اتوار، 26 جولائی، 2015

راغب اختر سے دس سوالات


راغب اختر شاعر بھی ہیں، ادیب بھی۔ وہ ادب کے لیے بازگشت ڈوٹ کوم کے ذریعے سب سے پہلے ایک آڈیو ویب میگزین کے پروجیکٹ پر باقاعدہ کام کرنے والے شخص ہیں، کم از کم میرے علم کے مطابق۔شہرت سے دور رہنا پسند کرتے ہیں،اور بس خاموشی سے اپنا کام کیے جارہے ہیں، نظریاتی طور پر راغب اختر سے میرے ہزار اختلافات ہوسکتے ہیں مگر ادبی و علمی کاموں کے لحاظ سے ان کی خدمات کی بڑی قدر کرتا ہوں اور اس بات پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں کہ اردو کے سرکاری و غیر سرکاری ادارے ایسے کارآمد شخص سے کوئی کام لینے کے اہل نہیں رہ گئے ہیں، ورنہ انٹرنیٹ پر اردو زبان و ادب کو یونی کوڈ ٹیکسٹ میں اپلوڈ کرنے سے لے تراجم، بچوں کے ادب اور پاپولر لٹریچر کے لیے بھی جس نوعیت کے کام ہونے چاہیے، راغب کو ان سب کا علم بھی ہے، اور کام کرنے کا سلیقہ بھی۔اس انٹرویو میں میں نے ان سے انٹرنیٹ اور اردو کے حوالے سے چند باتیں کی ہیں، وہ نئی نسل کی ایک اہم آواز ہیں، اس لیے ان کی باتوں کو غور سے سننا اور ان سے اپنا اتفاق و اختلاف ظاہر کرنا ہماری ذمہ داری ہے، جس سے کچھ سمتیں ان پر روشن ہوں اور کچھ ہم پر۔امید ہے اس مختصر سی گفتگو میں آپ کو یہ کوشش صاف نظر آئے گی۔شکریہ

تصنیف حیدر:راغب بھائی! اردو انٹرنیٹ پر موجود دوسری زبانوں کے مقابلے میں آپ کی نظر میں کتنی مستحکم زبان ہے، کیا 'فروغ' کا کوئی زمینی تصور بھی ہے یا صرف یہ ہوائی باتیں ہیں؟

راغب اختر:زبان کا استحکام اسے کے قاری کے استحکام کے ساتھ مشروط ہے شاید یہی وجہ ہے کہ بر صغیر کے مقابلے مغربی ممالک میں تارکین وطن انٹرنیٹ پر زیادہ فعال ہیں تاہم کہیں کہیں تصنیف حیدر اور اعجاز عبید جیسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جو خود ہی ایک ادارے کی طرح کام کرتے ہیں۔ اگر اس جذبے کے ساتھ مزید لوگ میدان عمل میں آئیں تو مجھے اردو کی جڑیں مضبوط دکھائی دیتی ہیں۔ رہی بات اس کے حقیقی ہونے کی تو آفتاب و ماہتاب بھی ہماری گرفت میں نہیں آتے لیکن وہ حقیقت ہیں اور بدیہی حقیقت۔

تصنیف حیدر:انٹرنیٹ پر پڑھنے کے تعلق سے جس سے پوچھو وہ یہی کہتا ہے کہ صاحب جو بات کتاب کی ہے نیٹ کی نہیں، تو انٹرنیٹ کیا صرف شہ سرخیوں کے شہر کی حیثیت رکھتا ہے؟

راغب اختر:یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے اور آئندہ نسلوں میں یہ شکایت نام کو بھی نہیں ہوگی۔ اردو کے حوالے سے کچھ تکنیکی سہولتوں کی عدم موجودگی بھی لوگوں کو ایسا سوچنے پر مجبور کرتی ہے، مثلاً اردو کتابیں کنڈل پر صرف پی ڈی ایف فارمیٹ میں ہی پڑھی جا سکتی ہیں جو ایک دشوار مرحلہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو کی معیاری لغت کی عدم موجودگی بھی اسے مزید دشوار بناتی ہے۔ رہی بات شہہ سرخیوں کی تو میں نے اب تک روایتی اشاعتوں یعنی کتابوں کی ہی شہہ سرخیاں انٹرنیٹ یا اخبارات میں دیکھی ہیں۔ انٹرنیٹ پر اشاعت کی تشہیر بھی اسی کے ذریعہ کی جاتی ہے۔

تصنیف حیدر:کیا ابھی تک انٹرنیٹ پر کوئی ایسا اردو کا ادارہ کام کررہا ہے، جس کی خدمات سے آپ مکمل طور پر مطمئین ہوں؟ کیوں؟

راغب اختر:بات کسی فرد کے مطمئن یا غیر مطمئن ہونے کی نہیں ہے۔ بات زبان کی تاریخ اور اس کے تشخص کی ہے۔ اردو کے جتنے ادارے ہیں ان میں سے زیادہ تر حکومتی ادارے یا حکومت کی مراعات سے چلنے والے نیم سرکاری ادارے ہیں۔ ان میں جن افراد کا تقرر ہوتا ہے، ان کے لیے اردو سے محبت شرط نہیں ہوتی۔ حکومت کی خوشنودی حاصل کرنا ان کا اولین مقصد ہوتا ہے اور کئی بار محض اخبارات کی شہہ سرخیاں بنانا تاکہ ان سے پارلیمنٹ میں پوچھے گئے سوالات کی سطر پوشی کی جا سکے۔ رہی بات غیر سرکاری اداروں کی تو وہ بھی کسی نہ کسی ایجنڈے پر کاربند نظر آتے ہیں۔ مجھے ان سے بھی کوئی شکایت نہیں ہے کیونکہ یہ ہماری زبان ہے اور اس کی حفاظت ہمارے ذمے ہے۔ تکلیف ہوتی ہے جب مرثیے کے اشعار دیوناگری رسم الخط میں لکھ کر پڑھتے دیکھتا ہوں۔ یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا اور سازش کہنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے۔

تصنیف حیدر:پاپولر اور بچوں کے ادب کے لیے انٹرنیٹ پر کام کرنے والے ایک بڑے ادارے کی کیا اردو میں ضرورت ہے؟ کیا اس سے کچھ فرق پڑے گا؟

راغب اختر:بالکل ضرورت ہے بلکہ آپ جیسے فعال لوگوں سے گزارش ہے کہ اس نسل کو اس کے حال پر چھوڑ کر بچوں کو اردو سکھانے کے لیے کام کیا جائے۔ میری جو استطاعت ہے میں خود بھی کوشش کر رہا ہوں۔ بچوں کے لیے اب محض کتاب لکھ دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کی اینی میشن اور اس کی آڈیو ویژول پریزنٹیشن بھی ضروری ہے۔ لوگ اپنے بچوں کو اردو سکھانا چاہتے ہیں لیکن انٹرنیٹ پر خاطرخواہ مواد موجود نہیں ہے۔ آپ چاہیں تو میں اس کے حوالے سے اعداد و شمار بھی آپ کو گوگل اینالیٹکس کی شکل میں فراہم کر سکتا ہوں۔ لیکن یار کس کو فرصت ہے کہ اگلی نسل پر سرمایہ کاری کرے۔ سب کو فوری منافع کی فکر ہے۔

تصنیف حیدر:کیا انٹرنیٹ پر ایک اچھی ویب سائٹ، یونی کوڈ میں قائم کرکے ریونیو جنریٹ نہیں کیا جاسکتا؟ کیا یہ واقعی ایک خسارے کا ہی سودا ہے، یا کچھ لوگ ہمیشہ اس تصویر کا ایک ہی پہلو دکھانا چاہتے ہیں؟

راغب اختر:بھائی مارک زکر برگ نے فیس بک پر کتنے دنوں تک سرمایہ کاری کی۔ ابتدا میں سب کو حیرت ہوتی تھی کہ ان کا کیا فائدہ ہے۔ اب نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ ہم بے صبر لوگ ہیں اور ایک نمبر کے لالچی بھی اور یہی بات اردو کے لیے خطرناک ہے۔ پیسہ کمانے کے لیے پہلے کام کرنا پڑتا ہے اور انٹرنیٹ پر پیسہ کمانے میں ذہانت اور صبر دونوں درکار ہے جس سے میرےجیسے اردو والے محروم ہیں، اسی لیے ہم شکایتوں کے دفتر ساتھ لیے پھرتے ہیں۔

تصنیف حیدر:آپ کی ویب سائٹ بازگشت کے کیا مقاصد ہیں، وہ کس طرح کام کرتی ہے؟

راغب اختر:بازگشت چونکہ میری ذاتی کاوش ہے لہذا جو میرے ذاتی مقاصد اردو کے حوالے سے ہیں وہی بازگشت کے بھی ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد اردو بولنے والے معاشرے کے خلا کو پر کرنا ہے۔ اس حوالے سے ہم نظم اور نثر دونوں کو معیاری نہیں تو کم از کم معیاری کے قریب قریب تلفظ میں ریکارڈ کرتے ہیں اور اسے بازگشت پر پوسٹ کرتے ہیں۔ عام طور پر ہم لوگوں میں تلفظ ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے اور بجائے اس کے کہ ہم لوگوں کی غلط تلفظ پر سر زنش کریں ہمیں صحیح تلفظ اور الفاظ کی ادائیگی عام کرنی چاہیے۔

تصنیف حیدر:اردو میں آڈیو لٹریچر کی ضرورت پر زور دینا اس وقت کتنا مناسب یا نامناسب ہے؟

راغب اختر:کسی زبان کے فروغ کے مختلف شعبہ جات ہیں، اب جو جس شعبے پر کام کر لے۔ کسی بھی طور اس اس کی ضرورت اور میرے خیال میں اشد ضرورت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ آڈیو لٹریچر نہ صرف یہ کہ رسم الخط جاننے والے بلکہ رسم الخط سے نابلد لوگوں کو بھی اس کی شیرینی سے لطف اندوز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مواد نابینا طلبا کے لیے بھی مفید ہے۔

تصنیف حیدر:آپ امیج کی صورت میں اپلوڈ کیے جانے والے ٹیکسٹ کی مخالفت کن بنیادوں پر کرتے ہیں؟ کیا اس کے ذریعے زبان یا لٹریچر لوگوں تک نہیں پہنچتا؟

راغب اختر:میں اس کی مخالفت تو نہیں کرتا کیونکہ سب کا اپنا نقطہ نظر ہے۔ تاہم میں اسے مفید نہیں مانتا کیونکہ تصویر کی کوئی زبان نہیں ہوتی ہے۔ اور اس سے انٹرنیٹ پر کسی زبان کی نمائندگی بھی ثابت نہیں ہوتی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یونی کوڈ کی موجودگی میں یہ ناگزیر بھی نہیں ہے۔

تصنیف حیدر:کاپی رائٹ اور انٹرنیٹ کا مسئلہ آپ کے نزدیک کتنی اہمیت رکھتا ہے، کیا کاپی رائٹ حاصل کیے بغیر کتابوں/ مضامین یا تخلیقات کو شیئر کرنا ایک قسم کا اخلاقی جرم قرار دیا جانا چاہیے؟

راغب اختر:اردو ابھی جس صورت حال سے دو چار ہے اس میں صرف اس کے فروغ کی مسئلہ درپیش ہے۔ جب قاری ہی نہیں ہونگے تو کہاں کی کاپی رائٹ اور کیا احساس جرم۔ ادیبوں اور شاعروں کو ایسے پلیٹ فارم کا شکر گزار ہونا چاہیے جو انھیں قاری فراہم کر ارہے ہیں ورنہ ان کی کتابوں کا مقدر جغادری نقاد حضرات کو دیا جانے والا تحفہ اور وہاں سے دور افتادہ گاؤں میں چورن کا لفافہ بننا ہے۔

تصنیف حیدر:ایک آخری سوال یہ ہے کہ آپ اردو کے ایک بڑے ادارے سے خود بھی وابستہ ہیں، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان انٹرنیٹ پر اردو کا معیاری یا پاپولر لٹریچر عام کرنے میں کیوں اہم کردار ادا نہیں کرپارہی؟

راغب اختر:پابہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون
سرکاری اداروں کی سب سے بڑی کمزوری اس کی لال فیتہ شاہی ہے۔ دوسری چیز یہ کہ اسے اقلیت کا فلاحی ادارہ بنانے پر لوگوں کا زیادہ زور رہتا ہے۔ ڈائرکٹرز کے اندر کام کا جذبہ ہوتا ہے لیکن ان کے ماتحت ان سے تعاون نہیں کرتے۔ یا یہ کہہ لیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ ان کی فکر کو سمجھ سکیں۔ تنگ آکر ادارے کو بدلنے کا خواب دیکھنے والا ڈائرکٹر خو کو ہی تبدیل کر لیتا ہے۔

ہفتہ، 25 جولائی، 2015

سبط حسن اور راشد

نظریات کبھی مرتے نہیں۔بس وقت ان پر سوالوں کی ضربیں لگاتا رہتا ہے۔شاعری صرف لفظوں کے جوڑ توڑ کا نام نہیں بلکہ اس کے ذریعے شاعر اپنی فکر اور فلسفے کو لوگوں کے سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے ۔کہیں یہ فکر جمالیاتی ہوتی ہے ، کہیں حقیقت پسند۔راشد ان دونوں کیفیات سے بروقت واقف بھی تھے اور ان دونوں کی اہمیت تسلیم بھی کرتے تھے۔وہ ترقی پسندی اور جدیدیت کے درمیان قائم اس پل پر کھڑے تھے جہاں سے اردو شاعری کا کوہکن خیال کا ایک نیا راستہ، ایک نئی پگڈنڈی پیدا کرنے کی فکر میں تھا۔ ایک ایسی پگڈنڈی جو ترقی پسندی اور حقیت پسندی کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھلس رہے انسانوں کو امید کی کشادہ شاہراہ تک پہنچادے۔راشد کا یہ کوہکن اس کوشش میں کبھی ذہن کے سفاک سینوں پر تاریخ کی کدالیں مارتا تو کبھی دل کے نہاں خانوں میں ٹمٹماتی ہوئی شمع کو بجھنے سے بچانے کے لیے اپنے ہاتھ روک لیتا۔وقت گزرتاگیا اور سرمایہ داری سے لے کر صارفیت کی کالا بازاری تک راشد کی شاعری نے ہردورمیں اپنی اہمیت کا اور زیادہ احساس دلایا۔راشد کے بارے میں ان کے معاصرین جن میں ترقی پسند اور غیر ترقی پسند سبھی شامل تھے کیا سوچتے تھے، خود راشد کا ترقی پسندی کے بارے میں کیا خیال تھا یہ منتخب کردہ مضامین سردار جعفری کے رسالے گفتگو ، شمارہ نمبر 11، مطبوعہ 1976 میں شامل ہیں اور انھی سوالوں کے جواب کی صورت میں آپ کے سامنے موجود ہیں۔اب اسے وقت کا فیصلہ کہیے یا راشد کی دور اندیشی ، مگر کوئی تو بات ہے جو آج بھی اس شاعر کا کلام سنجیدہ ادبی حلقے کو اپنا گرویدہ کیے ہوئے ہے۔ہم اُن کی نظموں پر بحث کرنے اور ان کی گہرائی ناپنے پر آج بھی مجبور ہیں اور دنیا کے حالات پر راشد کا مصرع پیلے آسمان پر چیختی ہوئی کسی چیل کی طرح ہماری سماعتوں سے ٹکرارہاہے:
سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں



راشد اور ترقی پسندی
سبط حسن

جناب ن م راشد کا شمار لفظ و معنی دونوں اعتبار سے سے جدید اردو شاعری کے بانیوں میں ہوتا ہے۔اب تک ان کے تین مجموعے ماورا، ایران میں اجنبی اور لا=انسان شائع ہوچکے ہیں۔مدت گزری لاہور میں ہم ان کے پڑوسی تھے ۔پھر ایسا ہوا کہ او بہ صحرا رفت ومن ورکوچہ ہارسوا شدیم۔انہوں نے اس اثنا میں نیویارک، تہران اور خداجانے کس کس دیس میں ڈیرے ڈالے اور اب لندن میں مستقل سکونت اختیار کرلی ہے۔راشد صاحب بڑے عالم و فاضل بزرگ ہیں۔اردو ، فارسی، انگریزی اور دوسری کئی زبانوں کے کلاسیکی و جدید ادب پر ان کی گہری نظر ہے۔شاید اسی باعث ان کے تخیل کا افق بہت وسیع ہے اور ان کے کام میں تفکر کا عنصر بہت غالب ہے۔
پاکستانی ادب کے اجرا کے موقع پر ہم نے راشد صاحب سے نظموں کی درخواست کی تھی لیکن وہ خط ان کو نہیں ملا ۔کچھ عرصے کے بعد افکار کے ندیم نمبر میں ان کا ایک مکتوب شائع ہوا۔جس میں انہوں نے کمیونزم اور ترقی پسند ادب کے باہمی رشتے پر اظہار خیال فرمایا تھا ۔ہم نے ایک خط میں راشد صاحب کے ارشادات سے اختلافات کیا تھا۔راشد صاحب نے جواب میں جو خط لکھا ہے وہ شامل اشاعت ہے۔ انہوں نے زیر بحث مکتوب میں چند بنیادی سوال اٹھائے ہیں۔
1کمیونزم اور ترقی پسندی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
2اکثر یا بعض ترقی پسند مخلص نہیں ہیں اور نہ انہوں نے ترقی پسند نقطۂ نظر کو کسی اصول یا مسلک کے طور پر اختیار کیا ہے۔
3سیاسی اقتدار بزور قائم ہونے سے انسان کے اس اختیار کی نفی ہوتی ہے جو اسے انسان کی حیثیت سے ودیعت کیا گیا ہے۔
4کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ادیب سے کسی خاص قسم کا ادب تخلیق کرنے کا حکم یا ہدیت دے۔
کمیونزم سے راشد صاحب کی مراد غالباً کارل مارکس کے اشتراکی فلسفے سے ہے۔مگر اس فلسفے کی عمر تو سواسو سال سے زیادہ نہیں جب کہ انسان ترقی پسندی کے جذبے اور شعور کی پرورش ہزاروں برس سے کررہا ہے۔اس لیے راشد صاحب کا یہ فرمانا کہ کمیونزم اور ترقی پسندی کا چولی دامن کا ساتھ ہے تاریخی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ انسان نے جب آلات و اوزار بنائے، ان کا استعمال دریافت کیا۔کھیتی باڑی کی طرح ڈالی اور بستیاں آباد کیں۔جب زندگی کی اندھیری رات میں علم و آگہی کے چراغ جلائے تو یہ سب اس ی ترقی پسندی ہی کے کرشمے تھے۔ان کا کمیونزم سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے البتہ انسانی تاریخ کے ہر دور میں ایسی قوتیں بھی سرگرمِ عمل رہی ہیں۔فنا آفرین کا مسللک اور شب آفریدگی جن کا شعار تھا، چراغِ مصطفوی اور شرارِ بولہبی کی یہ ستیزہ کاری ازل سے تاامروز جاری ہے اور یہیں سے تعہد کا مسئلہ اُٹھتا ہے۔ یعنی موت کی شرانگیز اور زندگی کی خیر بخش قوتوں کی نبرد آزمائی میں ہم کس کا ساتھ دیں۔ترقی پسندی کا تو بس ہر دور میں ایک ہی معیار رہا ہے اور وہ یہ کہ فرد اپنے ماحول، اپنے معاشرے اور اپنی ذات کو زیادہ حسین بامعنی اور تخلیقی بنانے میں کیا کردار ادا کرتا ہے۔آیا وہ ان قوتوں کا ساتھ دیتا ہے۔جو انسان کی فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے کی سعی میں مصروف ہیں یا ان قوتوں کا جو زندگی کو پیچھے لے جانے کے درپے ہیں۔
ترقی کا جو قانون معاشرتی زندگی پر لاگو ہوتا ہے ادب اور دوسرے فنون لطیفہ بھی اسی قانون کے تابع ہوتے ہیں۔ترقی پسندی کا جو خون معاشرتی زندگی کی جان ہے۔ وہی ادب کی رگوں میں بھی دوڑتا رہتا ہے۔وہ کون ترقی پسند ادیب ہوگا جو یہ احمقانہ دعویٰ کرے کہ کارل مارکس سے پیشتر کا سارا ادب غیر ترقی پسند ہے۔کیونکہ ہر زمانے اور ہر زبان میں ترقی پسند اور غیر ترقی پسند دونوں قسم کا ادب تخلیق ہوتا رہا ہے۔کس میں اتنی جرأت ہے جو یہ کہے کہ ہومر، ورجل، دانتے، فردوسی، سعدی، شیکسپیر، بیدل، غالب اور نظیر اکبر آبادی وغیرہ غیر ترقی پسند تھے۔اس لیے کہ انہوں نے سوشلزم کی مدح سرائی نہیں کی، یا کمیونسٹ مینی فیسٹو کو نظم نہیں کیا۔البتہ جب ازرا پاؤنڈ یا گبرئیل ڈانزیو فاشزم کی ثنا وصف میں قصیدے لکھیں اور ہم سے یہ توقع کی جائے کہ ہم ان کے کلام کے معنی اور مفہوم پر نہ جائیں بلکہ ان کے پیراےۂ اظہار پر سرد دھنیں تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی یہ کہے کہ ناگا ساکی اور ہیرو شیما کی خون آشام تباہیوں پر دھیان نہ دو ، بلکہ ایٹم بم پھٹنے سے جو چھتری نما آتشیں غبار اٹھا تھا اس کے جسن کی داد دو۔کنوٹ ہامزوں ناروے کا نوبل انعام یافتہ ادیب تھا، اس کی تصنیف ’بھوک‘ لوگوں کو بہت پسند تھی لیکن جب ناروے پر ہٹلر کا قبضہ ہوا اور کنوٹ ہامزوں نازیوں سے مل گیا تو معلوم ہے اس کے ہم وطنوں نے اپنے محبوب فنکار سے نفرت کا اظہار کس طرح کیا انہوں نے ’’بھوک‘‘ کے نسخے الماریوں سے نکال نکال کر مصنف کو واپس بھجوادیے۔ممکن ہے کسی کو ناروے والوں کی اس حرکت پر ہنسی آئے مگر ہم کنوٹ ہامزوں کے سے ہزاروں انعام یافتہ ادیبوں کو ناروے والوں کے جذبۂ حریت اور غیرتِ انسانی پر نثار کرتے ہیں۔احتجاج کی وہ ایک ساعت ان کی ترقی پسندی کا اعلان نامہ تھی اور آزادی کا وہ ایک لمحہ ’’ بھوک‘‘کی حیاتِ جاوداں سے لاکھ درجے قیمتی تھا۔
جہاں تک ترقی پسندوں کے خلوص یا اصول پرستی کا سوال ہے سو اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اس لیے کہ راشد صاحب کی سوچ کا اندام خالص داخلی اور استقرائی ہے۔انہوں نے غالباً بعض کے طرز عمل سے یہ کلیہ وضع کیا ہے۔ہمارا خیال ہے کہ راشد صاحب نے ترقی پسند ادب کی تحریک کے ساتھ نا انصافی کی ہے، البتہ اس کا فیصلہ کہ راشد صاحب حق پر ہیں یا ہم تاریخ کرے گی۔
جہاں تک سیاسی اقتدار کے بزور قائم کرنے یا ہونے کا سوال ہے تو ہماری دلی آرزو بھی یہی ہے کہ دنیا کے تمام معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل افہام و تفہیم اور امن و آشتی سے طے پائیں۔نہ زور آزمائی کی جائے نہ خون خرابہ ہو۔مگر افسوس ہے کہ نہ ماضی نے ہماری ان خواہشوں کا احترام کیا اور نہ فی زمانہ(اقوامِ متحدہ کے منشور کے باوجود)ہماری خواہشوں پر عمل ہوتا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی اور معاشی اقتدار ہر دور اور ہر ملک میں قوت ہی کے بل پر حاصل کیا گیا ہے۔کبھی کوئی طبقہ ‘مخالف طبقہ کی دلیلوں یا عرض داشتوں سے متاثر ہوکر اپنی حاکمیت سے دست بردار نہیں ہوا ہے۔ خود سرمایہ داری نظام کو یورپ میں اپنا اقتدار قائم کرنے کے لیے جاگیر داروں سے جو مسلح جدو جہد کرنی پڑی اس سے ہر شخص واقف ہے۔ سترھویں صدی عیسوی میں برطانیہ میں سرمایہ داری نظام کے حامیوں اور جاگیرداری نظام کے محافظوں کے درمیان برسوں تک کشت و خون کا بازار گرم رہا۔بادشاہ چارلس اول کا سرقلم ہوا تب کہیں جاکر سرمایہ دار طبقہ بر سر اقتدار آیا۔یہی صورتِ حال امریکہ کی جنگِ آزادی اور انقلابِ فرانس کے دوران پیش آئی اس کے مقابلے میں روس کا سوشلسٹ انقلاب بے حد پر امن تھا ۔سینٹ پیٹرز برگ (لینن گراڈ )کے مزدوروں نے جب بالشویک پارٹی کی رہنمائی میں زار کے قصر شاہی پر دھاوا کیا تو خون کا ایک قطرہ بھی نہ بہا۔البتہ خونریزی اس وقت شروع ہوئی جب زار کے مختلف فوجی جنرلوں نے روس کی سوشلسٹ حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور برطانیہ فرانس اور امریکہ کی فوجی اور مالی مدد سے ملک گیر خانہ جنگی شروع کی نازیوں کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سامراجی طاقتوں نے پرامن انتقالِ اقتدار کی نقاب بھی اتار کر پھینک دی ۔چنانچہ اسپین میں جب 1935ء میں پہلی بار جمہوریت کے خلاف بغاوت کردی دوسری جنگ عظیم کے بعد سامراجی طاقتوں نے کئی جمہوری حکومتوں کا جوپرامن اور آئینی ذرائع سے برسرِ اقتدار آئی تھیں مسلح بغاوت کے ذریعے تخت الٹ دیا اور ہزاروں لاکھوں بے گناہ قتل ہوئے۔کانگومیں لوممبا کا قتل، گنی میں ڈاکٹر این کروما کی اور انڈونیشیا میں ڈاکٹر سوئیکار نو کی حکومت کی برطرفی چلی میں فوجی بغاوت اور ہزاروں انسانوں کا قتل، جنوبی چین میں 27سال کی طویل خانہ جنگی، ویتنام میں گیارہ سالہ خونریز جنگ اور سی آئی اے کی نوازش ہائے پیہم کے حالیہ انکشافات اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہیں کہ جاگیر دار طبقہ ہو یا سرمایہ دار طبقہ ہنسی خوشی اپنے اختیارات کسی دوسرے طبقے کو نا پہلے سونپنے کے لیے تیار تھا نہ آج ہے۔تشدد برائے تشدد سوشلسٹوں کا کبھی مسلک نہیں رہا ہے، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ مخالف قوتوں نے ہمیشہ ان پر تشدد کیا ہے۔البتہ اہنسا کے قائل نہیں ہیں اور جب ان پر حملہ ہوتا ہے تو پھر انہیں بھی زور کا جواب زور سے دینا پڑتا ہے۔
جہاں تک کسی ادیب کی شخصی آزادی کا تعلق ہے ہم راشد صاحب کے موقف کی صدق دل سے تائید کرتے ہیں بلکہ ہمارا خیال تویہ ہے کہ شخصی آزادی ہر بشر کا خواہ وہ ادیب ہو یا غیر ادیب، پیدائشی حق ہے۔اس لیے کہ انسان کی تخلیقی صلاحیتوں اور طبعی میلانات کو مکمل آزادی کی فضا ہی میں فروغ مل سکتا ہے۔بندگی میں اس کی زندگی واقعی جوئے کم آب ہوجاتی ہے۔راشد صاحب نے ’لا=انسان ‘ کے دیباچے میں کیا خوب کہا کہ ’ غلامی فرد کی قیمت اور قامت دونوں کو کم کردیتی ہے۔اس قسم کی زندگی میں عشق اور فکر دونوں کوتاہ اور کم مایہ ہوکر رہ جاتے ہیں لیکن ان کا یہ الزام کہ ترقی پسند حضرات شاعر کو موضوع کے انتخاب میں اپنے انفرادی حق سے دست بردار ہوجانے کی تلقین کرتے ہیں ، بے بنیاد ہے آخر ہندوستان پاکستان کے کسی ترقی پسند نے کس شاعر یا فنکار کو یہ ہدایت دی ہے کہ تم اس قسم کا ادب تخلیق کرو اور اس قسم کا ادب تخلیق مت کرو۔البتہ تخلیقی انسان عجیب و غریب ہے کہ وہ احکام کی بجا آوری کے دوران میں بھی عظیم فن پارے تخلیق کرلیتا ہے۔آخر فردوسی نے شاہنامہ محمود غزنوی کی فرمائش ہی پر تو لکھا تھا اور مائیکل انجیلو نے پاپائے روم کے حکم ہی سے تو کلیسائے روم کی دیواری تصویریں بنائی تھیں اور شیکسپیر نے بیشتر ڈرامے ناٹک گھر کے مالک کی ہدایت ہی پر پیٹ کی خاطر لکھے تھے۔ابھی کل کی بات ہے کہ اردو شعرا (جن میں غالب، میراور سودا بھی شامل ہیں) طرحی مصرعوں پر فرمائشی غزلیں لکھا کرتے تھے۔اسکے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم حکم ہدایت یا نصیحتوں کے حق میں ہیں بلکہ ہمارا موقف بھی یہی ہے کہ ہر فنکار کو اپنے’’رویا‘‘ ہی کی بات ماننی چاہیے۔ہر شخص جانتا ہے کہ کسی نے فیض احمد فیض ، احمد ندیم قاسمی، فارغ بخاری، عصمت چغتائی، کرشن چندریا دوسرے ترقی پسند ادیبوں سے کبھی یہ نہیں کہا کہ تم اس قسم کی کہانی یا نظم یا غزل لکھوبلکہ سب نے اپنے اپنے فلسفۂ زیست اور جمالیاتی ذوق کے مطابق اپنے ’رویا‘ کی پیروی کریں۔
ہمیں کامل یقین ہے کہ راشد صاحب شخصی آزادی کی پاسبانی بدستور کرتے رہیں گے اور وطن سے ہزاروں میل دور رہ کر بھی ابنائے وطن کے جبر و اختیار کی جدوجہد کو نظرانداز نہ کریں گے۔اس لیے کہ اظہارِ ذات اور تحصیلِ ذات پورے بنی نوع انسان کا مشترکہ حق بھی ہے اور مسئلہ بھی۔
***



ترقی پسندی
سبط حسن کے مضمون کے جواب میں
ن۔م۔راشد

برادر عزیز! آپ تندرست اور خوش و خرم رہیں۔ آپ کا خط ملا اور آپ نے یہ تو بہت ہی بڑا کرم کیا کہ مجھے اپنے ماہنامے کے پانچ شمارے بھجوائے۔ پہلا شمارا جو آپنے تہران کے پتے پر بھجوایا اب تک موصول نہیں ہوااور نہ آپ کا وہ خط ملا ہے جو آپ نے اس پتے پر لکھا تھا۔میں انگلستان میں آباد ہونے کی خاطر ہی یہاں منتقل ہوا ہوں۔جن گناہوں کا عادی ہوچکا ہوں ان کے لیے پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں۔آپ وہاں رہ رہے ہیں اور کسی اور نئی صبح کے انتظار میں دن کاٹ رہے ہیں تو میں آپ کی ہمت کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔سب سے اہم بات میرے خلاف یہ ہے کہ بیوی انگریز ہے اور رومی کے قول کے مطابق:
رشتہ اے درگردنم افگندہ دوست
می برو ہرجا کہ خاطر خواہِ اوست
اکثر جی چاہتا ہے کہ ان علائق کو توڑ کر واپس پاکستان آجاؤں لیکن بوجوہ ممکن نہیں۔وہاں آپ اور کئی احباب زبان کھلوائیں گے اور گلیوں میں میری نعش کو کو کھینچتے پھریں گے۔اسی سبب سے جس سبب سے غالب کو اندیشہ تھا میں یہاں انگلستان میں اپنی زبان بندی پر خوش ہوں کہ میں نے اس کا فیصلہ خود کیا ہے۔کسی اور کے فرمان سے نہیں۔اور خاموشم و گویایم حرفم بہ کتاب اندر کی کیفیت میں بڑی لذت ہے۔
میں نے صہبا کے نام اپنے خط میں ’کمیونسٹوں کے بارے میں‘ جس رائے کا اظہار کیا تھا وہ اول تو کمیونسٹوں کے بارے میں رائے کی حیثیت ہی نہیں رکھتی تھی بلکہ صرف کمیونزم اور ترقی پسندی کے باہمی رشتے کی طرف اشارہ مقصود تھا۔دوسرے کسی ذاتی تجربے کا اس میں کوئی شائبہ نہ تھا کہ مجھے کمیونسٹوں یا نام نہاد ترقی پسندوں کا کوئی تجربہ ہے ہی نہیں۔میں نے صرف یہ کہا تھا کہ ’کمیونزم اور ترقی پسندی کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور جو لوگ کمیونزم کو سمجھے بغیر اپنے آپ کو ترقی پسند کہتے ہیں وہ اسلام کے ان جاہل ملاؤں یا عیسائیت کے ان نادان پادریوں کے مانند ہیں جو محض توہمات کو مذہب سمجھتے ہیں۔‘شاید آپ کو یاد ہو کہ کئی برس پہلے ایک ترقی پسند ایدب نے جو کسی ترقی پسند رسالے کے مدیر بنادیے گئے تھے اپنے پہلے یا دوسرے ادارے میں کیا لکھا تھا؟’میں جب بورژوا کے پھٹے پرانے کپڑے دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔‘آج ان کا شماربڑے ترقی پسندوں میں ہوتا ہے۔لیکن ان کی ابتدا جہاں سے ہوئی اس منزل پر اور بہت سے ترقی پسند ابھی تک پڑے ہوئے ہیں۔اکثر یا بعض (جو آپ کو پسند ہو)ترقی پسند فیشن کے ھور پر اس مسلک کے پیروکار ہیں یا کسی کے کہنے سننے پر اور اپنی ذاتی فکر کے فقدان کے باعث اس راہ پر آنکھیں بند کیے چلے جارہے ہیں۔بعض ایسے ہیں جنہیں یہ اعتماد ہے کہ اگر ان کا قامت بڑھ گیا تو قیمت بھی بڑھ جائے گی اور بعض کی تجارتی اغراض اس سے سراسر وابستہ ہوگئی ہیں اور اب ان اغراض کو ترک کرکے خسارہ مول لینا نہیں چاہتے۔
جہاں تک میرا تعلق ہے مجھے کمیونزم سے کوئی کد نہیں اور اگر ہے تو صرف اسی حد تک جس حد تک ملائیت سے ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اشتراکی معاشرہ وجود میں آکر رہے گا کیونکہ انسانی مسائل بپھرتے چلے جارہے ہیں۔لیکن یہ نہیں جانتا(اور شاید خود فیض بھی نہیں جانتے)کہ اس معاشرے کے وجود میں آنے کے بعد انسان کا مستقبل کیا ہوگا۔تاہم اشتراکی معاشرے پر کوئی اعتراض نہیں، انسانیت اس سے پہلے بھی کئی تجربوں سے گزر چکی ہے۔یہ ایک تجربہ اور سہی۔مجھے صرف اشتراکی حکومتوں پر اعتراض ہے جو اس معاشرے کے وجود میں آنے سے پہلے بزور قائم ہوگئی ہیں۔ان کے بزور قائم ہونے پر اعتراض ہے کیونکہ یہ انسان کے اس اختیار کی نفی ہے جو اسے انسان کی حیثیت سے ودیعت کیا گیا ہے اس قسم کی حکومتوں کے برسرِ اقتدار آنے پر ظلم و تشدد کے دروازے کھل جاتے ہیں۔تاریخ اس کی شاہد ہے کہ جب بھی کوئی حکومت یک طرفہ تعصبات ساتھ لے کر آدمی پر تھوپ دی گئی۔ ظلم و تشدد کا جواز تلاش کرلیا گیا۔آج ہم جس ظلم اور جس تشدد کے شاکی ہیں۔ترقی پسندی کے نام سے ویسے ہی مظالم کئی اور ملکوں میں روارکھے کیے ہیں جہاں کوئی متعصب نظریات کی حامل حکومت آکر لوگوں کے سر پر بیٹھ گئی ہے۔
آپ جانتے ہیں میں کسی گروہ میں شامل نہیں ہوں، مجھے تنہا ترقی پسندوں ہی سے کوئی تعلق نہیں رہا بلکہ اسلامی ادب والوں یا ایسے ہی کسی اور لیبل والوں سے بھی ڈررہا ہوں حتیٰ کہ میں رائٹرگلڈ سے بھی دور رہا ہوں۔مجھے صرف یہ اعتراض ہے کہ مجھ سے کوئی کیوں کہے کہ میں ایسا ادب تخلیق کروں اور ویسا ادب تخلیق نہ کروں۔رومیؔ اور اقبالؔ سے کسی نے کہا تھا کہ وہ اسلامی شاعری کریں؟ نرودا سے کسی نے کہا تھا کہ وہ ’ترقی پسندانہ‘ شاعری کرے؟(نرودانے تو آج تک اپنے ذاتی حزن کے اظہار کوبھی اپنا حق جانا ہے)میرے جس تعہد کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے وہ صرف اس حد تک ہے کہ وہ میرا اپنا تعہد ہے اور میرے ساتھ ہے اور یہ کہ میں اس تعہد پر مجبور ہوں بلکہ ایک طرح قدرت کی طرف سے مقہور بھی! میں اپنے آپ کو کسی کی چشم و ابرو کے اشارے کا منتظر سمجھتا ہوں۔نہ محتاج مجھے اس سے بھی غرض نہیں کہ اس تعہد کا اظہار فنی پیرائے میں ہوا یا نہیں مجھے صرف اس کا اظہار مقصود ہے کہ میں اس پر مجبور ہوں کہ یہی میرا دردِ دل ہے وہ حسی تجربات کی روح میں جذب ہو یا نہ ہو مجھے اس سے کوئی واسطہ نہیں ۔کیونکہ اگر یہ ان تجربات میں جذب ہو تو زیادہ سے زیادہ عزیزی مجتبیٰ حسین یہ کہہ دیں گے کہ اس کی شاعری روح سے خالی ہے یا یہ شخص محض ٹیکنیکل شاعری کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ایسے لوگوں کی رائے مجھے کیو ں نتاژ کرے اور کیسے کرے؟میں وہی کہنے پر مجبور ہوں جو کہہ سکتاہوں اور صرف اسی صورت میں کہہ سکتا ہوں جس صورت میں کہنا مجھے میرے ہاتف نے سکھایا ہے (خود مجتبیٰ حسین کا یہ حال ہے کہ شعر صحیح نہیں لکھ سکتے۔جوغزل اور نظم آپ نے شائع کی ہیں انہیں میں عروض کی خامیاں دیکھ لیجیے۔ایک پروفیسر کو کم از کم عروض کی کوئی ابتدائی کتاب تو پڑھ لینی چاہیے)انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ عربی اور فارسی کا لفظ کیا ہے اور معرب اور مفرس لفظ کسے کہتے ہیں؟انہیں تو ایک شاعر اور دوسرے شاعر کے رنگ میں امتیاز کرنے کا سلیقہ بھی قدرت نے نہیں بخشا۔وہ شعر کو جس سطحی نظر سے دیکھتے ہیں وہ ایک ادب کے استاد ہی کے حق میں مضر نہیں بلکہ بے بس طالب علموں کے لیے بھی مہلک ہے۔میں نعرہ بازی سے بھی نہیں ڈرتا۔حبیب جالب کے کلام میں نعرے بازی ہے لیکن ایسی کہ دل پر اثر کرتی ہے ۔جعفر طاہر جو اصطلاحاً ترقی پسند نہیں خطابت کارسیا ہے لیکن اس کی خطابت اس کی شاعری کی نفی نہیں کرتی۔اور کتنے نام گنواؤں؟’پاکستانی ادب‘ کے جو پرچے آپ نے مجھے بھجوائے ہیں ان میں میں نے اپنی سمجھ میں آنے والی سب چیزیں پڑھ ڈالی ہیں۔اردو رسالے میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ فیض کے سگریٹوں کے مانند جلد ختم ہوجاتا ہے۔میں نے آپ کی ہدایت کے باوجود آپ کے ماہنامے کا مطالعہ ہمدردی سے نہیں کیا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کا معیار اب تک پست ہے۔شاید آپ جیسے ذہین اور باخبر آدمی سے اور زیادہ توقع رکھتا ہوں۔اگرچہ میں خود کوئی رسالہ جاری کرتا تو مجھے اس رسالے سے بھی یہی گلہ ہوتا۔بہت کچھ لکھنے والوں پر منحصر ہے۔

آپ کا بے حد مخلص
ن۔م۔راشد
لندن ، جولائی1975
***

بدھ، 22 جولائی، 2015

سہ روزہ ہذیان/فیضی

غزل کے تجربات اور ان کی جدیدیت حالی کے زمانے سے زیر بحث ہے۔ علامہ حالی نے بھی قدیم و جدید کی قید لگانے کے معاملے میں سب سے پہلے مضامین و اسالیب کے تجربے کرنے چاہے تھے، مگر ان کا پراخلاق عمل اوندھے منہ زمین پر آگرا اور بقول رشید حسن خاں ان کی جدید غزلوں میں بھی وہی شعر زیادہ اچھے ثابت ہوئے جن میں غزل والی تھوڑی بہت قدامت تھی، یعنی
گو جوانی میں تھی کجرائی بہت
پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت
تب سے لے کر اب تک جدید لب و لہجے کی غزل ایک سوال بن کر فنکاروں کے سامنے کھڑی ہے، جدید کیا ہے، ظاہر ہے کہ اس معاملے میں میرا نظریہ کچھ الگ ہے، مگر میرا نظریہ جامد نہیں ہے، وہ بدل سکتا ہے، وہ بدل جاتا ہے۔جدید کے لفظ اور جدید غزل کی اصطلاح پر غور کرنے کا موقع کچھ اور ہوگا لیکن ایک قصہ قاسم یعقوب نے مجھے سنایا، یہ قصہ میرے اختلاف اور آپ کے اتفاق کے باوجود دلچسپ ہے، پاکستانی قاری اس سے زیادہ واقف ہے، ہندوستانی کم۔قصہ قاسم یعقوب کی زبان میں سنیے:
''فیضی کا اصل نام "محمد فیض" ہے اور وہ بنیادی طور پر بزنس مین ہیں۔ان کا واحد شعری مجموعہ "لپیٹی ہوئی عمر" 2002میں شائع ہوا۔ فیضی نے 2001 میں معروف شاعر مقصود وفا کے ساتھ مل کر ایک ادبی سلسلہ "آفرینش" جاری کیا جس کے تین شمارے ہی آ سکے اور یہ معیاری رسالہ بند ہو گیا۔ فیضی جدید تر غزل کےنمائندہ شاعر کہلائے جاتے ہیں۔ "سہ روزہ ہذیان" اصل میں ظفر اقبال کے شعری تجربے کی قلعی کھولنے کے لئے لکھی گئی تھی۔ مگر فیضی نے اپنا نام دینے کی بجائے "ڈفر اقبال" یعنی differ iqbalکے نام سے شائع کروائی۔ اس کتاب نے ادبی حلقوں میں تہلکا مچا دیا تھا یہ کتاب 1996 میں انجم سلیمی کے ادارے ہم خیال بک فائونڈیشن سے شائع ہوئی جو فیصل آباد کا معروف اشاعتی ادارہ ہے۔فیضی ، انجم سلیمی اور مقصود وفا کے علاوہ دیگر احباب ایک ہوٹل میں بیٹھے تھے ۔ مقصود وفا ظفر اقبال کے شعری تجربے پر گفتگو کر رہے تھے۔اور اسے ایک شاندار اضافہ قرار دے رہے تھے۔ فیضی نے مذاق اڑایا تو مقصود نے کہا کہ یہ ظفر اقبال کا تیس سالہ محنت کا ثمر ہے اور تم مذاق اڑاتے ہو۔ تو فیضی نے کہا کہ میں تین دنوں میں یہی کچھ بنا لوں تو؟ شرط لگ گئی اور فیضی نے خود کو گھر میں تین دنوں کے لئے بند کر لیا تین دنوں کی چھٹی لے کے دفتر سے ایک کتاب کی غزلیں کہ ڈالیں اور یوں فیضی یہ کتاب اسی جگہ لے آئے اور پھر مقصود وفا اور انجم سلیمی کے دیباچوں کے ساتھ شائع ہوئی۔'' یہی غزلیں ذیل میں آپ کے مطالعے کے لیے دی جارہی ہیں۔امید ہے انہیں پڑھ کر جدید شاعری کے تعلق سے بحث کو کچھ ہوا ملے گی اور جدید کیا ہے، قدیم کو بگاڑنا یا اپنے زمانے میں جدت کے نام پر کیے جانے والے تجربات کی تقلید کرنا ؟ان سوالات پر غور کرنے کا موقع بھی ملے گا۔تو آئیے غزلیں پڑھتے ہیں اور باتوں کی بسم اللہ کرتے ہیں۔


(۱)
دل اور جان کا نقشہ لے کر آئے ہیں
اک ارمان کا نقشہ لے کر آئے ہیں

تمہیں تو اپنے گھر کا رستہ یاد نہیں
ہم جاپان کا نقشہ لے کر آئے ہیں

ہم شلوار کا ناپ گئے تھے لینے کو
لیکن ران کا نقشہ لے کر آئے ہیں

تجھ سے تیرے سائز کی باتیں کرنی ہیں
تیرے کان کا نقشہ لے کر آئے ہیں

ہم نے بھی اک پاکستان بنانا ہے
ہندوستان کا نقشہ لے کر آئے ہیں

دل میں ڈفر تعمیر کی خواہش رکھی ہے
ایک مکان کا نقشہ لے کر آئے ہیں



(
۲)
بتیس سال کے ہو کر بھی ہو بونے سے
کچھ بھی ہو نہیں پایا تیرے ہونے سے

دھیان مگرمچھ کا مجھ کو آ جاتا ہے
ہنس پڑتا ہوں اکثر تیرے رونے سے

سامنے آ کر بات کرو تو پتہ چلے
آتی ہے آواز تمہاری کونے سے

تیری ناک نے نیند میں دم کر رکھا ہے
میں تو جاگ اٹھتا ہوں تیرے سونے سے

مل جانا اس چاک گریباں عاشق سے
وقت ملے گر سینے اور پرونے سے

جس بھالو کی خوب پٹائی کرتے تھے
بڑے ہوئے تو ڈر گئے اسی کھلونے سے

ہانڈی میں تھوڑا سا سالن ہوتا ہے
روٹی بھی مل جاتی ہے اک پونے سے

گلے لگا کر زور زور سے ہلتے ہیں
مکھن حاصل ہو گا دودھ بلونے سے

نصف ایمان صفائی ہے، اور بیگم بھی
خوش ہوتی ہے میرے برتن دھونے سے

پچھلے وقتوں کے معشوق ہی اچھے تھے
قابو آ جاتے تھے جادو ٹونے سے

آسمان کو اک حسرت سے تکتے ہیں
فرصت ملتی ہے جب مٹی ڈھونے سے

کیسے کیسے لوگ ملے تھے رستے میں
من موہن سے، سانولے اور سلونے سے

وہ مجھ سے دوچار لطیفے سن کر بھی
باز نہیں آئے رومال بھگونے سے

بچپن میں جب صبح ڈفر تم اٹھتے تھے
خوشبو سی آتی تھی ترے بچھونے سے

(
۳)
ہم کہتے ہیں دل کو خوب بڑا کر کے
آ جاؤ اس گھر میں بسم اللہ کر کے

کافی عرصہ ناک میں سانس نہیں آتی
جب سینے سے لگ جاتے ہو ٹھاہ کر کے

زلفیں لہراتے ہو حبس کے موسم میں
بجلی کے پنکھے کی تیز ہوا کر کے

مزا اچانک ملنے میں جو ہوتا ہے
ضائع کر دیتے ہو تم اطلاع کر کے

سڑکوں پر بھی پھول کھلائے ہیں ہم نے
گھر کے باغیچے کو اور کھلا کر کے

تم تو گئے تھے باتھ میں صرف نہانے کو
اتنی مدت بعد آئے ہو کیا کر کے

اپنے اوپر آنچ نہیں آنے دیتے
صاف مکر جاتے ہیں دل میلا کر کے

اس گرمی پر کتنا غصہ آتا ہے
پی جاتے ہیں لیکن پھر ٹھنڈا کر کے

بچپن تک تو چھیڑا خوب حسینوں کو
چھوڑ دیا کرتے تھے وہ چھوٹا کر کے

تیرے باپ کے ڈر سے نیند نہیں آتی
سو جاتا ہوں تیری امی کا کر کے

خوب ڈفر انداز ہے اُس کی چاہت کا
سیدھا بیٹھا ہے ہم کو اُلٹا کر کے


(
۴)
اک آخری ٹرائی کا موقعہ نہیں ملا
ابا کو میرے بھائی کا موقعہ نہیں ملا

حیرت سے سن رہے ہیں ترا گرےۂ فراق
کیونکہ کبھی جدائی کا موقعہ نہیں ملا

ہم نے بھی اپنا چہرہ فٹافٹ چھپا لیا
اُن کو بھی منہ دکھائی کا موقعہ نہیں ملا

کس منہ سے جائیں وصل کی شب، کیا دکھائیں ہم
دن بھر ہمیں صفائی کا موقعہ نہیں ملا

وہ جنوری کی رات اکارت چلی گئی
اک ساتھ اک رضائی کا موقعہ نہیں ملا

ہم سادہ دل یونہی تری محفل میں آ گئے
ملبوس کی دُھلائی کا موقعہ نہیں ملا

فکرِ معاش لے گئی اک ورکشاپ میں
بعد از مڈل پڑھائی کا موقعہ نہیں ملا

یوں توں پڑھے ہیں ہم نے بہت سے مشاعرے
لیکن کبھی کمائی کا موقعہ نہیں ملا

شاید تمہیں پسند نہ آؤں میں اس طرح
دھوتی کے ساتھ ٹائی کا موقعہ نہیں ملا

فیشن سا بن گیا ہے مگر اصل میں ہمیں
پتلون کی سلائی کا موقعہ نہیں ملا

اُس لیڈی ڈاکٹر کے تعاون کا شکریہ
ہم کو کسی دوائی کا موقعہ نہیں ملا

بس کان کھینچتے سے وہ بانہوں میں آ گئے
اقدامِ انتہائی کا موقعہ نہیں ملا

ہم اُس کو چھیڑ چھاڑ کے فوراً نکل گئے
لوگوں کو کارروائی کا موقعہ نہیں ملا

جب بے وفا ہوا تو وطن سے چلا گیا
محبوب کی پٹائی کا موقعہ نہیں ملا

جاسوس اس قدر مرے پیچھے رہے ڈفر
بیگم سے بے وفائی کا موقعہ نہیں ملا

(
۵)
مری ماں روز کہتی ہے خدارا کھول کر دیکھو
کبھی قرآن کا کوئی سپارا کھول کر دیکھو

اگر تم چیر کر دیکھو گے تو تکلیف ہوئے گی
چنانچہ التجا ہے دل ہمارا کھول کر دیکھو

بہت سی خواہشیں اک ساتھ اُڑ جاتی ہیں ہاتھوں سے
کسی بچے کی انگلی سے غبارا کھول کر دیکھو

کسی وعدے کے ساتھ اک پانچ سو کا نوٹ بھی ہو گا
اگر تم اپنے آنچل کا کنارا کھول کر دیکھو

ترے سینے سے لگ جائیں گے مدت سے رُکے عاشق
ذرا سی دیر کو اگلا اشارا کھول کر دیکھو

پڑا ہے ایک عرصے سے، کہیں کیڑے نہ ہوں اس میں
ضروری ہے کہ یہ آلو بخارا کھول کر دیکھو

بدن کا نچلا حصہ اس قدر بے چین سا کیوں ہے
کوئی کیڑا گھُسا ہو گا، غرارا کھول کر دیکھو

نہیں کھُل پایا مجھ سے گھی کا ڈبہ پہلی کوشش میں
مگر بیگم کا آرڈر ہے، دوبارہ کھول کر دیکھو

کھلی آنکھوں سے ہاتھ آنے نہیں پاتے کئی منظر
یہ آنکھیں بند کر لو اور نظارہ کھول کر دیکھو

کئی ڈھیلے ہیں پرزے اور بہت سے غیر حاضر ہیں
ہمارا ذہن تم سارے کا سارا کھول کر دیکھو

پس رنگینئ حسن و ادا کیا گرد اڑتی ہے
کتابِ عمر کا اگلا شمارا کھول کر دیکھو

تمہیں گر اپنے آنگن میں ستاروں کی تمنا ہے
تو پھر کوئی ڈفر فلمی ادارہ کھول کر دیکھو

(
۶)
ریل چلے گی چھِک چھِک چھِک
دل مسلے گی چھِک چھِک چھِک

مت جاؤ پردیسوں کو
جان جلے گی چھِک چھِک چھِک

دور کسی اسٹیشن پر
شام ڈھلے گی چھِک چھِک چھِک

تیرے ڈبے میں کس کی
دال گلے گی چھِک چھِک چھِک

خواہش لوٹ کے جانے کی
ہاتھ ملے گی چھِک چھِک چھِک

دل میں بیل جدائی کی
پھولے پھلے گی چھِک چھِک چھِک


پھول کھلیں گے پٹڑی پر
رُت بدلے گی چھِک چھِک چھِک

(
۷)
جل رہا ہوں ترے بخار کے ساتھ
کیا کروں ذکر ڈاکٹار کے ساتھ

دل کی تسکین ہو نہیں پاتی
پیار کرتے نہیں ہو پیار کے ساتھ

کھانے پینے کی کوئی فکر نہیں
اپنا گھر ہے کسی مزار کے ساتھ

پھر بھی بیماریاں نہیں جاتیں
روٹی کھاتے ہیں ہم انار کے ساتھ

دیکھتی رہ گئیں مری آنکھیں
دل گیا رونقِ بہار کے ساتھ

زندگی میرے گھر نہیں آتی
وقت کٹتا ہے انتظار کے ساتھ

زیست کی دوپہر میں بھوک لگے
اور پراٹھا ملے اچار کے ساتھ

آدھے گھنٹے کا اک ڈرامہ ہے
آدھے گھنٹے کے اشتہار کے ساتھ

پیار عبدالشکور سے کر کے
بھاگ جائے گی افتخار کے ساتھ

تجربہ کچھ نہیں محبت کا
ڈوب جائیں گے کاروبار کے ساتھ

ہم وہ کتّے ہیں بے بصیرت جو
بھاگتے جا رہے ہیں کار کے ساتھ

تُو بھی نکلی ہے شیخ کی بیٹی
دل لیا ہے مگر ادھار کے ساتھ

حرکتیں تو بڑی مفصّل ہیں
بات کرتے ہیں اختصار کے ساتھ

دن گزرتا ہے دشمنوں میں ڈفر
رات کٹتی ہے ایک یار کے ساتھ



(
۸)
چائے موجود، پان حاضر ہے
آپ کا میزبان حاضر ہے
جڑ کے بیٹھیں گے ایک کمرے میں
چھوٹا موٹا مکان حاضر ہے

چھوڑئیے لڑکیوں کے چکر کو
لیجیے یہ پٹھان حاضر ہے

دوستی جن سے غائبانہ ہے
ان کی خاطر بھی جان حاضر ہے

تم پکوڑے کہیں سے لے آؤ
میری جانب سے نان حاضر ہے

پیٹ کی آگ بجھ گئی ہے اگر
اِک حسینہ کی ران حاضر ہے

چپ اگر آپ رہ نہیں سکتے
کیجیے بات، کان حاضر ہے

آپ نے گر ادھار لینا ہے
پھر یہ دل کی دکان حاضر ہے

ایک بوسے کی آرزو لے کر
آج یہ بے زبان حاضر ہے

سونگھتے پھِر رہے ہیں آوازیں
ناک غائب ہے، کان حاضر ہے

خوب چندہ لیا ہے جج صاحب
پوچھیں! عمران خان حاضر ہے

یہ بہانہ نہیں چلے گا آج
لائیے نوٹ، بھان حاضر ہے

گھر مساجد کے درمیاں ہے مرا
ہر گھڑی اک اذان حاضر ہے

یہ زمیں تنگ ہو گئی ہے اگر
آئیے آسمان حاضر ہے

خواب میں کیجیے شکار ڈفر
بسترے پر مچان حاضر ہے


(
۹)
کنوارے کا کنوارا کھو گیا ہے
کہیں پر دل ہمارا کھو گیا ہے

ٹماٹر ڈھونڈنے والوں سے کہہ دو
مرا آلو بخارا کھو گیا ہے

ہوئے جاتی ہے دروازے پہ دستک
مگر اُس کا غرارا کھو گیا ہے

تمہاری بچیاں کیسے ملیں گی
اگر بچہ ہمارا کھو گیا ہے

زمیں سبزے سے خالی ہو رہی ہے
فلک سے چاند تارا کھو گیا ہے

تمہارے آسماں کی وسعتوں میں
مرا نیلا غبارا کھو گیا ہے

کہا اوپر سے، تیرا دل کہاں ہے
وہ نیچے سے پکارا کھو گیا ہے

نگاہوں کے اشارے مل گئے ہیں
ٹریفک کا اشار کھو گیا ہے

بچا رکھا تھا ہم نے جو ذرا سا
کہیں سارے کا سارا کھو گیا ہے

کسی خرچیلی دل آراء کے پیچھے
مرا لکڑی کا آرا کھو گیا ہے

جوانی کی امیدیں مر گئی ہیں
بڑھاپے کا سہارا کھو گیا ہے


نظر میں تھا، نظر آنے سے پہلے
مگر اب وہ نظارہ کھو گیا ہے

کہاں پکنک منائیں اب ڈفر جی
سمندر کا کنارا کھو گیا ہے


(
۱۰)
مجھ سے کہنے لگا اُداس کچن
اب تو لے آؤ پانچ چھ برتن

روز اک لاش ملنے آتی ہے
جب سے چوری کیا ہے ایک کفن

مجھ کو شوہر بنا کے چھوڑ گیا
وہ مرے میٹرک کا پاگل پن

کچھ تو نکلے ملاپ کی صورت
کر ہی لیتے ہیں ایک عید ملن

اپنی عزت عزیز تھی جن کو
ہو گئے میری جان کے دشمن

یہ بڑھاپے کے ایک سے لمحے
اور وہ بھانت بھانت کا بچپن

کالی اینٹیں تھیں اور نہ کالے روڑ
اُجلا اُجلا گزر گیا ساون

خوب صورت تو ہے مگر وہ ہے
سات غنڈوں کی ایک ایک بہن

جب سے کھینچے ہیں اس نے کان مرے
بس اُسی دن سے ہو گئے ہیں کن

باسی روٹی کے ساتھ کھائیں گے
پچھلی شب کا بچا کھچا سالن

اک دِیے کے لیے ترستا ہے
جل بجھی خواہشات کا مدفن

ہم بھی اترے ہوئے ہیں پٹڑی سے
کیا سمجھتے ہو ریل کے انجن

دیکھ کر مطمئن سے رہتے ہیں
اپنی آوارگی کا نیک چلن

ہم غریبوں سے پردہ داری کیا
کھول دے اپنے تین چار بٹن

سات جوتوں نے وہ کمال کیا
اپنے چودہ طبق ہوئے روشن

میں تری بھی پٹائی کر دوں گا
تو مرا اتنا غم گسار نہ بن

مکتبِ عمر سے ہوئی چھٹی
گھنٹیاں بج اٹھتی ہیں ٹَن ٹَن ٹَن

ناچنا تو ڈفر نہیں آیا
ٹیڑھا ہوتا چلا گیا آنگن


(
۱۱)
کوئی نسخہ مجرب خاندانی مانگ لیتے ہیں
حکیموں سے گئی گزری جوانی مانگ لیتے ہیں

وہ پہلی بار آئے ہیں کسی اچھے سے ہوٹل میں
کہ مینو دیکھتے ہیں اور پانی مانگ لیتے ہیں

اُسے تو یاد ہو شاید کہ شہزادے پہ کیا گزری
تری گڑیا سے ہی اپنی کہانی مانگ لیتے ہیں

اگر سگریٹ کا پیکٹ پونے چودہ کا ہی ملتا ہے
تو پھر چودہ روپے دے کر چوانی مانگ لیتے ہیں

ہمارے پاس دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا
یہ ہے اُن کی نہایت مہربانی مانگ لیتے ہیں

بواسیری طبیعت کو محبت راس ہو شاید
چلو ان سے کوئی چھلّا نشانی مانگ لیتے ہیں

کہیں جب موج میں آ کر کہ مانگو مانگتے کیا ہو
تو وہ ہم سے ہماری نوجوانی مانگ لیتے ہیں

تمہارے باپ کو پڑھنا نہیں آتا تو پھر کیا ہے
اُسے مل کر یہ رشتہ منہ زبانی مانگ لیتے ہیں

ہے موجودہ جوانی تو نہایت ہی ڈراؤنی ہے
کوئی تصویر ہی ان سے پرانی مانگ لیتے ہیں

محبت سے بلاتے ہیں ڈفر کھانے پہ وہ جب بھی
تو پیسے بھی برائے میزبانی مانگ لیتے ہیں

(
۱۲)
تھامے پیار کی ڈوری کب تک رکھوں گا
عشق یہ چوری چوری کب تک رکھوں گا

عورت مرد کی کمزوری ہے، ٹھیک مگر
مردانہ کمزوری کب تک رکھوں گا

کان میں خارش کرنے کو جی کرتا ہے
پیٹھ پہ وزنی بوری کب تک رکھوں گا

پیٹ تو مچھلی کھانے سے ہی بھرتا ہے
یہ کانٹا یہ ڈوری کب تک رکھوں گا

اس کمرے میں سولہ بندے رہتے ہیں
تجھ کو چوری چوری کب تک رکھوں گا

چھُو کر کب محسوس کروں گا اُس کو میں
یہ دیوار میں موری کب تک رکھوں گا

سال کے بعد بڑھاپا آنے والا ہے
اور کتاب یہ کوری کب تک رکھوں گا

کس دن اُس کی مانگ سجائی جائے گی
ہاتھ میں بھنڈی توری کب تک رکھوں گا

چیخ اُٹھے گا آخر یہ مجروح بدن
کانوں میں اک لوری کب تک رکھوں گا

چھوڑ ہی دوں گا شہریت مل جانے پر
انگلستان کی گوری کب تک رکھوں گا

سارے جسم پہ سناٹا سا چھایا ہے
دل کی شورا شوری کب تک رکھوں گا

وہ کافی تگڑی ہے ہڈّوں پیروں کی
اُس کو زورا زوری کب تک رکھوں گا

پِٹ جاؤں گا اک دن اُس کے بھائی سے
اپنی یہ شہ زوری کب تک رکھوں گا

اور ڈفر جب قافیہ مل نہ پایا تو
میں شعروں کو ٹوری کب تک رکھوں گا

(
۱۳)
ہم دن رات کی جو مزدوری کرتے ہیں
اور کسی کی خواہش پوری کرتے ہیں

کام نہیں جب کوئی ملتا کرنے کو
اپنے حصے کی مجبوری کرتے ہیں

شہر کے سب تھتّھوں سے اپنی یاری ہے
غصے میں بھی بات ادھوری کرتے ہیں

اپنا رزق لگا ہے اپنی باتوں سے
ہم طوطے ہیں، اپنی چُوری کرتے ہیں

دور سے آنے والوں کو بھی دیکھیں گے
دور ہماری کیسے دوری کرتے ہیں

آنکھ لڑی ہے اُن افسر کی بیٹی سے
جو کہ ٹھیکوں کی منظوری کرتے ہیں

مولا تیرے سارے سورج زندہ باد
جو گوری رنگت کو بھوری کرتے ہیں

تین دنوں کی چھٹی لے کر دفتر سے
ایک کتاب کی غزلیں پوری کرتے ہیں

خود کو دیکھیں تو افسوس سا ہوتا ہے
جیتے ہیں یا عمریں پوری کرتے ہیں

کل پولیس کا دستہ گھر پہ آیا تھا
آپ ہماری کیا مشہوری کرتے ہیں

جب نیلی سے اُن کا دل بھر جاتا ہے
اپنی بیگم کو مادھوری کرتے ہیں

تم سے ہمیں ضروری ملنا ہوتا ہے
باتیں بے شک غیرضروری کرتے ہیں

جب ہو آپ سے عقل کی بات ڈفر صاحب
آپ تو اظہارِ معذوری کرتے ہیں


(
۱۴)
یوں بے کار نہ لیٹ میاں
تیرے ساتھ ہے پیٹ میاں

مانگ رہے ہیں مرغے سے
دال کی ایک پلیٹ میاں

یہ رمضان مبارک ہے
اونچا کر دے ریٹ میاں

حال ہمارا مت پوچھو
ننگا ہو گا پیٹ میاں

خانوں کا مہمان ہے تُو
سیدھا ہو کر لیٹ میاں

کل کی بات ہی لگتی ہے
پیدائش کی ڈیٹ میاں

بیوی گھر سے باہر تھی
اور کرتا تھا ویٹ میاں

اچھے چاکوں والے دیکھ
کچی تری سلیٹ میاں

دنیا کا دستور ہے یہ
اوپر بیوی ہیٹھ میاں

ہم ہیں چھوٹے چھوٹے سے
اللہ میاں گریٹ میاں

آج ڈفر پر کھل جائے
مشہوری کا گیٹ میاں

(
۱۵)
ذرا سے مطمئن شادی کے پہلے سال ہوتے ہیں
پھر اس کے بعد تو بچوں کے دست اسہال ہوتے ہیں

یہ بچے مختلف رنگوں میں استعمال ہوتے ہیں
اگر کالے بھی ہوں تو پھر بھی ماں کے لال ہوتے ہیں

اکیلے میں ملو تو حالِ دل تم کو سنائیں بھی
ہمیشہ پانچ چھ بھائی تمہارے نال ہوتے ہیں

جنہیں پچکا ہوا کنّو سمجھ کر چھوڑ آیا ہوں
تو کیا وہ آپ ہی کے سیب جیسے گال ہوتے ہیں

تمہارے جامنوں سے رنگ پہ میں دنگ رہتا ہوں
کہ باقی لوگ تو مارے شرم کے لال ہوتے ہیں

’’حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے‘‘
گھنیری زلف کے نیچے ذرا سے بال ہوتے ہیں

ہماری کثرتِ گریہ کو لاکھوں تولیے کم ہیں
تمہاری جیب میں تو ایک دو رومال ہوتے ہیں

کبھی رونا، کبھی دھونا، کبھی دھوتے ہوئے رونا
محبت کرنے والوں کے بڑے جنجال ہوتے ہیں

ڈفر جی آئیے ہم آج پیدا ہو ہی جاتے ہیں
کہ اب نرگس کے رونے کو ہزاروں سال ہوتے ہیں


(
۱۶)
جب بھی ہم پر بھری جوانی ہوتی ہے
تیری خواہش کی نادانی ہوتی ہے

ہم نے بھی کچھ پانی پینا ہوتا ہے
ہم نے بھی اک روٹی کھانی ہوتی ہے

تیرا ابا جو مرضی بکواس کرے
ہم بولیں تو نافرمانی ہوتی ہے

ایک مہینے بعد تو کام پہ جانے دو
دفتر سے تنخواہ بھی لانی ہوتی ہے

ہم نے جھوٹ کو باندھ لیا ہے پلّے سے
اپنی ہر اک بات ایمانی ہوتی ہے

استانی کو کار میں لے کر پھرتے ہیں
کتنی عمدہ کارستانی ہوتی ہے

ہم تو بھائی نابینے ہی بہتر ہیں
ہم نے کونسی آنکھ لڑانی ہوتی ہے

شہزادی کے قصے میں کھو جاتا ہوں
میرے بچوں کو حیرانی ہوتی ہے

ہم پانی سے پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں
تیرے منہ میں باقرخانی ہوتی ہے

بعد میں بے شک پیروں میں گر جاتے ہیں
پہلے ہم نے ٹانگ اڑانی ہوتی ہے

ہم رستوں کا کوڑا کرکٹ چنتے ہیں
گھر میں گم سم رات کی رانی ہوتی ہے

ہر لڑکی سے عشق لڑاتے پھرتے ہیں
ہر انگلی میں ایک نشانی ہوتی ہے

ہم بھی ایک ارادہ لے کر جاتے ہیں
اس نے بھی کچھ دل میں ٹھانی ہوتی ہے

ملتے ہیں ہر بار نئے انداز کے ساتھ
صورت لیکن وہی پرانی ہوتی ہے

جب بھی نلکے کے نیچے دیکھا اُس کو
شرم کے مارے پانی پانی ہوتی ہے

اسی لیے ملتے ہیں ڈفر ہم لوگوں سے
بے عزتی کرنی کروانی ہوتی ہے

(
۱۷)
بہت ہی بور ہے بڑی طویل داستان ہے
سنی ہوئی ہے یہ بہت ذلیل داستان ہے

سنائیے کسی سیانے ڈاکٹر کے روبرو
مرے خیال میں تو یہ علیل داستان ہے

تمہیں اے دوست کیا سنائیں زندگی کے واقعے
کہانی مختصر سی ہے، قلیل داستان ہے

رخِ حیات پر یہ جتنے بدنما سے داغ ہیں
اُسی قدر حسین اور جمیل داستان ہے

اسے سنائیے بہت سے نوٹ بھی کمائیے
یہ غمزدہ، دکھوں میں خود کفیل داستان ہے

گزر گئی کھڑے کھڑے عدالتوں میں زندگی
مقدمہ ہے واقعہ، اپیل داستان ہے

کسی کی بات توڑ کر مروڑ کر نہیں کہی
ڈفر اسی لیے مری اصیل داستان ہے



(
۱۸)
کار موڑ موڑ کے
پھینک دی ہے توڑ کے

جوس بھی نہ پی سکے
مالٹے نچوڑ کے

درد کو چھپا لیا
آنسوؤں کو اوڑھ کے

ہاتھ تھک گئے مرے
ہاتھ جوڑ جوڑ کے

گن نہ پائیں گے کبھی
نوٹ نو کروڑ کے

میرا دل بھی لیجیے
دن ہیں توڑ پھوڑ کے

نائی کی دکان ہے
زیرِ سایہ بوڑھ کے

جسم ٹوٹنے لگا
شعر جوڑ جوڑ کے

شکل کیا دکھائیں گے
آئینوں کو توڑ کے

بازوؤں میں لے لیا
کہنیاں مروڑ کے

آ لگے کنارِ مرگ
ساری عمر روڑھ کے

کس جگہ پہ آ گئے
کس جگہ کو چھوڑ کے

دل کا حال کہہ دیا
ہم نے پاؤں جوڑ کے

آنکھ عینکی سی ہے
دانت بھی ہیں کھوڑ کے

ناک بند کر دیا
کان کو مروڑ کے

سب اسیر ہیں ڈفر
اپنی اپنی لوڑ کے




(
۱۹)
جس کو تاڑ دیا ہے آ کر غصے میں
اس نے جھاڑ دیا ہے آ کر غصے میں

قاصد کی بھی خوب مرمت کی اس نے
خط بھی پھاڑ دیا ہے آ کر غصے میں

اس سے پوری وادی مانگ رہا تھا میں
ایک پہاڑ دیا ہے آ کر غصے میں

خود کو جب نذرِ آتش نہ کر پائے
کرتہ ساڑ دیا ہے آ کر غصے میں

وصل کی شب وہ پیدل چل کر آئے تھے
گڈی چاڑ دیا ہے آ کر غصے میں

کوچۂ عشق میں کاروبار جو چل نکلا
بورڈ اکھاڑ دیا ہے آ کر غصے میں

کس نے تیرے منہ پر سچی بات کہی
کس کو جھاڑ دیا ہے آ کر غصے میں

اس بکری سے کتنا پیار تھا جس نے کہ
باغ اجاڑ دیا ہے آ کر غصے میں

لوگ مری گمنامی سے کیوں جلتے ہیں
جھنڈا گاڑ دیا ہے آ کر غصے میں

جب کاغذ پر اک تصویر نہ بن پائی
تکیہ کاڑھ دیا ہے آ کر غصے میں

دل نے باہر رہ کر اتنا شور کیا
اندر واڑ دیا ہے آ کر غصے میں

بٹ پہلوان جو کشتی میں نہ جیت سکا
گھڑ مسماڑ دیا ہے آ کر غصے میں

کیوں بلی کو میاؤں میاؤں کر کے چھیڑا تھا
اس نے دھاڑ دیا ہے آ کر غصے میں

ایک پٹھان نے کل اپنی محبوبہ کا
شکل بگاڑ دیا ہے آ کر غصے میں

اپنے ہاتھ لگا تھا ایک انگور ڈفر
چوڑ نچاڑ دیا ہے آ کر غصے میں

(
۲۰)
بشکلِ دانہ پانی آ گئی ہے
کہیں سے میزبانی آ گئی ہے

اسے جانے نہیں دینا ہے اب کے
یہ شے جو آنی جانی آ گئی ہے

کہ جو تھی میٹرک کے بعد ہم پر
وہی پھر سے جوانی آ گئی ہے

یہ کس کردار سے پالا پڑا ہے
یہ کس رخ پر کہانی آ گئی ہے

اگر چپ ہوں تو اس کا راز یہ ہے
مرے منہ میں چوانی آ گئی ہے

ڈرامہ کر لیا کرتا ہوں اب میں
کہانی بھی بنانی آ گئی ہے

چرایا ہے کسی کوٹھی کا نقشہ
ہمیں نقلِ مکانی آ گئی ہے

خدایا بوٹیوں کا دے سہارا
بلائے امتحانی آ گئی ہے

میں پنڈی جا رہا تھا آج لیکن
میاں چنّوں سے نانی آ گئی ہے

وہ جس کو دیکھ کر نیند اُڑ گئی تھی
وہی سپنوں کی رانی آ گئی ہے

ابھی خالہ کو پہچانا نہیں ہے
کہاں سے یہ ممانی آ گئی ہے

تمہاری دکھ بھری فریاد اب تو
ہمیں بھی منہ زبانی آ گئی ہے

ہمیں کھانا کھلانا آ گیا ہے
تمہیں چائے پلانی آ گئی ہے

یہ کیسا رات کا کھانا ہے جس میں
دوبارہ چائے دانی آ گئی ہے

اُگی ہے سینۂ دشمن پر پھِنسی
نشانے پر نشانی آ گئی ہے

کئی جاتے ہوئے پل رُک گئے ہیں
کوئی صحبت پرانی آ گئی ہے

وراثت میں ڈفر کچھ بھی نہیں بس
شرافت خاندانی آ گئی ہے

(
۲۱)
دل لگی کو یوں تو گھر والی بھی ہونی چاہیے
لیکن اس کے ساتھ اک سالی بھی ہونی چاہیے

دیکھنے میں بھولی و بھالی بھی ہونی چاہیے
اندر اندر چار سو چالی بھی ہونی چاہیے

آپ کے رخسار پر لالی بھی ہونی چاہیے
نام گلشن ہے تو ہریالی بھی ہونی چاہیے

کر رہا ہوں دوسری شادی میں ایسا سوچ کے
گوری چٹی ہے تو پھر کالی بھی ہونی چاہیے

پیٹ بھر جائے تو جاگ اٹھتی ہیں کتنی خواہشیں
اس لیے قسمت میں بدحالی بھی ہونی چاہیے

سنتے ہیں کہ جامکے چٹھہ میں ہے اس کا قیام
وہ ثریا ہے تو بھوپالی بھی ہونی چاہیے

جو نہیں دیتے محبت سے محبت کا جواب
ان کو دینے کے لیے گالی بھی ہونی چاہیے

پانچ چھ بھائی بھی ہونے چاہئیں اس شوخ کے
مال اچھا ہے تو رکھوالی بھی ہونی چاہیے

کیا خبر کب کونسی حاجت کرے بڑھ کر سوال
دوستوں کی جیب ہے خالی بھی ہونی چاہیے

تیری غزلیں تو بہت ہی خوبصورت ہیں ڈفر
ساتھ لیکن چائے کی پیالی بھی ہونی چاہیے

(
۲۲)
جوس اپنے شباب کا دے دے
ایک لیٹر شراب کا دے دے

اب ہمیں ہوش میں نہیں رہنا
اپنا جوڑا جراب کا دے دے

بال دل کی طرح نہیں کالے
کوئی نسخہ خضاب کا دے دے

زندگی تُو نے کیا کیا مجھ سے
آج پرچہ حساب کا دے دے

زیست خوش حالیوں میں کٹتی ہے
آ کے مژدہ عذاب کا دے دے

کوئی چھوٹا سا گوشۂ آباد
دلِ خانہ خراب کا دے دے

دے نہ مجھ کو سزا گناہوں کی
اجر کارِ ثواب کا دے دے

جو بھی اپنے حساب میں گم ہیں
شوق اُن کو کتاب کا دے دے

باہر آئیں گی پیٹ کی باتیں
ایک پیالہ جلاب کا دے دے

سادہ سادہ سی نیند آتی ہے
کوئی تحفہ ہی خواب کا دے دے

اُس نے مانگا ہے ایک پھول ڈفر
پورا گملا گلاب کا دے دے

چوغزلہ
(
۱)
مری شیخوں سے یاری ہو رہی ہے
طبیعت کاروباری ہو رہی ہے

دمے سے مر گیا ہے چوتھا شوہر
وہ اب پھر سے کنواری ہو رہی ہے

ٹہلتے پھر رہے ہیں بچپنے سے
یہ کس کی انتظاری ہو رہی ہے

اِدھر بی اے نہیں ہوتا مکمل
اُدھر شادی تمہاری ہو رہی ہے

مثانے ہی کی کمزوری کے صدقے
زمیں کی آبیاری ہو رہی ہے

ہمارے مجرموں کی دیکھا دیکھی
پلس بھی اشتہاری ہو رہی ہے

تمہاری انگلیوں کا سوچ کر ہی
بغل میں کُتکتاری ہو رہی ہے

کسی نے مجھ سے پوچھا ہی نہیں ہے
یہ کیا رائے شماری ہو رہی ہے

ہمیں ڈالا ہوا ہے امتحاں میں
بہت عزت ہماری ہو رہی ہے

جوانی آ رہی ہے تم پہ لیکن
ہماری ذمے داری ہو رہی ہے

تمہی نادم نہیں اپنے کیے پر
ہمیں بھی شرمساری ہو رہی ہے

محبت ایک لڑکی سے ڈفر جی
سبھی کو باری باری ہو رہی ہے


(
۲)
کہا جانم! تیاری ہو رہی ہے
وہ چپکے سے پکاری، ہو رہی ہے

ہمیں پیاری تھی جو حد سے زیادہ
وہ اب اللہ کو پیاری ہو رہی ہے

تمہارے پاؤں کا سن کر مری بھی
طبیعت بھاری بھاری ہو رہی ہے

تمہاری یہ بلیڈانہ نظر تو
مرے سینے پہ آری ہو رہی ہے

ترے دل سے گزرتی ہے جو ندی
مری آنکھوں سے جاری ہو رہی ہے

اِدھر ہے دامنِ صد چاک اپنا
اُدھر گوٹہ کناری ہو رہی ہے

چھپا ہے جھاڑیوں میں ایک جوڑا
یہاں بھی دنیاداری ہو رہی ہے

ہمارے تین مرلے کے مکاں میں
بڑی آبادکاری ہو رہی ہے

بڑھاپے میں بھی ہے شوقِ محبت
بڑی لمبی بماری ہو رہی ہے

زمیں تو خوش ہے بارش میں نہا کر
فلک پر آہ و زاری ہو رہی ہے

ابھی پوری طرح جاگے نہیں ہیں
ذرا سی ہوشیاری ہو رہی ہے

یہ ہے آپریشنِ تبدیلئ جنس
بچارا اب بچاری ہو رہی ہے

تمہاری چاٹ سے اب رفتہ رفتہ
مری نیت کراری ہو رہی ہے

ڈفر جی ہو رہا ہے منہ بھی کالا
گدھے پر بھی سواری ہو رہی ہے

(
۳)
جو یہ شادی تمہاری ہو رہی ہے
برائے ضربِ کاری ہو رہی ہے

میں جس لڑکی سے بچتا ہوں اُسی پر
مری ماں واری واری ہو رہی ہے

ہمیں کچھ بھی نظر آتا نہیں ہے
یہ کیا منظرنگاری ہو رہی ہے

جو پہلے تھی کبھی سلمیٰ قریشی
وہ اب سلمیٰ بخاری ہو رہی ہے

کئی شاہین نیچے رہ گئے ہیں
بڑی اونچی اُڈاری ہو رہی ہے

ملے ہیں جب سے ہم اہلِ خرد سے
عجب وحشت سی طاری ہو رہی ہے

سخن سازی ہمارے دیس میں اب
بہ اندازِ مداری ہو رہی ہے

وہی ایک سست رو سا دائرہ ہے
عبث تیزی طراری ہو رہی ہے

اگرچہ امتحاں سر پر کھڑے ہیں
محبت کی تیاری ہو رہی ہے

مری نظروں سے اُس کے تن بدن پر
مسلسل میناکاری ہو رہی ہے

ابھی میں نے تمہیں دیکھا نہیں ہے
تمہیں یونہی خماری ہو رہی ہے

جوانی میں ابھی ہفتہ پڑا ہے
مگر وہ بے مہاری ہو رہی ہے

مری نیت بدلتی جا رہی ہے
کہیں بے اعتباری ہو رہی ہے

ڈفر جو شاعری تم کر رہے ہو
نری راہِ فراری ہو رہی ہے

(
۴)
سواری پر سواری ہو رہی ہے
مری گردن بھی لاری ہو رہی ہے

اُسے تو خیر ملنا ہے کسی سے
مجھے کیوں بے قراری ہو رہی ہے

امورِ خارجہ سے تنگ آ کر
امورِ خانہ داری ہو رہی ہے

پلٹ جاؤ مرے نادان سورج
یہاں پر شب گزاری ہو رہی ہے

بھلا دے گی اسے منٹوں میں دنیا
جو محفل یادگاری ہو رہی ہے

ریاضی میں اگرچہ فیل ہیں ہم
مگر اختر شماری ہو رہی ہے

شکم کی ابتری میں فائدہ ہے
زمیں پر دست کاری ہو رہی ہے

ذرا سی مسکراہٹ کے عقب میں
بہت سی گریہ زاری ہو رہی ہے

کڑاہی گوشت کھانا چاہتا ہوں
مگر صبحِ نہاری ہو رہی ہے

درِ دل کھول اور خیرات کر دے
مری دستک بھکاری ہو رہی ہے

بہت بے چین میرے دل کی مانند
ترے منہ میں سپاری ہو رہی ہے

مرے رونے کی ویڈیو بن رہی ہے
اداکاری بھی ساری ہو رہی ہے

کھلا چھوڑا ہے ہم نے دل وہاں پر
جہاں چوری چکاری ہو رہی ہے

جو پوچھا یہ ڈفر کیا لکھ رہے ہو
تو بولا شعر و شاعری ہو رہی ہے


بشکریہ : قاسم یعقوب

 

پیر، 20 جولائی، 2015

خاتون اسلام اور ورک کلچر

کسی قوم کی حالت کا صحیح اندازہ اس قوم کی عورتوں کی حالت سے لگایا جا سکتا ہے ۔ جس قوم کی عورتیں تعلیم یافتہ ، باشعور اور مہذب ہوتی ہیں وہی قوم صحیح معنوں میں ترقی یافتہ کہلانے کی مستحق ہے۔ پس ماندہ قوم عورتوں کو نفسیاتی طور پر کمزور سمجھ کربے جا نگرانی میں رکھتی ہے۔ انہیں پابند بناتی ہے ، خود مختار نہیں ہونے دیتی۔ان پر شک کرتی ہے ،اعتبار نہیں کرتی۔ فتووں کی زبان میں بات کرتی ہے ،دوستانہ مشورے نہیں دیتی۔ معیاری اور اعلیٰ تعلیم سے محروم رکھ کر ان کی تربیت کی کوشش کرتی ہے۔ ان سے تقویٰ اور احسان کا ایسا مطالبہ کرتی ہے جو اس قوم کے مردوں سے ممکن نہیں ہوتا۔حتیّٰ کہ مردوں کی بڑی سے بڑی کجروی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر نا پڑتاہے اور خواتین کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر طوفان کھڑے ہو جاتے ہیں ۔مسلم قوم میں عورتوں کو لے کر یہ تمام رویے اپنائے جاتے ہیں ۔ان باتوں کو لیپ پوت کر چھپانے سے بہتر ہے کہ انہیں بے کم و کاست بیان کردیا جائے تا کہ ان کے علاج کی واقعی فکر پیدا ہو ۔
اسلام میں عورتوں کے حقوق پر تقریریں چاہے جتنی ہو جائیں لیکن عملی طور پر متوسط طبقے میں مسلمان خواتین کے ساتھ’ نصف بہتر ‘کے بجائے’ نصف کمتر ‘کا سلوک ہی کیا جاتا ہے۔جب تک اس سلوک کی وجہ کو نظریاتی طور پر سمجھااور عملی طور پر دور نہیں کیا جاتا مسلمان خواتین پس ماندگی کی موجودہ حالت سے نہیں نکل سکتیں۔واضح رہے کہ عورتوں کی پس ماندگی بھی مسلمانوں کے زوال کی ایک بنیادی وجہ ہے جس کا لازمی نتیجہ ہمیں یہ دیکھنا پڑا کہ پوری قوم غیر متوازن ہو کر شکست و ریخت سے دوچار ہو گئی۔

مذہب اور پسماندگی

مسلمان عورتوں کی پس ماندگی تقریباً ہمہ گیر ہے۔متوسط طبقے کی مسلم خواتین دوسری قوموں کی خواتین کے مقابلے میں تقریباً ہر اعتبار سے زیادہ پچھڑی ہوئی اس لیے ہیں کہ انتہاپسندمسلم علما نے اسلام کے نام پر ان پر ایسی پابندیاں لگا رکھی ہیں جو فی الواقع اسلام نے نہیں لگائی ہیں۔ دوسرے مذاہب کی خواتین بڑے اطمینان سے اپنے اپنے مذہبی و تہذیبی رسوم و روایات کو بالائے طاق رکھ کر دنیوی ترقی کی دوڑ میں شامل ہوتی ہیں جبکہ مسلمان عورتیں ، دین حق کی پیرو ہونے کے سبب ،اپنے دینی و مذہبی اصول و فرائض سے سمجھوتا نہیں کر سکتیں ۔
روایت پسند مرد علما، خواتین کو جس چیز سے منع کرتے ہیں ، وہ خدا اور رسول کا حکم سمجھ کراس سے رک جاتی ہیں اورجس چیز کا حکم دیتے ہیں اسے اختیار کرلیتی ہیں۔مگر عورتوں سے متعلق اسلامی احکام و ہدایات بیان کرتے وقت روایتی علما لاشعوری طور پر مرد انہ نقطہ نظر اختیار کر لیتے ہیں اور مردوں کی قوامیت کے دائرے میں اتنی وسعت پیدا کر دیتے ہیں کہ قوامیت ، الوہیت یعنی خدائی میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ چونکہ خواتین میں اعلیٰ دینی تعلیم کا فقدان ہے ،وہ قرآن و سنت سے خود استفادہ نہیں کر سکتیں ، اس لیے وہ علما کی طرف سے بیان کردہ جملہ احکام و ہدایات کی پیروی ہی کو اصل دین سمجھتی ہیں۔ حیرت ہے کہ عصری علوم تو دور خواتین میں دینی و شرعی علوم میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا رجحان ابھی تک زور نہیں پکڑسکا۔

تعلیم نسواں: گریزو فرار کے حیلے

تعلیم یافتہ اور شائستہ سمجھے جانے والے مسلم حلقوں میں ا عتدال و توازن جیسے الفاظ کا کا فی چرچا رہتا ہے۔ ’امت وسط‘ ہونے کی بات انتہائی زور و شور سے دہرائی جاتی ہے لیکن اس بلند مقام تک پہنچا کیسے جائے اس کا کوئی قابل عمل نسخہ ہمارے پاس نہیں ۔کیا اسے اعتدال و توازن کی عمدہ مثال کہیں گے کہ ملت کے شائستہ سمجھے جانے والے گھرانوں میں زیادہ تر عورتیں محض پابند صوم و صلوٰۃ،امور خانہ داری میں ماہر، آٹھواں پاس یعنی خط و کتابت کے لائق ، ناظرہ قرآن پڑھی ہوں اور ان کے مرد عالم فاضل ،دقیقہ سنج اور ہمہ گیر صلاحیت کے مالک ہوں ۔حتیٰ کہ مرد علما خود تو بیضاوی، قدوری کا درس دیتے ہوں اور ان کی بیویاں بہشتی زیور، جنت کی کنجی ، دوزخ کا کھٹکا جیسی کتابوں تک ہی محدود ہوں؟
کیا وجہ ہے کہ بڑے بڑے سند یافتہ حضرات کے یہاں خواتین صرف ہائی اسکول پاس ہوتی ہیں ؟غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض عمل کی کوتاہی نہیں بلکہ یہ صورتحال تعلیم نسواں کے متعلق ایک ایسے نظریے کی عملی تفسیر ہے جس کے تحت عورتوں کواتنا ہی پڑھایا جاتا ہے جتنے کی ’ضرورت‘ ہے۔ اورخواتین کی ضرورت بس ’امور خانہ ‘تک محدود ہے ۔چہار دیواری سے باہر کیا ہو رہا ہے نہ اسے جاننے کی ضرورت ہے نہ اس میں پڑنے کی ۔ دنیا میں کیسے کیسے علمی و معلوماتی اور نظریاتی انقلابات آ رہے ہیں، ان کی سمجھ رکھنا اور ان کا سامنا کرنا صرف اور صرف مرد کا کام ہے۔ ناقابل انکار طور پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ گھر کو صرف عورت دیکھے گی اور گھر سے باہر صرف مرد ۔ عورت کا دائرہ عمل صرف اور صرف اس کا گھر ہے۔ یہیں پر اس کی ڈولی آئی تھی اور یہیں سے اس کا جنازہ اٹھے گا۔ یہی اس کی جنت ہے اور یہی اس کی معراج۔
یہی وجہ ہے کہ مسلمان عورتوں کے لیے عصری علوم کے دروازے از روئے شریعت بند سمجھ لیے گئے ہیں اوراعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کا حصول ان کے لیے آپ سے آپ شجر ممنوعہ قرارپا گیا ہے۔ چونکہ عورتوں کا دائرہ کار مردوں سے الگ مان لیا گیا ہے اس لیے ان کی تعلیم و تربیت، اورمطالعے کے موضوعات و مضامین بھی مردوں سے الگ قرار پاتے ہیں ۔ قدامت پرستوں کی طرف سے یہ مشورہ عرصۂدراز سے دیا جا رہا ہے کہ خواتین سماجیات، سیاسیات، نفسیات ،جغرافیہ ، طبیعیات ، حیاتیات وغیرہ مضامین محض جنرل نالج کے لیے پڑھیں اور ہوم سائنس پر خصوصی توجہ دیں۔ الغرض ہر طرح کوشش یہی کی جاتی ہے کہ آدھی دنیا کی زندگی باورچی خانے ہی تک محدود ہو۔ دوسرے لفظوں میں خواتین امور خانہ داری کو چھوڑ کر امور مملکت میں ہرگزدخیل نہ ہونے پائیں۔
حالانکہ ایسے لوگ موجود ہیں جو مسلم لڑکیوں کو مختلف اسلامی اداروں میں اعلیٰ دینی تعلیم و تربیت حاصل کرنے دینے میں حرج نہیں سمجھتے۔ اور ایسے لوگ بھی ہیں جو خواتین کوعصری اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکتے۔مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔اور ان کے سامنے بھی یہی مسئلہ ہے کہ آخر اعلیٰ تعلیم کے بعد عورتوں کامشغلہ اورروزمرہ کا معمول کیا ہوگا ؟ اس مسئلے کے حل کے لیے یہ مان لیا گیا ہے کہ خواتین کم سے کم اسکول کالج میں توپڑھا سکتی ہیں ۔اس کے سوا دوسرے باعزت پیشے ہمیں اس لیے نظر نہیں آتے کہ ہم نے خواتین کو لے کرچند ایسے نظریے اورسپنے پال رکھے ہیں جو ہر وقت سر پر سوار رہتے ہیں اور کوئی معقول بات سوچنے نہیں دیتے۔

امورِخانہ داری 236 امورِ مملکت؟

کچھ سخت گیر عناصر عورتوں کا امور خانہ داری کو چھوڑ کر امور مملکت میں دخل دینا قیامت کی نشانی سمجھتے ہیں۔ عورتوں کا سیاسی و معاشی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیناان کے نزدیک کفر سے کم نہیں ۔ان کی نظر میں عورت کا مصرف بس یہی ہے کہ ’’شادی بیاہ ہو،بچے ہوں، نماز قرآن پڑھے، بچو ں کی تربیت کرے، کھانا پکائے دسترخوان سجائے ، کپڑے دھوئے یا واشنگ مشین میں ڈال دے، استری کرے ، گل بوٹے بنائے، مہندی کے ڈیزائن سیکھے، ماہنامے واہنامے پڑھے، اس سے آگے مسلم معاشرے میں عورتوں کا آخر کیا رول ہونا چاہیے؟‘‘ ان کی زبان یہ کہتے نہیں تھکتی کہ ’’مغرب نے عورت سے اس کی مامتا چھین لی ہے اور اسے بازار کی شئے بنا دیا ہے... اب عورتوں کو ماں کے رول میں لوٹنا ہوگا تاکہ وہ مربی کی حیثیت سے اپنی اولاد کی تربیت کرے۔‘‘ماں کے رول میں لوٹنا یا نہ لوٹنا مغرب کا مسئلہ ہے، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ خواتین اپنے اوپر عائد ہونے والی فطری ذمے داریوں کو بہ حسن و خوبی انجام دیتے ہوئے کس طرح ہندوستانی معاشرے میں مثالی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ایسا کردار جس سے کہ ان کا نسوانی وقار بھی باقی رہے اور وہ گھر سے باہر کی دنیا میں بھی انقلاب لا سکیں۔ ہر صورت میں ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ امورِ خانہ داری اور امورِ مملکت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

دائرہ کارکی بحث یااستحصال کی تکنیک ؟ 

عورت کو مربی کی حیثیت میں پیش کرنے والے حضرات کے نزدیک مسلم خاتون کی مربیانہ حیثیت کہاں سے شروع ہوکرکس جگہ ختم ہوتی ہے، اس کے متعلق کوئی واضح رہنمائی اب تک موجود نہیں ہے۔ عورت کو مربیانہ حیثیت میں پیش کرنے والے حضرات کے نزدیک مربی کا ایسا بندھا ٹکا فارمولا ہے جس میں ’امور خانہ داری‘ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وہ سب سے پہلے عورت اور مرد کے دائرہ کار کو اسلام کے ترجمان بن کر طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے گھروں میں عورتوں کا استحصال جاری رہ سکے۔کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو عورتوں پر کھانا بنانے اورکپڑے لتے دھونے کو نماز کی طرح فرض کر دیتے ہیں۔ وہ شریک حیات کو ایک دایہ کے جملہ فرائض سونپ کریہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے خواتین کو ان کے فطری دائرہ کار میں رکھا ہے اور ان کے لیے باعزت طریقے سے زندگی بسر کرنے کا موقع عطا کیا ہے۔
خواتین کا دائرہ کار کولہو کے بیل اور آٹا پیسنے کی چکی جتنا نہیں ہو سکتا۔ ملت اسلامیہ ہند کے علما و مفکرین کااس بات کو بہ تکرار کہتے چلے جانا کہ’ اللہ تعالیٰ نے خواتین پر معاشی تگ و دو کا بوجھ نہیں ڈالا اور یہ ذمے داری مردوں پر ہے‘ در اصل ایک ایسا تکنیکی بیان ہے جس سے خواتین عمر بھر مردوں کی دست نگر اور ان کی محتاج بنی رہتی ہیں۔ان کے اندر امور خانہ داری کے سواکوئی دوسری فنی مہارت یا علمی صلاحیت حاصل کرنے کی تمنا نہیں جاگتی۔شوہر اوربال بچوں کے لیے دو وقت کھانا بنانے اوران کے کپڑے لتے دھونے ، پریس کرنے جیسے چھوٹے موٹے کاموں ہی میں ان کا سارا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ انہیں چھوٹے موٹے کاموں کو خواتین کی عظیم ترین ذمے داری قرار دے کراسلام کی آڑ میں ان سے خدمت لینے کا جواز پیداکیا جاتا ہے۔ حالانکہ کھانا بنانا اور کپڑے لتے دھونا زوجہ پرفرض نہیں ہے اورنہ کسی طور یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ مردوں کو اللہ تعا لیٰ نے امور خانہ داری( یعنی کھانا بنانا،برتن دھونا ، سینا پروناوغیرہ)کی انجام دہی سے رخصت دے دی ہے۔ یہ بھی کوئی شرعی حکم نہیں کہ مردوں کو کھانا نہیں بنانا چاہیے یاخواتین پر معاشی تگ و دو حرام ہے۔زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواتین کے مقابلے اللہ تعالیٰ نے مردوں کوزیادہ آسانیاں اورسہولتیں دے رکھی ہیں ۔ باہمی سمجھوتے اور افہام و تفہیم کے ذریعے مرد اور عورت گھریلو کاموں میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ان سہولتوں سے فائدہ اٹھانے دینے کے بجائے خواتین کے روزمرہ کے مروجہ معمول ہی کو من جانب اللہ قرار دینا خواہش نفس کی پیروی کے سوا کچھ نہیں۔واضح رہے کہ مردوں کا پورا متوسط طبقہ آٹھ گھنٹے آفس کی ڈیوٹی بجا کربقیہ اوقات میں چین کی بنسی بجاتا ہے جو کسی بھی طرح مناسب نہیں معلوم ہوتا۔

خواتین اور ورک کلچر

جب ایک بار یہ معلوم ہو گیا کہ عورتیں معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتی ہیں تو پھر اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہی ان کا دائرہ کار طے کیا جانا چاہیے۔اور دائرہ کار طے کرنے کا اختیار صرف مردوں ہی کو نہیں ہے۔دین اور شریعت کی آڑ میں مردوں کی قوامیت کا حوالہ دے کر عورتوں کو یہ باور کراناکہ انہیں معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ،دراصل انہیں شوہروں پر نامناسب حد تک انحصار کرنے کی ترغیب دینا ہے ۔ یہاں مسئلہ صرف عورتوں کے گذارے اور نان و نفقہ کا نہیں بلکہ ان کے وقار کا بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ جس خاتون کو سینے پرونے اور گل بوٹے بنانے کے علاوہ اور کچھ بھی نہ آتا ہو وہ اپنے شوہر کے مرنے کے بعد یا تو وراثت میں ملنے والا سرمایہ خرچ کرے گی یا بیٹے کے آگے ہاتھ پھیلائے گی۔ بیٹے پر حق ضرور ہوتا ہے مگراپنے ذریعے حاصل کیے گئے سرمایے کی بات کچھ اور ہے۔ کیا اسلام یہی چاہتا ہے کہ خواتین زندگی بھر اِس اُس کے سامنے محض اپنا حق مانگتی پھریں اور مر د ’’اَن داتا ‘‘ بنے دنیا کی زمینوں کے بیشتر حصے پر قابض رہیں، تجارت اور صنعت و حرفت پر انہیں کا غلبہ ہو ؟ بازارِ حصص ان ہی کی مٹھی میں ہو، کل کارخانے ، کھیت کھلیان، موٹر گاڑیاں ،بنگلے وغیرہ صرف مردوں کے نام ہوں اور خواتین کو اس تمام دنیوی مال و متاع میں سے کچھ ملے بھی تو صرف اپنے اقربا کی موت کے بعد؟
پس عورتوں کا امپاورمنٹ انہیں معاشی طورپر طاقتور بنائے بغیر نہیں ہوسکتا۔بار بار یہ دہرانے کی ضرورت ہے کہ متوسط طبقے کی ایک خاتون کی معاشی ضروریات محض حق مہر پالینے اور نان و نفقہ حاصل کر لینے سے پوری نہیں ہو جاتیں۔ اگر شوہر تنگدست نہ بھی ہو اور بیوی کی تمام فرمائشیں پوری کر سکتا ہوتب بھی زوجہ کو معاشی تگ و دو کرنے سے روک کر اسے کاہلی اور بے عملی کی حالت میں مبتلا کرنے کا کوئی معقول جواز نہیں ۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جس میں شوہر اب بھی مجازی خداسمجھا جاتا ہے جس کی مٹھی میں عورت کی تقدیر ہوتی ہے۔ وہی اس کی پسند و ناپسندکو طے کرتا ہے ۔ وہی طے کرتا ہے کہ عورت کو کب مائکے جانا ہے اور کب نہیں جانا ۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں باہمی افہام و تفہیم سے طے کرنے کی ہیں لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ہمارے معاشرے میں ہوتا یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں مرد تو اپنی قوامیت کا واسطہ دے کر عورت کو اپنی اطاعت پر آمادہ کر لیتا ہے۔ مگر جب عورت اپنے حقوق پر اصرار کرے تو اس کوسر کشی اوربغاوت کے مترادف سمجھا جاتا ہے ۔ ایسا کرنے پر طلاق کے دو بول ،بول کر اس کی اوقات تک بتائی جا سکتی ہے ۔ان تمام حالات کے مد نظر اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ خواتین معاشی طورپرزیادہ سے زیادہ مضبوط ہوں ۔جب وہ معاشی طور پر استحکام حاصل کر لیں گی تو زوجین کے درمیان کے تنازعات طاقت سے نہیں بلکہ افہام و تفہیم سے حل ہوں گے اور فریقین کو بات چیت کی میز تک آنے کے لیے تیار ہونا ہی پڑے گا۔ ان امور پرمنصفانہ نقطہ نظرسے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین کے ساتھ برابری کا سلوک ہو اور وہ ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں مساویانہ طور پر حصہ لے سکیں۔
خواہ کسی بھی زاویے سے سوچا جائے خواتین کے تئیں ہمیں اپنے رویے کو ہی نہیں بلکہ اپنے نظریے کو بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔آئندہ زمانے کی خواتین کا کردارصرف گھر تک محدود نہیں رہ سکے گا بلکہ وہ سیاست و معیشت پر راست اثر انداز ہوں گی بلکہ ہو رہی ہیں۔میٹرو پالیٹن شہروں کی خواتین میں جو ورک کلچر پیدا ہو ا ہے وہ یقینانسوانیت کے شایان شان نہیں ۔ مگر اس کو بہانہ بنا کر بالذات ورک کلچر کو برا کہنا بھی صحیح نہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان خواتین کے لیے ایک متبادل ورک کلچر کی تشکیل کی جائے۔ انہیں روزگار سے لگایا جائے ۔
حالانکہ خواتین کے لیے روزگار کی بات کرنا ہمارے متوسط طبقے کی تہذیبی روایات میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ در اصل یہ اسلام نہیں بلکہ ہماری تہذیب اور ثقافت ہے جس نے آدھی دنیا کو عضو معطل اور بے سرو سامان بنا کر چھوڑ دیا ہے۔اس مائنڈسیٹ کو بدلا جانا چاہیے اور متوسط طبقے کی خواتین کے لیے ان کے شایان شان ذریعۂ معاش اور ورک کلچر پیدا کرنے کی طرف توجہ کی جانی چاہیے۔خواتین میں ورک کلچر نہ ہونے کی وجہ سے ان کے وقت کا جتنا بڑا حصہ بد نظمی کے سبب ضائع ہو جاتا ہے اس سے اگر فائدہ اٹھایا جائے تو انقلابی نوعیت کے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔
...

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *