابن خلدون سے جب بالآخر اہلِ عرب آشنا ہوئے تو اس پر علمی کاموں کا آغاز ہوگیا۔ اس ضمن میں مصر کے ڈاکٹر طہٰ حسین نے پیرس کی سوربون یونی ورسٹی میں اس کے عمرانی فلسفے پر اپنا تھیسس پیش کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اسی طرح ایک دوسرے فاضل محمد عبداللہ عثمان نے’’ابن خلدون... اس کی حیات اور تصانیف‘‘ کے موضوع پر ایک عمدہ کتاب انگریزی زبان میں لکھی، اور اس طرح یہ سلسلہ چل پڑا۔
ابن خلدون کا تعلق عرب کے کس علاقے سے تھا؟ اور اس کا شجرۂ نسب کہاں تک پہنچتا ہے؟ اس بارے میں ابن خلدون نے ہمیں جو معلومات بہم پہنچائی ہیں ان کے مطابق اس کے خاندان کا تعلق جنوبی عرب کے علاقے حضرموت کے ایک یمنی قبیلے سے تھا۔ اس قبیلے کے سلسلۂ نسب کی کڑیاں اوپر جا کر ملوکِ کندہ سے ملتی تھیں، جو اسلام سے پہلے پورے حضرموت پر برسراقتدار تھے۔ اس خاندان کا مورثِ اعلیٰ خالد وہ پہلا شخص تھا جو یمن سے ہجرت کرکے ہسپانیہ پر مسلمانوں کی فتح کے ابتدائی برسوں میں اندلس چلا گیا، اور آٹھویں صدی عیسوی میں وہ پہلے قرمونہ میں جا بسا جو قرطبہ، اشبیلیہ اور غرناطہ کی تکون کے اندر کہیں واقع تھا۔ ہسپانیہ میں ایک رواج کے مطابق اس کا نام خالد سے خلدون ہوگیا (جیسے زید سے زیدون، بدر سے بدرون وغیرہ) اور آگے پورا خاندان اسی نام سے موسوم ہوا۔ کچھ عرصہ گزرنے پر بعد کی نسلوں کے لوگ اشبیلیہ چلے گئے۔ تاریخی اعتبار سے اس خاندان میں ایک نمایاں نام کریب کا ملتا ہے، جس نے اموی خاندان کے خلاف بغاوت کی اور اشبیلیہ میں نیم آزاد حکومت قائم کر لی۔ گیارھویں صدی کے وسط میں بنو خلدون اشبیلیہ کے فکری اور سیاسی رہ نما تسلیم کیے جاتے تھے۔
تیرھویں صدی کے آغاز میں ہسپانیہ کے الموحّدون کی مملکت کا شیرازہ بکھر گیا، اور عیسائی طاقتیں قرطبہ، اشبیلیہ اور غرناطہ کی تکون کے اندر مداخلت کرنے لگیں۔ بنوخلدون نے جب شہر کی پُرخطر صورتِ حال دیکھی تو ۱۲۴۸ء میں اشبیلیہ کے فتح ہونے سے پہلے ہی اسے چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا، اور سمندر عبور کر کے شمال مغربی افریقہ کے محفوظ اور پرامن ماحول میں جا بسے۔ یہاں بنو حفص کا خاندان حکم ران تھا۔ انھوں نے بعض رشتہ داریوں کی وجہ سے ہسپانیہ سے آنے والے بنوخلدون کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔
ابن خلدون شمال مغربی افریقہ کے ملک تیونس میں ۱۳۳۲ عیسوی میں پیدا ہوا۔ اس کی ابتدائی تعلیم اس وقت کے دستور کے مطابق ہوئی اور اس نے اپنے زمانے کے مجوّزہ نصاب پر پورا عبور حاصل کر لیا۔ اس نے پہلے قرآن کریم حفظ کیا اور اس کو ساتوں قرأتوں کے ساتھ پڑھا۔ احادیث میں اس نے مُوطّا امام مالک اور صحیح مسلم کی تو تکمیل کی، لیکن صحیح بخاری کے چند اجزا تک ہی اس کی رسائی ہو سکی۔ لغت اور نحو کے علوم میں اس نے دست رس حاصل کی، اور ادبیات کے سلسلے میں اس کا اپنا بیان ہے کہ عربی ادب و شعر کے کلاسیکی مجموعے کتاب الاغانی کا بڑا حصہ اس کو ازبَر تھا۔ اس بیان پر البتہ لوگوں نے زیادہ اعتبار نہیں کیا کہ کتاب الاغانی بہت ضخیم کتاب ہے (آج کے زمانے میں یہ بیس جلدوں میں آتی ہے)۔
ہسپانیہ کی طرف سے جو مہاجر آ آ کر شمال مغربی افریقہ میں بس رہے تھے ان کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ یہ لو گ مقامی باشندوں کے مقابلے میں ایک مختلف قسم کا گروہ تھے۔ بہت مہذّب اور بہتر ذہنی سطح کے حامل! ان ہسپانوی مہاجروں نے شمال مغربی افریقہ کی ثقافتی زندگی پر جو اثرات مرتب کیے ان کا ابن خلدون اپنے ’’مقدمے‘‘ میں بار بار ذکر کرتا ہے اور ہسپانیہ کی برتری اور اس کی تہذیب کے خالص اور بے مَیل ہونے پر زور دیتا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اپنے خاندان کے ہسپانیہ چھوڑنے کے تقریباً ایک سو سال بعد بھی ابن خلدون اپنے آپ کو ذہنی طور پر اُس شان دار تہذیب کا ایک بچھڑا ہوا فرد سمجھتا تھا۔
شمال مغربی افریقہ میں اُس وقت تین مملکتیں نمایاں اور اپنی اپنی جگہ طاقت کے مراکز تھیں۔ تیونس میں بنوحفص کا خاندان، جن کے زیرسایہ بنوخلدون رہ رہے تھے۔ آگے الجزائر (وسطی افریقہ) میں بنوعبدالودود! تلمسان اور بجایہ ان کے بڑے شہر تھے۔ اس سے اور آگے مراکش (مغربی افریقہ) جہاں مرینی خاندان کی حکم رانی تھی اور فاس (Fez) ان کا بڑا شہر تھا۔ ابن خلدون مختلف اوقات میں ان تمام حکومتوں کے درباروں کے ساتھ وابستہ رہا اور ان کے ہاں اس نے مختلف عہدوں پر کام کیا۔ چناں چہ وہ کاتبِ علامات (Stamp Master) کے معمولی عہدے سے ترقی کرتے کرتے حاجب، خطیب، کاتب السّر (سیکرٹری)، سفیر، وزیر اور قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) کے اونچے مناصب تک پہنچا۔ شمال مغربی افریقہ کے یہ حکم ران ایک دوسرے کے ساتھ عموماً برسرِپیکار رہتے تھے۔ جہاں کسی حکم ران نے دوسرے کو کم زور سمجھا اسی پر چڑھائی کر دی اور اس کے ملک پر قابض ہوگئے۔
اپنی زندگی کے حالات کے بارے میں ابن خلدون نے اپنے سوانح نگاروں کی مشکل یوں آسان کر دی کہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے اس نے ایک ایسی خود نوشت لکھ چھوڑی ہے جو اس کی زندگی کے حالات بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے اور ان کے تاریخی پس نظر کو بھی اُجاگر کرتی جاتی ہے۔ اپنی بعض خامیوں کے باوجود (مثلاً یہ کہ اس میں ابن خلدون کے بچپن کے حالات کا کوئی ذکر نہیں ہے) یہ سوانح بہت جامع اور وسیع الاطراف ہے۔ یہ اس کی ’’تاریخ‘‘ کا آخری حصہ ہے، جس طرح ’’مقدمہ‘‘ اس کی ’’تاریخ‘‘ کا پہلا حصہ ہے۔
جیسا کہ ہم آگے دیکھیں گے ابن خلدون کی زندگی کے دو نمایاں ادوار ہمارے سامنے آتے ہیں۔
ایک وہ جو (۱۳۳۲ء سے ۱۳۸۲ء تک ) شمال مغربی افریقہ کی مذکورہ بالا ریاستوں میں گزرا اور دوسرا وہ جو ۱۳۸۲ء سے ۱۴۰۶ء میں اس کی وفات تک) مصر میں گزرا۔ زندگی کے ان دونوں ادوار میں اس کو دو دو سانحے پیش آئے۔ پہلے دور میں سال ۱۳۴۸ء میں جب وہ سولہ سال کا تھا، اس علاقے میں طاعون کی ایک بڑی وبا پھوٹی، جس میں اس کے متعدد اساتذہ اور شیوخ، اور اس کے ماں باپ لقمۂ اجل ہوگئے۔ دوسرا سانحہ اس کے ادیب اور شاعر دوست لسان الدین الخطیب کے سیاسی قتل کا تھا۔ دوسرے دور میں، جب مصر میں آئے ہوئے اسے کچھ عرصہ ہوا تھا اس کے اہل خانہ (بیوی اور پانچ بیٹیاں)۴جو تیونس سے ایک جہاز میں قاہرہ کی طرف آ رہے تھے اسکندریہ کے قریب ایک حادثے میں جہاز کے ساتھ ہی غرق ہوگئے، اور گھر کا سارا اثاثہ بھی ان کے ساتھ ہی ڈوب گیا۔ دوسرا سانحہ تو نہیں البتہ اہم واقعہ اس زمانے میں تاتاری فاتح تیمورلنگ سے ابن خلدون کی ملاقات کا ہے۔ امیر تیمور نے ان دنوں دمشق کا محاصرہ کر رکھا تھا اور اس محاصرے کے دوران میں ابن خلدون کو اس کے ہاں بھیجا گیا۔ وہ اس کے ہاں رہا اور تاتاری امیر نے اِس عالم اور دانش ور کے ساتھ کافی باتیں کیں، جن کا ذکر آگے آئے گا۔
ابن خلدون کی زندگی کے حالات ایسی بھول بھلیاں (Labyrinth) ہیں کہ اگر آپ ایک دفعہ ان کی تفصیلات میں چلے جائیں تو واپسی کا راستہ مشکل سے ہی ملے گا۔ یہ حالات کوئی زیادہ دل چسپ اور جاذبِ توجہ بھی نہیں ہیں۔ انھیں پڑھتے ہوئے ایک ایسا شخص ہمارے سامنے آتا ہے جس کا مطمحِ نظر پوری زندگی میں افریقہ اور مصر کے درباروں میں اونچے مناصب پر پہنچنا اور طاقت اور اختیار کے لیے تگ و دو کرنا ہے۔ اس میں ذمہ داری اور وفاشعاری کی سخت کمی ہے۔ چناں چہ اس کی وابستگی اور مدح و ستائش کے محور وقت اور موقع کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ آج اگر اس کے مراسم ابن اسحاق حنفی اور حسن بن عمر کے ساتھ ہیں تو کل ان کا حریف اور دشمن اس کا ممدوح ٹھہرے گا، اس لیے کہ ایک تو وہ طاقت ور ہے، دوسرے اس کے ہاں اسے اونچی عمدہ اور بہتر پوزیشن ملنے کی امید ہے۔ درباروں میں رہتے ہوئے وہ دھڑے بندیاں بھی کرتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اکثر حاسدوں کی سازشوں کا شکار ہو جاتا ہے اور اپنے اس رویے کی پاداش میں وہ دو مرتبہ جیل کی ہوا بھی کھا آتا ہے لیکن یہ حوادث اس کے حوصلے کو پست نہیں کر سکتے اور وہ ہر دفعہ اپنی قابلیت اور علمی تفوّق کی بہ دولت پھر سے سرکار دربار میں اثرورسوخ حاصل کر لیتا ہے۔
ابن خلدون ابھی بنوحفص کے ہاں تیونس میں تھا جب مراکش کے مرینی سلطان ابو عنان نے تیونس پر چڑھائی کر دی۔ اس مہم میں وہ کچھ علما اور دانش ور بھی اپنے ساتھ لایا۔ ابن خلدون نے اس موقع سے فائد اٹھاتے ہوئے ان علما اور دانش وروں کے ساتھ روابط قائم کیے اور ان کی راہ نمائی میں اپنی تعلیم کا معیار بلند کیا۔ اس کے بعد بعض سیاسی حالات کی وجہ سے ابن خلدون تیونس کو چھوڑ کر ایک عرصے تک ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک چپ چاپ سفر کرتا رہا۔ تا آں کہ وہ امیر مراکش ابوعنان کے ہاں جا نکلا۔ ابوعنان نے پہلے تو اسے اپنے درباری علما کے گروہ میں شامل کیا، پھر کچھ عرصے بعد ۱۳۵۵ء میں اپنے کاتب (سیکرٹری) کے عہدے پر مامور کر دیا۔ مراکش کی مرینی سلطنت میں ابن خلدون نے اپنی زندگی کے آٹھ اہم سال گزارے۔ اس عرصے میں اس نے جہاں سرکاری امور سرانجام دیے وہاں علما اور شیوخ کی ایک بڑی جماعت کے علم و دانش سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا، جو قیروان، غرناطہ اور تلمسان کی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل تھے۔ اس طرح اس نے فقہی اور دینی نیز تاریخی، ادبی اور فلسفیانہ علوم میں اپنے علم کو ٹھوس بنیادوں پر قائم کر دیا۔
اسی عرصے میں اس کی ملاقات غرناطہ سے بھاگ کر آئے ہوئے سلطان محمد الخامس اور اس کے شاعر اور ادیب وزیر لسان الدین الخطیب سے ہوئی۔ ابن خلدون نے سلطان کی بہ حالی کے لیے کام یاب جدوجہد کی اور ان دونوں کے ساتھ اس کی دوستی کی بنیاد پڑگئی۔
یہاں مراکش میں ابومنان نے بجایہ کے امیر ابوعبداللہ کو فاس میں قید کر رکھا تھا۔ ابن خلدون نے اس سے راہ و رسم پیدا کی اور چوری چھپے اس کی رہائی اور مخلصی کا منصوبہ تیار کیا۔ اس شرط پر کہ اگر یہ کام یاب ہوگیا تو امیر بجایہ برسراقتدار آکر اس کو وزارت کا عہدہ سونپ دے گا۔ لیکن بدقسمتی سے یہ سازش کام یاب نہ ہو سکی اور اس کی پاداش میں ابن خلدون کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ وہ ابوعنان کے انتقال تک اکیس ماہ قید رہا۔
اس کے بعد حالات نے کروٹ لی اور ابن خلدون ۱۳۶۲ء میں زندگی میں پہلی بار اپنے آبا و اجداد کے وطن اور اپنے خوابوں کی سرزمین ہسپانیہ میں جا نکلا۔ یہاں غرناطہ میں اس وقت اس کے دوست سلطان محمد الخامس کی حکومت بہ حال ہو چکی تھی چناں چہ سلطان نے اس کا پُرتپاک خیرمقدم کیا اور وزارت کا منصب اس کے سپرد کیا۔ یہاں ابن خلدون کی شاعر اور ادیب لسان الدین الخطیب کے ساتھ دوستی اور زیادہ گہری ہوگئی۔
دوسرے ہی سال سلطان محمد نے ابن خلدون کو قشتالیہ کے حکم ران سفّاک پیدرو (Pedro the Tyrant) کے دربار میں سفیر بنا کر بھیجا۔ پیدرو ابن خلدون کی غیرمعمولی شخصیت اور قابلیت سے بہت متاثر ہوا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اس کے ہاں اشبیلیہ میں رہ جائے۔ اپنا مطلب حاصل کرنے کے لیے اس نے اسے یہ لالچ دیا کہ اگر وہ یہاں رہنے کا فیصلہ کر لے تو پیدرو اس کی تمام جائداد جس پر کبھی اس کے آبا و اجداد کا قبضہ تھا اسے واپس کر دے گا۔ لیکن ابن خلدون نے بلطائف الحِیل اس کی یہ پیش کش قبول کرنے سے معذرت کر لی۔
ابن خلدون کا یہ فیصلہ بعض لوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب زندگی میں اس کا مطمحِ نظر سرکار دربار میں اثرورسوخ اور اعلیٰ مناصب کا حصول تھا تو ایسی دعوت کو اس نے کیوں ٹھکرا دیا جس سے اسے پیدرو کے دربار میں اونچی پوزیشن ملنے کے علاوہ آبائی جائداد بھی اپنی مالی منفعتوں کے ساتھ، ہاتھ آنی تھی۔ یہاں اصل میں معاملہ ایک عیسائی حکم ران کے دیے ہوئے لالچ کو قبول کرنے کا تھا، جب کہ ان دنوں عیسائی اور مسلمان حکومتیں ہسپانیہ میں ایک دوسرے کی حریف تھیں۔ یہاں ابن خلدون کی دینی حمیت آڑے آئی اور اس نے ایک عیسائی بادشاہ کی دی ہوئی ترغیب قبول کرنا گوارا نہ کیا۔
غرناطہ میں دو سال رہنے کے بعد ابن خلدون نے محسوس کیا کہ اس کے حاسد پیدا ہوگئے ہیں اور انھوں نے اس کے خلاف شکایتوں اور سازشوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ چناں چہ سلطان اور اس کے وزیر لسان الدین کے کان بھرے جانے لگے ہیں، جس کی وجہ سے ان لوگوں کا اس کے ساتھ وہ پہلے کا سا رویہ نہیں رہا۔ یہ دیکھتے ہوئے ابن خلدون غرناطہ چھوڑنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں اس کے پرانے دوست امیر عبداللہ نے (جو ابو عنان کی موت کے بعد اب آزاد ہوچکا تھا) اسے بجایہ آنے کی دعوت دی۔ بجایہ پہنچنے پر ابن خلدون کا شان دار استقبال ہوا۔ حکومت کے اہل کار گھوڑوں پر اس کے خیرمقدم کے لیے آئے۔ عام لوگوں کا یہ حال تھا کہ اس کی دست بوسی کے لیے ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔ یہاں پہنچ کر ابن خلدون نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ اس کے بعد کا، سات سال کا، عرصہ (۱۳۶۵ء سے ۱۳۷۲ء) اس نے بجایہ، بسکرہ اور تلمسان آنے جانے میں گزارا۔
ابو عبداللہ اپنے حریف ابنِ عم ابوالعباس کے مقابلے میں اپنی حکومت کو سنبھال کر رکھنے میں دشواری محسوس کرنے لگا۔ اس کے بگڑتے ہوئے حالات کو دیکھتے ہوئے ابن خلدون نے پیش کش کی کہ وہ بجایہ کے کوہستانی علاقہ میں جاکر بربر قبائل سے ملے اور ان سے ٹیکس وصول کرنے کا خطرناک کام انجام دے۔ یہ رقم ابوعبداللہ کی حکومت کو اقتصادی طور پر قائم رکھنے کے لیے اشد ضروری تھی۔ بربر قبائل میں رہ کر ابن خلدون نے قبائلی زندگی اور ان کے اخلاق و عادات کا قریب سے مطالعہ کیا۔ ۱۳۶۶ء میں جب سلطان ابوعبداللہ کا انتقال ہوگیا تو ابن خلدون اس کی اولاد کے لیے کام کرنے پر اپنے آپ کو آمادہ نہ کر سکا۔ ان کی مایوس کن حالت کو دیکھتے ہوئے اس نے ابوعبداللہ کے حریف ابنِ عم ابوالعباس کے ہاں جانے کا فیصلہ کیا، تاکہ وہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ سنبھال سکے۔
اس سے اگلے آٹھ یا نو سال ابن خلدون کے طوفانی کیریئر کے لیے بہت نازک اور اہم تھے۔ انھی سالوں میں اس نے شمال مغربی افریقہ کی سیاسی زندگی میں ایک اہم اور خود مختار کردار ادا کیا۔ ابوالعباس کے ہاں کچھ عرصہ گزارنے پر اس نے محسوس کیا کہ اس حکم ران کے سامنے اس کی پوزیشن کچھ غیر یقینی سی ہے۔ چناں چہ وہ اس کو بھی چھوڑ کر چل دیا۔ اس کے بعد تلمسان کے حاکم ابوحمّو نے جو اس کے دوست حاکمِ بجایہ ابوعبداللہ کا داماد تھا اسے اپنے ہاں آنے کی دعوت دی اور اسے اپنا وزیراعظم بنانے کی پیش کش کی، لیکن ابن خلدون نے جو اب تک اونچے حکومتی عہدوں اور ان سے وابستہ مکروفریب اور چال بازیوں سے دل برداشتہ ہوچکا تھا۔ اس پیش کش کو قبول نہ کیا، اور اس کی ایک وجہ یہ بتائی کہ اس نے اپنے علمی کاموں سے اب تک کافی غفلت برت لی تھی، اور اب اس کی خواہش تھی کہ وہ امن و سکون کے ساتھ علمی اور تحقیقی کام کرے۔
تلمسان کو چھوڑنے کے بعد ابن خلدون اولادِ عارف کے ہاں آکے ٹھہرا جو زغبہ قبائل کا ایک خاندان تھا۔ یہاں اس نے اپنے اہل خانہ کو بھی بلا لیا۔ اولادِ عارف نے اس خاندان کو اپنی حفاظت میں قلعۂ سلامہ میں ٹھہرایا۔ یہاں ابن خلدون نے تین سال سے زیادہ عرصہ آرام اور خاموشی میں گزارا۔ یہیں اس نے اپنی تاریخ لکھنے کا آغاز کیا۵۔ وہ بتاتا ہے کہ ’’نومبر ۱۳۷۷ء میں مَیں نے تاریخ کا ’’مقدمہ‘‘ مکمل کیا، اس غیرمعمولی اسلوبِ اظہار سے جو میری اس مراجعت اور گوشہ نشینی نے میرے اندر اِلقا کیا، کہ الفاظ اور خیالات میرے ذہن میں ہجوم کرکے آتے جاتے تھے اور میں انھیں لکھتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ (صرف پانچ ماہ میں) یہ تخلیق مکمل ہوگئی۔‘‘ اپنی تاریخ کو مکمل کرنے میں ابن خلدون کو مزیدچار سال لگ گئے جن میں اس نے اپنے کام کی تکمیل کے لیے تیونس کے کتب خانوں سے بھرپور فائد اٹھایا۔
اب ہم یہاں شمال مغربی افریقہ میں گزارے ہوئے ابن خلدون کے باقی ماندہ ایام کے ذکر کو نظرانداز کرتے ہیں۔ اب تک اس کی زندگی کے جو حالات قارئین کے سامنے آئے ان سے انھوں نے یہ اندازہ لگایا ہوگا کہ اس کی زندگی عموماً کس نہج پر گزری، اور زندگی میں جو مقصد اس کے سامنے تھا اس میں وہ کب اور کہاں تک کام یاب ہوا، اور کیسے بعض موقعوں پر وہ ناخوش گوار حالات میں سے گزرا۔
ابن خلدون کے ساتھ اب ہم مصر چلتے ہیں، اور وہاں اس کی تقرریوں اور عہدوں سے متعلق تفصیلات کو چھوڑ کر ایک خاص واقعے کا ذرا تفصیل سے ذکر کریں گے، جس کا تعلق منگول فاتح تیمورلنگ کے ساتھ اس کے رابطے اور ملاقاتوں سے ہے۔
مصر جانے کے لیے ابن خلدون نے حاکم ابوالعبّاس سے حج پر جانے کی اجازت طلب کی (حج کا بہانہ اُن دنوں بہت چلتا تھا) جو دستور کے مطابق اسے دی گئی۔ اکتوبر ۱۳۸۲ء میں ابن خلدون اسکندریہ جانے کے لیے جہاز پر سوار ہوا لیکن اس کے اہلِ خانہ (غالباً) یرغمال کے طور پر تیونس میں رہ گئے۔ سمندر پر چالیس دن گزارنے کے بعد وہ دسمبر ۱۳۸۲ء میں اسکندریہ پہنچا اور بہ جائے مکّہ معظمہ جانے کے وہیں مصر میں اُتر گیا۔ جنوری ۱۳۸۳ء میں وہ قاہرہ چلا آیا۔ یہاں اس وقت مملوک بادشاہوں کی حکومت تھی جو خوش حال اور سیاسی طور پر نسبتاً مستحکم تھی۔ اس وقت المِلک الظاہر برقوق مصر کا حکم ران تھا۔ اُس تک ابن خلدون کی شہرت پہنچ چکی تھی، اس لیے اس نے اس کی بڑی قدر افزائی کی، اور اسے مختلف موقعوں پر پروفیسر، صدرِ کلّیہ اور قاضی کے عہدوں پر تعینات کیا۔ برقوق نے جب اسے مالکی فقہ کا قاضی القضاۃ مقرر کیا تو اس نے ملک میں رائج رشوت ستانی اور بدعنوانی کا قلع قمع کرنے کی ٹھانی اور اس سلسلے میں نالائق مفتیوں اور جاہل قانونی مشیروں کو نکال پھینکنا چاہا لیکن ان اقدامات کی وجہ سے وہ غیر ہردل عزیز ہوگیا۔ اس کی مخالفت بڑھنے لگی۔ نتیجہ یہ کہ وہ ایک سال سے بھی کم عرصہ قاضی کے عہدے پر رہ سکا۔ وہ مخالفوں کی ان ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کرنا چاہتا تھا، لیکن اسی زمانے میں اس کے ساتھ وہ سانحہ پیش آگیا جس میں تیونس سے آنے والے اس کے بیوی بچے مع اپنے اثاث البیت کے اسکندریہ کے قریب جہاز کے ساتھ ہی ڈوب گئے۔ یہ اکتوبر نومبر ۱۳۸۴ء کا واقعہ ہے۔
کچھ عرصے بعد برقوق نے انتقال کیا اور اس کی جگہ اس کا جواں سال بیٹا فرج تخت نشین ہوا۔ اسی زمانے میں تاتاری لشکر منگول امیر تیمور کی قیادت میں مصر جانے کے لیے دمشق کی فصیلوں پر دستک دینے لگا۔ مصری فوج کوشاہ فرج کی سربراہی میں دمشق جانا ہوا، تاکہ اسے تیموری حملے سے محفوظ رکھے۔ ابن خلدون اگرچہ اب شاہ کی ملازمت میں نہیں تھا، تاہم اسے بھی مجبور کرکے ساتھ لے جایا گیا۔ دسمبر۱۴۰۰ء میں یہ لوگ محاصرے میں آئے ہوئے شہر دمشق میں پہنچ گئے۔ لیکن تھوڑے ہی دنوں میں فرج اور اس کے مشیروں کو اطلاع ملی کہ ان کے پیچھے مصر میں بغاوت کا منصوبہ باندھا جا رہا ہے۔ یہ سُنتے ہی یہ لوگ تو فی الفور واپس چلے گئے۔ اب دمشق کے محصور شہر میں لوگوں کے علاوہ ایک طرف فوج تھی اور دوسری طرف قاضی اور فقہا تھے جن میں ابن خلدون بھی شامل تھا۔ فقہا اور علما چاہتے تھے کہ فاتح تیمور کے ساتھ بات کرکے اس سے شہر کے لیے امان طلب کریں۔ لیکن فوجی عہدے دار اس بات پر بہ ضد تھے کہ ’’ہمیں آنے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے، اور ہتھیار نہیں ڈالنے چاہئیں‘‘۔ تاہم علما اور قاضی صاحبان فوج کو راضی کرکے کسی طرح امیر تیمور سے مل آئے۔ تیمور نے کشادہ دلی سے ان کا استقبال کیا، ان کے لیے امان نامے لکھے اور ان کے ساتھ یہ طے ہوا کہ دوسرے دن شہر کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور تیمور کی طرف سے ایک امیر شہر میں داخل ہوکر دارالامارت میں قیام کرے گا اور اس کے باشندوں پر حکومت کرے گا۔ تیمور نے ان علما اور فقہا سے ابن خلدون کے متعلق پوچھا اور یہ جان کر وہ شہر میں موجود ہے اسے اپنی طرف بھیجنے کے لیے کہا۔ اب مسئلہ وہی تھا کہ قلعے کا دروازے کھلے بغیر ابن خلدون باہر کیسے جا سکتا تھا۔ چناں چہ اسے بھی علما اور مشائخ کی طرح رسیوں کے ذریعے قلعے کی فصیل سے نیچے اتارا گیا، اور وہاں سے وہ امیر تیمور سے ملنے کے لیے اس کے کیمپ میں جا پہنچا۔ امیر تیمور سے پہلی ملاقات کا احوال ہم ابن خلدون کی اپنی زبان سے سنتے ہیں ۔ کہتا ہے:
’’جب میں اس سے ملا تھا اور اس کے پاس پہنچنے کے لیے فصیلِ قلعہ سے لٹکایا گیا تھا... اس وقت میرے ایک دوست نے جو اپنی سابقہ واقفیت کی بنا پر اُن لوگوں کے رسم و رواج کو خوب جانتا تھا مجھے مشورہ دیا کہ میں کوئی تحفہ اس کی خدمت میں لے جاؤں، خواہ وہ کتنا ہی کم قیمت کیوں نہ ہو۔ اس لیے کہ ان کے فرماں رواؤں سے ملاقات کرنے کی یہ ایک مقررّہ رسم ہے۔ لہٰذا میں نے کتب فروشوں کے بازار سے قرآن مجید کا ایک نہایت خوب صورت نسخہ، ایک نفیس جائے نماز، ایک نسخہ البوصیری کے مشہور قصیدہ بردہ کا جو آں حضرتؐ کی مدح میں ہے، اور مصر کی اعلیٰ درجے کی مٹھائیوں کے چار ڈبے خریدے۔ میں ان تحائف کو لے کر اس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ اس وقت قصرالابلق کی دربارگاہ میں بیٹھا ہوا تھا۔
جب اس نے مجھے آتے دیکھا تو کھڑا ہوگیا، اور مجھے اپنے دائیں طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا، جہاں میں ایک نشست پر بیٹھ گیا... تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد میں اس کے سامنے پہنچ گیا اور ان تحائف کی جانب اشارہ کیا جو میرے ملازموں کے ہاتھوں میں تھے۔ میں نے انھیں نیچے رکھوایا اور وہ میری طرف متوجہ ہوا۔ پھر میں نے مصحف کو کھول کے سامنے کیا۔ جب اس نے دیکھا تو بہ عجلت تمام اٹھایا اور اسے اپنے سَرپر رکھ لیا۔ پھر میں نے قصیدہ بردہ اس کی خدمت میں پیش کیا۔ اس نے اس کے بارے میں اور اس کے مصنف کے بارے میں مجھ سے سوالات کیے۔ اور مجھے جو کچھ معلوم تھا میں نے بیان کر دیا۔ پھرمیں نے اس کی خدمت میں جائے نماز پیش کی جسے اس نے لیا اور چوما۔ پھر میں نے اس کے سامنے مٹھائیوں کے ڈبے رکھے اور اس نے رسم کے مطابق ازراہِ اخلاق ایک ڈبے میں سے ذرا سی مٹھائی لے کر کھائی اور ڈبے کی باقی ماندہ مٹھائی حاضرین دربار میں تقسیم کر دی۔ اس نے یہ سب تحائف قبول کر لیے اور ان پر اپنی پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ اس کے بعد اس نے ایک خاص فقیہ اور متبحرعالم عبدالجبار کو طلب کیا، تاکہ وہ ہم دونوں کے درمیان ترجمانی کے فرائض ادا کرے۔‘‘
اس ملاقات میں ابن خلدون کی ایک درخواست پر تیمور نے اس سے کہا کہ شہر سے نقل مکانی کر کے لشکر گاہ میں آ جائے اور اس کے پاس قیام کرے، وہ ان شاء اللہ اس کی بڑی سے بڑی خواہش پوری کر دے گا۔ ابن خلدون کا بیان ہے کہ اس پر میں نے اس کا شکریہ ادا کیا، اسے دُعا دی اور کہا ’’میری ایک اور درخواست بھی ہے۔‘‘ اس نے پوچھا ’’وہ کیا ہے‘‘ میں نے جواب دیا! یہ معلمینِ قرآن، یہ معتمدین، یہ دفتری عہدے دار اور عُمال جنھیں سلطانِ مصر اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے، ان کے لیے امان نامہ چاہتا ہوں، تاکہ وہ اسے ضرورت پڑنے پر دکھا کر اپنا بچاؤ کر سکیں۔ اس نے کاتب کو حکم دیا ’’ان کے لیے اس قسم کا امان نامہ تحریر کردو۔‘‘
ابن خلدون ۱۰ جنوری ۱۴۰۱ء کو تیمور سے پہلی بار ملا تھا۔ اس کے بعد اس فاتح کے ساتھ اس کا تعلق اسی سال فروری کے آخر تک رہا، اور اس دوران میں ان کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ ابن خلدون نے تیمور کے ساتھ جو ربط رکھا تو اس سے اس کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ دنیا کے فاتح اور تاریخ کے بڑے صورت گر کس طرح کی شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ دوسری طرف تیمور جو دنیا کو فتح کرنے نکلا تھا جانتا تھا کہ ابن خلدون جیسے وسیع النظر اور تجربہ رکھنے والے شخص کی اس کے دربار میں موجودگی اس کے لیے کتنی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ چناں چہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے ابن خلدون سے شمال مغربی افریقہ کے ملکوں کے جغرافیائی اور سیاسی حالات کے بارے میں کرید کرید کر سوالات کیے اور اس کے جواب سننے کے بعد اس سے کہا کہ وہ اس کے لیے ان علاقوں کا مفصل بیان قلم بند کر دے۔ اس کی نیت دراصل یہ تھی کہ ان کا منگولی زبان میں ترجمہ کر کے اپنی اور اپنے فوجی مشیروں کی راہ نمائی کے کام میں لائے۔ ابن خلدون نے تیمور کے ہاں اپنے قیام کے زمانے میں ایک مفصل رسالہ اس موضوع پر لکھ کے دے دیا۔ لیکن جب وہ کچھ عرصہ بعدبہ حفاظت مصر پہنچ گیا تو اپنے ضمیر کی خلش دور کرنے کے لیے اس نے اتنا ہی طویل رسالہ شمال مغربی افریقہ کے حکم ران (غالباً فاس میں مرینی حاکم) کے نام لکھ کر بھیجا، یہ بتانے کے لیے کہ تاتاری کس قسم کے لوگ ہیں اور کس ارادے سے اپنے ملک سے نکلے ہوئے ہیں، اور ان کا امیر تیمور کس طرح کی شخصیت کا مالک ہے۔ مقصد یہ تھا کہ شمال مغربی افریقہ کی ریاستیں تاتاری پیش قدمی کے خطرے سے آگاہ رہیں۔
ابن خلدون ابھی تیمور کے ہاں قیام پذیر تھا جب اس فاتح نے پوری شدت کے ساتھ قلعے کا محاصرہ کیا۔ اس کے سامنے منجنیقیں اور آگ اور پتھر برسانے والی مشینیں اور شگاف ڈالنے والی توپیں نصب کر دیں۔ اہل قلعہ پر محاصرہ سخت تر ہوتا گیا اوراس کی دیواریں ہر طرف سے گرنے لگیں۔ اس پر ان لوگوں نے جو اس کی حفاظت پر مامور تھے امان طلب کی، جن میں بہت سے ایسے لوگ بھی تھے جو سلطان مصر کی ملازمت میں رہ چکے تھے اور ایسے بھی تھے جنھیں وہ اپنے پیچھے چھوڑ گیا تھا۔ تیمور نے ان کو امان دے دی اور وہ اس کے حضور میں لائے گئے۔ شہر کے باشندوں سے اس نے عقوبت دے دے کر بہت سا روپیہ حاصل کیا، اور ساتھ ہی وہ تمام املاک اور گھوڑے اور خیمے بھی اپنے قبضے میں لے لیے جنھیں سلطان مصر اپنے پیچھے چھوڑ گیا تھا۔ اس کے بعد اس نے اجازت دے دی کہ شہر کے باشندوں کے مکانات لوٹ لیے جائیں اور ان کا تمام سازوسامان اور مال و متاع چھین لیا جائے، اور گھروں میں دیواروں اور چھتوں کو آگ لگا دی جائے۔ یہ آگ جلتی رہی یہاں تک کہ وہ جامع مسجد تک پہنچ گئی۔ ابن خلدون نے یہ سب کچھ دیکھ کر اتنا کہا کہ یہ فعل بے حد بزدلانہ اور قابل نفرت ہے، لیکن انسانی امور خدا کی دستِ تصّرف میں ہیں، وہ اپنی مخلوق کے ساتھ جیسا چاہتا ہے سلوک کرتا ہے اور اپنی شہنشاہی میں جس طرح سے چاہتا ہے حکم کرتا ہے۔
تیمور کے ساتھ اپنی آخری ملاقات کا ذکر ابن خلدون ان الفاظ میں کرتا ہے:
’’جب تیمور کے سفر کا زمانہ قریب آیا اور اس نے دمشق چھوڑنے کا ارادہ کرلیا تو میں ایک دن اس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ باہمی سلام و دُعا کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوا اور کہا ’’کیا تمھارے پاس کوئی خچر ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’ہاں‘‘ اس نے کہا ’’کیا وہ اچھا ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’ہاں‘‘ اس نے کہا ’’کیا تم اسے فروخت کرو گے؟ میں تم سے اسے خریدنا چاہتا ہوں‘‘ میں نے جواب دیا ’’اﷲ آپ کو نصرت عطا فرمائے مجھ جیسا آدمی آپ جیسے آدمی کے ساتھ خرید و فروخت نہیں کر سکتا۔ البتہ میں اظہار عقیدت کے طور پر اسے آپ کی خدمت میں پیش کیے دیتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا ’’ میرا مطلب محض یہ تھا کہ میں تمھیں اس کا صلہ فیاضی سے دوں...‘‘
وہ خاموش ہوگیا اور ساتھ ہی میں بھی۔ دربار میں میری موجودگی کے دوران میں خچر اس کے پاس لایا گیا اور پھر میں نے اسے نہیں دیکھا۔‘‘
اس ملاقات کے بعد تیمور نے ابن خلدون کو اپنے اہل و عیال میں اور اپنے لوگوں میں واپس جانے کی اجازت دے دی۔
مارچ ۱۴۰۱ء میں ابن خلدون پانچ چھہ ماہ کی غیر حاضری کے بعد مصر واپس آیا۔ سوائے اُن تاریخوں کے جن میں وہ قاضی کے عہدے پر تعینات ہوا اور پھر سے علاحدہ کر دیا گیا ہم اس کی زندگی کے آخری پانچ سالوں کے متعلق بہت کم جانتے ہیں۔ وہ اپریل ۱۴۰۱ء میں تیسری بار قاضی مقرر ہوا اور مارچ ۱۴۰۲ء میں سبک دوش کر دیا گیا۔ پھر جولائی ۱۴۰۲ء میں وہ قاضی تعینات ہوا اور ستمبر ۱۴۰۳ء میں علاحدہ کر دیا گیا۔ اس کی اگلی تقرری ۱۱ فروری ۱۴۰۵ء کو ہوئی اور اس دفعہ اس کی مدت ملازمت مئی ۱۴۰۵ء کے آخر تک رہی۔ اس کی آخری تعیناتی مارچ ۱۴۰۶ء میں ہوئی اور اس کے کچھ ہی دن بعد بدھ ۱۷ مارچ ۱۴۰۶ء کو موت نے اچانک اسے اپنے عہدے سے سبک دوش کر دیا۔ وہ قاہرہ کے بابِ نصر کے باہر صوفی قبرستان میں دفن ہوا۔
مشرق اور مغرب میں ابن خلدون کی ساری شہرت اس کے ’’مقدمے‘‘ کی وجہ سے ہے۔ جن دنوں میں عربی زبان و ادب کا مطالعہ کر رہا تھا، میں نے مولانا مسعود عالم ندوی کے ایک مختصر سے رسالے ’’عربوں کی قومی تحریک‘‘ میں ان کی ایک تحریر دیکھی جس میں انھوں نے لبنان کے بُستانی خاندان کی (جو مذہباً عیسائی تھا) عربی زبان و ادب کی جلیل القدر خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’’سلیمان بستانی نے ہومر کی ایلیڈ کا عربی نظم میں کام یاب ترجمہ کیا جو ’’الیاذہ ہومیروس‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ سلیمان بستانی کا لکھا ہوا الیاذہ کا مقدمہ عربی زبان میں ابن خلدون کے مقدمے کے بعد دوسرا مقدمہ شمار کیا جا سکتا ہے۔‘‘ مولانا مسعود عالم کی یہ رائے پڑھ کر، جو ایک لحاظ سے میرے ہادی اور مرشد تھے، میں نے عربی میں’’ مُقدمہ ابن خلدون‘‘ کی تلاش شروع کردی، اور بالآخر اسے حاصل کرنے میں کام یاب ہوگیا۔
جہاں تک عربی ادب کا تعلق ہے ابن خلدون کا ’’مقدمہ‘‘ ادب نہیں ہے، اس لیے کہ اس کی زبان و بیان میں وہ صفائی وہ بلاغت اور وہ حُسنِ ادا نہیں ہے جو عربی کے قدیم و جدید ادبا کی تحریروں میں پایا جاتا ہے۔ مقدمے کی عبارت میں طولِ کلام بھی ہے، تکرار بھی ہے، اور بعض جگہوں میں الجھاؤ بھی ہے۔ یوں سمجھیے کہ یہ ایک فلسفی کی عبارت ہے جس کا مقصد اپنا مافی الضمیر پوری طرح بیان کر دینا ہے۔ اس سے اسے کوئی غرض نہیں کہ عبارت میں اختصار کا حسن اور ادبی چاشنی پیدا ہوئی یا نہیں۔ پوری تاریخ میں بہت کم فلسفی ایسے ہوئے ہیں جن کی تحریر سہل اور ادبی خوبیوں کی حامل ہو۔ پھر ابنِ خلدون کی اپنی لفظیات ہیں اور اپنی خاص اصطلاحات ہیں جن کا مفہوم اس کے زمانے میں تو آسانی سے سمجھا جا سکتا تھا، لیکن آج کل ان کا صحیح مفہوم جاننے کے لیے ’’مقدمے‘‘ کو بار بار اور سیاق و سباق کو سامنے رکھ کر بہ غور پڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہ مفہوم بغیر اس کاوش کے آج کل بڑے بڑوں کی سمجھ میں نہیں آتا اور وہ ابن خلدون کا مدّعا جاننے میں عجیب و غریب غلطیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اس کی ایک مثال لفظ ’’عصبیۃ‘‘ ہے جو وہ اپنے مقدمے اور اپنی تاریخ میں جگہ جگہ استعمال کرتا ہے۔ ابن خلدون نے یہ لفظ ’’گروہی شعور‘‘ کے معنوں میں استعمال کیا ہے، یعنی ایک گروہ یا ایک قبیلے کا وہ شعور جو انھیں ایک دوسرے کے ساتھ باندھ کر رکھتا ہے اور ان کی اجتماعی قوت کا باعث ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں لفظ عُصَبۃ گروہ کے معنوں میں آیا ہے۔ اخوان یوسف اپنے آپ کو عصبۃ (یعنی جتھا) کہتے تھے۔ چناں چہ لفظ ’’عصبیۃ‘‘ ابن خلدون کے ہاں مثبت معنوں میں استعمال ہوتا ہے، اُن منفی معنوں میں نہیں جو ہمارے ہاں اردو لفظ عصبیت کے لیے جاتے ہیں، یعنی تعصّب (Bias) اور بے جا طرف داری ! لیکن ہمارے ادیبِ شہیر اور عظیم دانش ور جنابِ جمیل الدین عالی بے چارے ابن خلدون پر برس پڑے ہیں۶ کہ اس نے اپنے ’’مقدمے‘‘ میں عصبیت کی اتنی تحسین کی ہے اور اس کی اہمیت جتائی ہے۔ فرماتے ہیں: ’’خاکم بدہن مجھے حیرت ہے کہ ابن خلدون جیسے زیرک عالم نے عصبیت کو اجاگر ہی اجاگر کیا، اس کے کم اور ختم کرنے کی قدرت اور امکانات پر کوئی ’’اصلاحی‘‘ کوئی تبلیغی فکر و تحریر آمیز نہیں کی۔‘‘ (Sic) کہتے ہیں ’’مجھے اپنے کالج کے زمانے سے اپنی انتہائی کم علمی کے باوجود ’’مقدمے‘‘ کے بنیادی موقفِ عصبیت سے اس وقت بھی اختلاف پیدا ہُوا اور اتنی عمر کے باوجود آج بھی ہے۔ ‘‘ بے چارے ابن خلدون کو کیا پتا تھا کہ اس کے چھہ سو سال بعد ایک ایسے مفکّر اور صاحبِ بصیرت آئیں گے جو اس کے موقفِ عصبیت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا کر اسے ملیامیٹ کر دیں گے اور اس امر پر حیرت کا اظہار کریں گے کہ اس جیسے ’’زیرک عالم نے عصبیت کو کم اور ختم کرنے کی قدرت اور امکانات پر کوئی’’اصلاحی‘‘ کوئی تبلیغی فکر و تحریر آمیز نہیں کی۔‘‘ (Sic) جنابِ عالی کا خیال ہے کہ ’’ابن خلدون کو چھہ سو برس سے زیادہ گزرے، آج کی دنیا میں زیادہ مؤثر نہ سہی عالمی برادری کے رجحانات تیزی سے اُبھر رہے ہیں۔ اغلباً اگلے دو ڈھائی سو برس میں ابن خلدون کا نظریۂ عصبیت محض ایک مردہ نظر یے کی صورت میں تاریخِ فکر کے ریکارڈ پر رہ جائے گا۔‘‘ چلیے قصہ ہی تمام ہُوا۔
لگتا ہے ’’ابن خلدون اور جدید تعلیمی نظریات‘‘ کی کتاب پر یہ ’’حرفے چند‘‘ انھوں نے اپنے اخباری کالم کی طرح آرام کرسی پر لیٹے ہوئے اِملا کردیا ہے، اور سُنی سُنائی باتوں اور غلط اردو ترجموں پر اعتماد کرتے ہوئے ’’عصبیۃ‘‘ کا وہ مطلب لیا ہے جو پڑھی لکھی اور باخبر دُنیا جانتی ہے کہ ابن خلدون کے ذہن میں نہیں تھا۔ مشہور مستشرق Franz Rosenthal ابن خلدون کے ’’مقدمے‘‘ کے سب سے بڑے اور سب سے معتبر مترجم ہیں۔ انھوں نے ابن خلدون کی اصطلاح ’’عصبیۃ‘‘ کا ترجمہ ہر جگہ Group Feeling کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ تعصّب اور Bias سے مختلف چیز ہے۔ اس لفظ کے مفہوم پر بحث کرتے ہوئے وہ آخر میں کہتے ہیں:
"At any rate, so far as our present knowledge goes it seems that his use of the term "asabiyah" in so positive a sense is his most original single intellectual contribution to the Muqaddimah"
(بہ ہر صورت جہاں تک ہمارے موجودہ علم کا تعلق ہے یہ لگتا ہے کہ اس کا ’’عصبیۃ‘‘ کی اصطلاح کا اتنے مثبت انداز میں استعمال کرنا اس کی اپنے ’’مقدمے‘‘ کے لیے سب سے اوریجنل اور واحد دانش ورانہ عطا ہے)
لوگوں کو روز کا کالم لکھتے اور کسی گہرے علمی مسئلے پر بات کرتے ہوئے کچھ فرق تو ملحوظ رکھنا چاہیے!
ابن خلدون کا مقدمہ عربی میں درمیانے ٹائپ کے چھہ سو صفحات کی ایک ضخیم کتاب ہے۔ فرانزروزنتھاں نے انگریزی میں اس کا جو ترجمہ کیا ہے وہ تین جلدوں میں آیا ہے اور ہر جلد چار سو صفحات کی ہے۔ اس لیے اس پورے مقدمہ کا ترجمہ اپنی جگہ ایک بڑا کام ہے، خصوصاً اس وجہ سے کہ ابن خلدون کی عربی عبارت کا ترجمہ اس کی خاص ڈکشن اور الفاظ کے انوکھے استعمال کی وجہ سے آسان نہیں ہے۔ راقم الحروف نے ایک زمانے میں تین ہزار یا اس سے بھی زیادہ صفحات میں اردو سے عربی اور عربی اور انگریزی سے اردو میں ترجمے کا کام کیا۔ لیکن جب ایک مقصد کے لیے اسے ابن خلدون کے مقدمے کا اردو میں ترجمہ کرنا پڑا تو اس کے پسینے چھوٹ گئے۔ اردو میں اب تک مقدمے کے جو ترجمے ہوئے ہیں وہ پابندِ اصل نہیں ہیں۔ مترجمین عموماً اصل کو سامنے رکھ کر اپنی زبان میں اس کا مفہوم ادا کردیتے ہیں۔ ایسی کتابوں میں ابن خلدون کی خاص اصطلاح ’’عصبیۃ‘‘ کا ترجمہ جب عصبیت کیا گیا تو جمیل الدین عالی جیسے اساطینِ ادب بھی گم راہ ہوگئے اور بے وجہ بے چارے ابن خلدون کو آڑے ہاتھوں لینے لگے۔
اب اس مضمون کے آخر میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مقدمے کے ہزاروں عنوانات میں سے کچھ عنوانات نمونے کے طورپر پیش کیے جائیں، یہ بتانے کے لیے کہ ابن خلدون نے کس طرح کے امور پر اپنی فکر اور رائے کا اظہار کیا ہے، اور اس سلسلے میں کسی ایک موضوع کے کچھ حصے کا پابندِ اصل (Faithful) ترجمہ دیا جائے، تاکہ صاحبِ مقدمہ کی فکر کا انداز اور اس کا طرزِ اظہار قارئین کے سامنے آ جائے۔ مقّدمے کے چند عنوانات اس طرح سے ہیں:
~ انسانی تہذیب و تمدن (العُمران البشری) کے بارے میں۔
~ انسان کا معاشرتی نظام (الاجتماع الانسانی) ضروری ہے۔
~ زمین کے معتدل اور غیرمعتدل منطقے۔ ہوا کا اثر انسانوں کی رنگت پر اور ان کے حالات کے دوسرے پہلوؤں پر۔
~ انسانی کردار پر آب و ہوا کا اثر۔
~ نبوّت کی حقیقت، نیز غیب جاننے کے مدّعیوں یعنی جوتشیوں، خوابوں کی تاویل کرنے والوں اور منّجموں کے حالات۔
~ بادیہ کے (یعنی دیہاتی، قبائلی) لوگ شہر کے لوگوں کی نسبت شجاعت سے قریب تر ہوتے ہیں۔
~ گروہی شعور (عصبیۃ )کا ہدف غلبے کا حصول ہوتا ہے۔
~ مغلوب قوم ہمیشہ غالب قوم کی تقلید کرنا چاہتی ہے، اس کی خاصیت میں، اس کے لباس میں، اس کے مذہب میں اور اس کے دوسرے احوال و عادات میں۔
~ اقتدار کی سیاست کے معاملے میں عرب لوگ سب قوموں سے پیچھے ہیں۔
~ اشخاص کی طرح ملک و سلطنت کی بھی طبعی عمریں ہوتی ہیں۔
~ ظلم (ناانصافی) تہذیب کے زوال کا باعث ہوتا ہے۔
~ سلطنتیں انتشار کا شکار کس طرح ہوتی ہیں۔
~ انسانی تہذیب کو اس کی تنظیم کے لیے سیاسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔
~ شہروں کی منصوبہ بندی کے لیے کچھ لوازمات ہوتے ہیں۔ ان لوازمات سے غفلت برتنے کے نتائج
~ مساجد اور دنیا کی مقدس عمارات۔
~ ایک متمکّن اور بے حرکت (Sedentary) تہذیب انسانی تمدن کی آخری منزل ہوتی ہے۔ یہ اس کے عرصۂ عمر کا گویا خاتمہ ہوتی ہے، اور اس کو فساد اور بگاڑ سے دوچار کرتی ہے۔
~ خوش بختی اور منفعت اکثر حالات میں ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو عاجزی اور چاپلوسی کے عادی ہوتے ہیں۔ اس طرح کا کردار خوشی کے حصول کا ایک سبب ہوتا ہے۔
~ ایسے لوگوں کی قسم جنھیں تجارت کا پیشہ اپنانا چاہیے، اور ایسے لوگوں کی قسم جنھیں اس سے دُور رہنا چاہیے۔
~ تاجروں کے کرداری اوصاف ان لوگوں کے مقابلے میں فروتر ہوتے ہیں جو اشراف کہلاتے ہیں۔ تاجروں کے اوصاف جواں مردی سے بہت دور ہوتے ہیں۔
~ تمام انسانوں میں عرب لوگ پیشوں اور دست کاریوں (الصنائع) سے سب سے کم آشنا رہے ہیں۔
~ انسان میں سوچنے کی صلاحیت۔
~ علوم کی وہاں کثرت ہوتی ہے جہاں انسانی تمدّن کی فراوانی ہو اور تہذیب کا مرتبہ اونچا ہو۔
~ علوم قرآنی کے باب میں: اس کی تفسیر اور مختلف قرأتیں۔
~ علوم حدیث کے باب میں۔
~ علم تصوّف کے باب میں۔
~ خوابوں کی تعبیر کا علم۔
~ علوم عقلیہ اور ان کی مختلف اصناف۔
~ علم ہیئت (Astronomy) ۔
~ فلسفے کا ردّ، اور فلسفے کا شغل اختیار کرنے والوں کا گم راہ ہونا۔
~ علوم و فنون میں تصانیف کی بہتات علم کے حصول میں رکاوٹ بنتی ہے۔
~ طالب علموں پر تشدد کرنا ان کے لیے مضر ثابت ہوتا ہے۔
~ ایک علم کے متلاشی کی تعلیم کا معیار بہت بلند ہو جاتا ہے اگر وہ علم کی تلاش میں سفر کرے، اور اپنے وقت کے مستند عالموں سے ملاقات کرے۔
~ اسلام میں زیادہ تر علما عجمی (ایرانی) ہوئے ہیں۔
~ کلام کی دو صورتیں، نظم اور نثر۔
~ عمدہ نظم کہنا اور عمدہ نثر لکھنا، یہ دونوں صفات شاذونادر ہی ایک انسان میں جمع ہوتی ہیں۔
~ اہل مراتب شعر کہنا اپنی شان سے کم تر سمجھتے ہیں۔
طوالت سے بچنے کے لیے ایک آسان موضوع چن لیتے ہیں اور اس کے بھی ایک ابتدائی حصے کا بالکل لفظی اور مطابقِ اصل ترجمہ یہاں قارئین کے لیے پیش کرتے ہیں۔ موضوع ہے ’’مساجد اور دنیا کی عظیم عمارات‘‘ اور اس کے ابتدائی کچھ حصے کا ترجمہ یوں ہے:
’’جان لو کہ اﷲ سبحانہ تعالیٰ نے اس زمین کے کچھ ٹکڑوں کو فضیلت بخشی اور انھیں خصوصیت کے ساتھ اپنا شرف عطا کیا۔ انھیں اپنی عبادت کی ایسی جگہیں قرار دیا جہاں عبادت کرنے سے دُہرا ثواب حاصل ہوتا ہے، اور جہاں اجر میں بڑھوتری ہوتی ہے۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور نبیوں کی زبانی ہم تک پہنچایا۔ یہ اس کا اپنے بندوں پر کرم تھا اور ان کے لیے سعادت کی راہوں کو آسان کرنا تھا۔
صحیحین (صحیح بخاری اور صحیح مسلم) کے مطابق تین مسجدیں اس زمین کے سب سے افضل ٹکڑے ہیں۔ یہ ہیں مکّہ، مدینہ اور بیت المقدس! بیت الحرام جو مکّہ میں ہے وہ ابراہیم علیہ السلام کا بنایا ہوا گھر ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ یہ گھر تعمیر کریں اور لوگوں کو حج کرنے کے لیے اس کی طرف بلائیں۔ چناں چہ انھوں نے اور ان کے فرزند اسماعیل ؑ نے قرآن کی نص کے مطابق، ا س کو تعمیر کیا اور جس بات کا اﷲ نے انھیں حکم دیا تھا اس پر عمل کیا۔ اسماعیل علیہ السلام اپنی بیوی ہاجرہ کے ساتھ اور جرہُم (قبیلے) سے جو بھی ان کے ساتھ آیا تھا، اس میں رہے، یہاں تک کہ اﷲ نے انھیں بلا لیا اور وہ خانہ کعبہ کے شمالی گوشے (حجر) میں دفن ہوئے۔
اور بیت المَقدِس کو داؤد اور سلیمان علیہما السلام نے تعمیر کیا۔ ان کو اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس کی مسجد بنائیں اور اس میں اس کے لیے یادگار تعمیریں کھڑی کریں۔ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے بہت سے انبیا اس میں دفن ہیں۔
اور مدینہ ہمارے نبی محمدصلی اﷲ علیہ وسلم کی ہجرت کا شہر ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے انھیں اس کی طرف جانے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا کہ اس میں دین اسلام کو قائم کیا جائے۔ چناں چہ انھوں نے اس میں اپنی مسجدِ مقدّس تعمیر کی، اور ان کا معّزز مدفن بھی اسی شہر کی زمین میں ہے۔
چناں چہ یہ تینوں مسجدیں مسلمانوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک، ان کے دل کا قرار اور ان کے دین کی عظمت کے نشان ہیں۔ احادیث اور تاریخ کی کتابوں میں ان کی فضیلت، ان کے قریب رہنے اور ان میں نماز پڑھنے کی صورت میں کئی گنا ثواب ملنے کے بارے میں روایات ملتی ہیں۔ ہمیں اب ان تینوں مساجد کی اوّلیت کے بارے میں کچھ کہنا چاہیے کہ ان کے حالات کن تدریجی مراحل سے گزرے، یہاں تک کہ دنیا میں ان کا ظہور مکمل ہوگیا!
آگے ابن خلدون نے ان میں سے ہر مسجد کی مفصل تاریخ بیان کی ہے اور ان سب حوادث و واقعات کا ذکر کیا ہے جو تاریخ میں اس کو پیش آئے۔ یہ موضوع جو بہ ظاہر چھوٹا لگتا ہے کتاب کے چھہ صفحات میں آیا ہے چناں چہ اس کے باقی حصے کے ترجمے کی گنجائش اس مضمون میں نہیں نکل سکی۔
ابن خلدون کا بہ طور مؤرخ کے اتنا اونچا مقام نہیں ہے جتنا اس کے فلسفۂ تاریخ کا موجد ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس لیے کہ اپنی تاریخ میں اس نے اپنے سے پہلے اور اپنے معاصر مؤرخیں (طبری ، مسعودی، ابن مسکویہ، ابن الاثیر اور ابوالفداوغیرہ) کا وہی روایتی طریقہ اختیار کیا ہے جو پہلے سے چلا آتا تھا، اور مقدمے میں اس نے تاریخ لکھنے کا جو فلسفہ بیان کیا اور صحیح تاریخ لکھنے کے لیے جو شرائط وضع کیں ان پر اس نے اپنی تاریخ لکھتے ہوئے خود عمل نہیں کیا۔ چناں چہ عام خیال یہی ہے کہ جہاں تک مشرق کے عرب ممالک کا تعلق ہے ،ان کی تاریخ بیان کرتے ہوئے وہ دوسرے مؤرخین سے ممتاز نظر نہیں آتا۔ البتہ اپنے زمانے کے شمال مغربی افریقہ کی تاریخ چوں کہ اس نے ٹھیک ٹھیک (accurately) اور اپنے ذاتی مشاہدے کی بنا پر لکھی ہے، اس لیے اس کی تاریخ کا یہ حصہ بہت مستند اور قیمتی معلومات سے پُر ہے۔ اس نے ان علاقوں کی تاریخ اس طرح بیان کی ہے کہ گویا وہ اس میں ہونے والے سب واقعات کا خود ایک کردار تھا (اور یہ صحیح ہے کہ ان میں سے بہت سے واقعات میں وہ خود شامل تھا)۔
تاریخ نویسی کے دو طریقے رائج رہے ہیں۔ ایک یہ کہ سنین کا عنوان قائم کرکے ان میں ہونے والے واقعات کا بیان کیا جائے، چاہے ان کا تعلق کتنی ہی حکومتوں اور خلافتوں سے ہو۔ یہ طریقہ طبری، ابن الاثیر اور ابوالفدانے اختیار کیا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ خلافتوں اور حکومتوں کے عنوان بنا کر مختلف سنین میں ان کو پیش آنے والے واقعات کا ذکر کیا جائے۔ یہ طریقہ ماضی میں مسعودی اور بعد میں ابن طقطقیٰ کا رہا ہے۔ یہی طریقہ ابنِ خلدون نے بھی اپنی تاریخ میں اختیار کیا ہے۔ یعنی ایک حکومت کو لے کر اس کو تاریخ میں پیش آنے والے واقعات کا احوال بیان کیا جائے اور اس کے بعد کسی اور شاہی خاندان کو عنوان بنا کر اس کے عہد بہ عہد حالات کا تذکرہ کیا جائے۔
ابن خلدون کے بارے میں ہمارے ملک کے ایک بڑے دانش ور کے خیالات تو آپ اوپر دیکھ آئے۔ اس کے بارے میں علمی و فکری دنیا کی بہت اہم شخصیات نے کیا کہا ہے۔ یہ بھی ذرا دیکھتے چلیے:
(۱) شمیدٹ اپنی کتاب ’’ابن خلدون‘‘ میں لکھتا ہے کہ دؤزی نے ایک جگہ ابن خلدون کے تاریخی کرداروں کی اس بلندی (یعنی کشادہ دلی اور بے تعصبی )کی طرف صریح اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ قرون وسطیٰ کے عیسائی مؤرخین اس قابل نہیں ہیں کہ اس خصوص میں ان کو ابن خلدون کے مقابلے میں پیش کیا جا سکے۔
(۲) فلسفۂ تاریخ میں ابن خلدون کا کیا مقام ہے؟ عصر حاضر کے عالمی مؤرخ ٹائن بی کی زبانی سنیے، کہتا ہے:
’’جہاں تک اس علم کا تعلق ہے عربی لٹریچر ایک ہی آدمی کے نام سے روشن ہے اور وہ ہے ابن خلدون! عیسائی دنیا اس کی نظیر نہیں پیش کر سکتی۔ حتیٰ کہ افلاطون، ارسطو اور آگسٹین بھی اس خصوص میں اس کے ہم پایہ نہ تھے‘‘۔۷
(۳) علامہ اقبال ابن خلدون کے مداحوں میں شامل تھے اس لیے کہ اس نے فلسفۂ تاریخ کی بنیاد زندگی کے حرکی نظریے پر رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دراصل زندگی اور تاریخ کا یہ تصور مسلمانوں کی فکر کے بنیادی منبع قرآن مجید میں موجود ہے۔ چناں چہ قرآنی آیات کا حوالہ دینے کے بعد وہ لکھتے ہیں۔۸
’’گویا بڑے حکیمانہ اندازمیں یہ سمجھایاگیا ہے کہ اُممِ انسانی کا مطالعہ بھی ہمیں بہ غور اجسامِ نامیہ علمی نہج پر کرنا چاہیے۔ لہٰذا اس سے بڑی غلط فہمی اور کیا ہو سکتی ہے کہ قرآن پاک میں کوئی ایسا خیال موجود نہیں جو فلسفۂ تاریخ کا سرچشمہ بن سکے۔ حالاں کہ بہ نگاہِ حقیقت اگر دیکھا جائے تو ابن خلدون کا ’’مقدمہ‘‘ سر تا سر اُس روح سے معمور ہے جو قرآن مجید کی بہ دولت اس میں پیدا ہوئی۔ وہ اقوام و امم کی عادات و خصائل پر حکم لگاتا ہے تو اس میں بھی زیادہ تر قرآن پاک ہی سے استفاد ہ کرتا ہے‘‘۔
اس مضمون کی شانِ نزول یہ ہے کہ کچھ عرصے سے میں ابن خلدون پر ایک کتاب لکھ رہا ہوں جس کی فرمائش لاہور کے ایک ناشر نے کی ہے۔ کتاب تو نہ جانے کب مکمل ہو گی، کب چھپے گی اور کب بازار میں آئے گی، میں نے سوچا کہ کیوں نہ اپنے ہاں کے ایک مبتدی اور اوسط قاری کے لیے ابن خلدون کے بارے میں کچھ اہم اور بنیادی معلومات مہیا کردوں، جن سے ہمارے ہاں اکثر لوگ بے خبر ہیں۔
میرا یہ مضمون اگر بہ زبانِ انگریزی امریکا میں شائع ہوتا تو امریکی لوگ اس کے بارے میں کہتے:
It is an idiot`s guide to Ibn-e-Khaldun
آج کل اوسط قاری اور مبتدی کے لیے امریکا میں Idiot کا لفظ بہت استعمال ہونے لگا ہے۹ ۔ وہ لوگ بہت لائق فائق اور مہذب جوٹھہرے!

حواشی
۱۔ اس لوک داستان کا پورا نام ہے الف لیلہ و لیلہ (ایک ہزار اور ایک راتیں)۔
۲۔ تفصیل کے لیے دیکھیے راقم الحروف کا مقالہ ’’الف لیلہ عربی ادب میں‘‘ جو اس کی کتاب ’’مضامین‘‘ (عربی ادب میں مطالعے) میں شامل ہے۔
۳۔ ’’طبقات ابن سعد‘‘ جو مقالات شبلی جلد چہارم میں پہلا مقالہ ہے۔
۴۔ پانچ بیٹیوں کے علاوہ ابن خلدون کے دو بیٹے بھی تھے۔ محمد اور علی، جو مصر بہ خیریت پہنچ گئے تھے۔
۵۔ ابن خلدون کی ’’تاریخ‘‘ کا پورا نام یوں ہے:
’’العِبرَ و دیوان المبتدأ والخیر فی ایام العرب والعجم والبربر و من عَامَرھم من ذوی السلطان الاکبر‘‘
(عبرتوں کا ذخیرہ، اور عرب، عجم اور بربر اور ان کے معاصر صاحبِ اقتدار ہستیوں سے متعلق اگلے اور پچھلے حالات کا مجموعہ)
۶۔ دیکھیے محترمہ فہمیدہ عتیق (کراچی) کے تحقیقی مقالے ’’ابن خلدون اور جدید تعلیمی نظریات‘‘کے شروع میں ان کا لکھا ہوا ’’حرفے چند‘‘۔
۷۔ ٹائن بی: ’’سٹڈی آف ہسٹری‘‘ جلد ۳، صفحہ۳۲۲۔
۸۔ علامہ اقبال کا انگریزی خطبۂ پنجم ’’اسلامی ثقافت کی روح‘‘ از تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ اردو ترجمہ سید نذیر نیازی۔
۹۔ مثلاً:
An idiot`s guide to Socialism
An idiot`s guide to Political Philosophy
An idiot`s guide to French Revolution

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *